حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ (متوفی 774ھ) - ردِ رافضیت | دفاع…

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ (متوفی 774ھ)

  محمد ظفر اقبال

6: حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ (متوفی 774ھ)

مُعَاوِیَۃُ بنُ أَبِی سُفیَانَ خَالُ المُؤمِنِینَ، وَ کَاتِبُ وَحیِ رَبِّ العَالَمِینَ وَالمَقصُودُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ کَانَ یَکتُبُ الوَحیَ لِرَسُولِ اللّٰہِﷺ مَعَ غَیرِہِ مِن کُتَّابِ الوَحیِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنھم

(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ 20، 21 سنۃ 41ھ فضل معاویہ بن ابی سفیان)

ترجمہ: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما مؤمنین کے ماموں اور کاتبِ وحی باری تعالیٰ ہیں اور مقصد یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ دیگر کاتبانِ وحی کی معیت میں سرور دو عالمﷺ پر نازل شدہ وحی کی کتابت کرتے تھے۔ 

نیز: والمقصود منه ان معاویہ کان من جملۃ الکتاب بین یدی رسول اللہﷺ الذین یکتبون الوحی

(ایضاً: جلد8 صفحہ119 ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما وذکر شئی من ایامہ الخ)

ترجمہ: مقصود یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ کے جملہ کاتبین میں سے تھے جو کہ کتابتِ وحی کا فریضہ انجام دیتے تھے۔