دوسری بیٹھک - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسری بیٹھک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

1: اسلام میں انہیں قدامت و سبقت حاصل ہے، اور وہ شامی حدود کے محافظ اپنے بھائی یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے بعد سے رہے ہیں۔

2: مسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو آپ سے افضل ہیں، شرف و منزلت میں آگے ہیں اور سبقت و قدامت اور اسلامی خدمات پیش کرنے میں اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں، لیکن حضرت معاویہؓ اپنے آپ کو شام کی عظیم اسلامی حدود کی حفاظت کے لیے زیادہ قوی اور موزوں سمجھتے ہیں، چنانچہ جب سے وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے اس کے انتظام و انصرام کو پوری قوت کے ساتھ بڑی اچھی طرح سنبھالا اور لوگوں کی نفسیات کو سمجھا یہاں تک کہ لوگوں نے حضرت معاویہؓ کو اپنا محبوب بنا لیا۔

3: سیدنا عمر بن خطابؓ نے گورنروں اور افسران سے متعلق انتہائی حساس میزان اور کافی دقیق معیار قائم کر رکھا تھا، آپ کو اللہ کے حق کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ ہوتی تھی۔ اگر حضرت عمر فاروقؓ حضرت معاویہؓ کے اندر کوئی انحراف یا کوتاہی و کمزوری پاتے تو معزول کر دیتے، ایک دن بھی اس منصب پر باقی نہ رکھتے۔ لیکن حضرت معاویہؓ نے ان کے پورے دور خلافت میں کام کیا اور رسول اللہﷺ نے بھی بعض اعمال پر حضرت معاویہؓ کو مقرر کیا، اور اپنا کاتب رکھا، پھر رسول اللہﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت معاویہؓ کو ولایت سونپی اور آپ کی صلاحیت و قابلیت پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔

4: عمل سے معزولی کے لیے ایسے اسباب کا پایا جانا ضروری ہے جو معزولی کا موجب ہوں، ان داعیان فتنہ و فساد کے پاس کیا حجت و دلیل تھی جس کی بنیاد پر معزولی اختیار کی جاتی؟

5: امارت کے اندر معزول کرنے اور کسی کو باقی رکھنے کا اختیار ان مدعیان کو نہیں بلکہ یہ امیر المؤمنین عثمانؓ کا حق ہے، پس کسی کی تقرری اور معزولی آپ کا حق ہے۔

6: جس دن امیر المؤمنین عثمانؓ انھیں معزول کرنے کا فیصلہ کریں گے معاویہ کو پورا یقین ہے کہ ان کا حکم خیر ہی ہو گا اس پر کوئی کلام نہیں کیوں کہ یہ مامور امیر ہیں اور وہ خلیفۃ المسلمین ہیں۔

(معاویۃ بن ابی سفیان صحابی کبیر و ملک مجاہد: صفحہ 114ـ117)

اب بیٹھک کا اختتام انتہائی افسوس کن اور المناک رہا، حضرت معاویہؓ نے انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور شیطانی گڑھوں اور پھسلنے کے مقامات سے آگاہ کیا، اور امیر کی نافرمانی اور اختلاف سے روکا، اور خواہشاتِ نفس کی پیروی اور غرور سے منع کیا۔ اس نصیحت و خیر خواہی کے جواب میں انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ ان پر ٹوٹ پڑے اور داڑھی و سر پکڑ لیا۔ اس وقت آپ نے ان کو ڈانٹا اور ان سے تہدید آمیز سخت بات کی۔ آپ سمجھ گئے کہ ان لوگوں کا حق کو قبول کرنا محال ہے، لہٰذا ان کے سلسلہ میں امیر المؤمنین عثمانؓ کو مطلع کرنا اور ان کی حقیقت اور خطرات کو واضح کرنا ضروری تھا تاکہ امیر المؤمنین ان سے متعلق دوسری رائے قائم کریں۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: الغضبان: صفحہ 117۔118)


صفحہ 2 از 2