Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسلمانوں کے لیے اعلان عام کے طور پر صوبوں کے باشندگان کے نام مفصل خطوط ارسال کیے

  علی محمد الصلابی

’’اما بعد! میں ہر موسمِ حج میں امراء و عمال کو طلب کرتا ہوں، اور جب سے میں نے زمام خلافت سنبھالی ہے امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی مکمل آزادی و اختیار دے رکھا ہے۔ میرے یا میرے کسی عامل کے خلاف کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے، اس کو پورا کرتا ہوں، رعیت سے قبل میرے اور میرے اہل و عیال کے لیے کوئی حق نہیں، سب کچھ رعایا کے لیے وقف ہے۔ مجھے اہلِ مدینہ نے یہ بات پہنچائی ہے کہ کچھ لوگوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور مارا جاتا ہے، لہٰذا جس کو بھی پردے میں مارا گیا ہو یا برا بھلا کہا گیا ہو اور جس کے پاس بھی اس طرح کا دعویٰ ہو وہ موسم حج میں مجھ سے ملے اور اپنا حق لے، خواہ اس کا تعلق مجھ سے ہو یا میرے کسی عامل سے ہو یا پھر صدقہ (معاف) کر دے اللہ تعالیٰ صدقہ (معاف) کرنے والوں کو بدلہ عطا کرتا ہے۔‘‘

جب صوبوں میں عوام کو یہ خط سنایا گیا تو لوگ رونے لگے اور حضرت عثمان غنیؓ کے لیے دعائیں کرنے لگے اور کہا: امت میں شر ظاہر ہونے لگا ہے۔ (تاریخ الطبری: جلد 1 صفحہ 349)

کیا دنیا بیاسی سالہ بوڑھے شخص سے اس سے زیادہ بلند اور اعلیٰ عزم و حوصلہ کی بات سننا چاہتی ہے جب کہ وہ اس عمر میں مظالم کی تحقیق و جائزہ سے متعلق اس قوت و جوش سے باتیں کر رہا ہے؟ یا لوگ اس عدل و انصاف سے اعلیٰ و ارفع عدل و انصاف چاہتے ہیں جب کہ امیر المؤمنینؓ کا ذاتی حق بھی رعیت لیے وقف ہے، جب تک کہ اللہ کا حق قائم ہے اور اس کی حدود سے رعایت کی جاتی ہے۔ ہاں یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ملے گا، انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا کہ امانت دار تحقیقاتی کمیٹیاں لوگوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ارسال کیں، اور صوبوں کے باشندگان کے نام خطوط ارسال کیے کہ وہ موسم حج میں آئیں اور اگر ان کے پاس کوئی شکایت ہے تو حجاج کے مجمع میں خلیفہ کے سامنے رکھیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے صرف انہی سب باتوں پر اکتفا نہ کیا بلکہ صوبوں کے گورنروں اور والیان کے نام فرمان جاری کیا کہ وہ لوگوں کی شکایات سنیں اور اگر مظالم ہیں تو اس کو رفع کریں۔ اور پھر امیر المؤمنینؓ لوگوں کی افواہوں سے متعلق گورنروں سے دریافت کرتے ہیں اور پختہ و درست اور صحیح رائے و مشورہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

(ایضاً)