فسادیوں کی کوفہ واپسی اور پھر الجزیرہ کی طرف جلا وطنی
علی محمد الصلابیکوفہ میں سیدنا سعید بن العاصؓ کو امیر المؤمنین عثمان بن عفانؓ نے لکھا اور ان لوگوں کو آپ نے اپنے پاس بلا لیا۔ جب یہ لوگ کوفہ واپس پہنچے تو ان کی زبانیں بے لگام ہو گئیں۔ حضرت سعیدؓ نے امیر المؤمنین عثمانؓ کو ان کی شکایت کرتے ہوئے تحریر بھیجی۔
حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے جواب میں لکھا کہ ان لوگوں کو حمص میں عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دو جو حمص کے امیر تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 327)
یہ حضرات جب عبدالرحمٰن بن خالد رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں پاس طلب کیا، ان سے سخت لہجہ میں گفتگو کی اور گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: اے شیطان کے آلہ کارو! تمھیں کوئی خوش آمدید نہیں۔ شیطان ناکام محور کی طرف لوٹ گیا ہے، اور تم اب تک باطل میں پھرتے ہو، اللہ عبدالرحمٰن کو ناکام کرے اگر وہ تمھیں ادب نہ سکھا سکے اور تمھیں ذلیل نہ کر سکے۔ لوگو میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو، عرب ہو یا عجم؟ تم مجھ سے ویسی باتیں نہ کرنا جیسی تم سعید و معاویہ سے کرتے تھے۔ میں حضرت خالد بن ولید کا بیٹا ہوں، میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس کو مسائل و مشکلات نے عادی بنا دیا تھا، میں ارتداد کی تحریک کو مٹانے والے کا بیٹا ہوں، اللہ کی قسم میں تمھیں ذلیل کر کے رہوں گا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن خالد رضی اللہ عنہما نے ان کو ایک مہینہ اپنے پاس رکھا، اور ان کے ساتھ انتہائی شدت اور سختی کا معاملہ کیا، اور سعید و معاویہ رضی اللہ عنہما کی طرح ان کے ساتھ نرم نہ پڑے، جب آپ پیدل چلتے یہ بھی پیدل چلتے اور جب آپ سوار ہوتے تو ان کو بھی سوار کرتے، اور جب کسی جنگ میں شرکت کرتے تو یہ بھی شریک ہوتے۔ ان کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع نہ چھوڑتے۔ اور جب ان کے لیڈر صعصعہ بن صوحان سے ملتے تو فرماتے اے گناہوں کی اولاد! کیا تجھے معلوم ہے کہ جس کو خیر نہ سدھار سکے اس کو شر سدھار دیتا ہے، اور جس کو نرمی نہ سدھار سکے اس کو سختی سدھار دیتی ہے، اور ان سے فرماتے: تم مجھے ویسا جواب کیوں نہیں دیتے جیسا جواب تم کوفہ میں سعید کو اور شام میں معاویہ کو دیتے تھے؟ تم اس طرح مجھ سے مخاطب کیوں نہیں ہوتے جس طرح تم ان دونوں سے مخاطب ہوتے تھے؟
حضرت عبدالرحمٰن بن خالد رضی اللہ عنہما کا اسلوب ان کے لیے مفید ثابت ہوا، آپ کی شدت و قساوت نے ان کوگونگا کر دیا، انہوں نے ان کے سامنے توبہ و ندامت ظاہر کی اور اقرار کیا کہ ہم اللہ سے توبہ و استغفار کرتے ہیں، آپ ہم سے درگزر کیجیے، اللہ آپ سے درگزر کرے۔ آپ ہمیں معاف کیجیے، اللہ آپ کو معاف کرے۔ یہ لوگ الجزیرہ میں عبدالرحمٰن بن خالد رضی اللہ عنہما کے پاس رہے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک لیڈر اشترنخعی کو امیر المؤمنین عثمانؓ کے پاس روانہ کیا تاکہ ان کی توبہ و اصلاح اور فتنہ سے رجوع کرنے کی خبر آپ کو دے دیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اشتر سے کہا: تم اور تمہارے ساتھی اب جہاں چاہو رہ سکتے ہو، میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ اشتر نے کہا: ہم عبدالرحمٰن بن خالدؓ کے پاس ہی رہنا چاہتے ہیں اور آپ کے سامنے عبدالرحمٰن کے فضائل بیان کیے، یہ لوگ ایک مدت تک الجزیرہ میں عبدالرحمٰن بن خالد رضی اللہ عنہما کے پاس رہے اور توبہ و استقامت اور اصلاح ظاہر کی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 327)
33ھ میں کوفہ میں فسادی ایک وقت کے لیے خاموش ہو گئے اور یہ اس وقت ہوا تھا جب اس فتنہ کے سرغنہ حضرات کو معاویہؓ کی طرف روانہ کر دیا گیا تھا، چنانچہ فسادیوں نے اسی میں مصلحت و عافیت سمجھی کہ ایک وقت تک کے لیے خاموشی اختیار کی جائے۔ (الخلفاء الراشدون: صفحہ134)