سنی مناظر کی طرف سے اہم نکات جو دنیائے شیعیت پر بھاری حجت…

سنی مناظر کی طرف سے اہم نکات جو دنیائے شیعیت پر بھاری حجت ہیں!!(قسط 28)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

گفتگو کا خلاصہ اور نتیجے کا پہلا حصہ دوستوں کی خدمت میں، امید ہے انصاف پسندی سے کام لیں گے۔

اور مذہی تعصبات کی زنجیر سے اپنے آپ کو آزاد کر کے مطالعہ فرمائیں گے۔ دوسرا حصہ بھی انشاء اللہ بہت جلد...

            ایک طویل مناظرے کی جھلکیاں    { پہلا حصہ }

تین گمان ایک یقین۔ موضوع :حق زہرا سلام اللہ علیہا .

مناظرین: شیعہ  محمد دلشاد/سنی   ممتاز قریشی

مدعی : شیعہ مناظر/ مدعی علیہ: سنی مناظر

شیعہ مناظر کا  ادعا :الف : حضرت  فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی طرف سے خلفاء سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا۔ مطالبہ منظور نہ ہوا تو ناراض , غضبناک ہونا اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے جانا ،نماز جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دینا ،مولا  علی علیہ السلام  کی طرف سے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا،  کی مکمل حمایت ۔ یہ ساری باتیں صحیحین میں ہیں۔

ب  : یہ باتیں حقیقت پر مبنی ہیں  اور جناب فاطمہ (س) ،خلفاء کو اپنے شرعی حق سے محروم  کرنے والے سمجھتی تھیں اور اسی نظریے کے ساتھ دنیا سے چلی گئی۔ لہذا یہ سارے واقعات رسول اللہ ﷺ کے بعد رونما ہوئے ہیں۔ یہ سب جھوٹی خبر نہیں ہے ،کوئی ان کو کسی راوی کی رائے پر محمل کرکے حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔

ج   : جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا  اور مولا  علی علیہ السلام  کا موقف حق پر مبنی  تھا۔

وعدہ :ایک ایک مرحلے  پر  ترتیب سے علمی گفتگو ۔

مدعی علیہ( سنی مناظر ):ناراضگی نہیں ہوئی تھی خلیفہ کی طرف سے حدیث (نحن  معاشر الانبیاء ) سے استدلال کے بعد حضرت فاطمہ ع  خاموش ہوگئی تھیں اور معاملہ اسی وقت ختم ہوا تھا۔

 شیعہ مناظر:آپ کی باتیں آپ کی صحیحین کی واضح روایت کے خلاف ہیں ۔

دیکھیں بخاری کی حدیث

3093 - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ » . فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ . قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ ، وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا .............{ صحيح البخارى  57 - فرض الخمس ۔ باب ۱ باب فرض الخمس  3093}

اب یہ تو صحیح سند روایت کا حصہ ہے اور سب کچھ واضح ہے.

 سنی مناظر :ایسا نہیں ہے ،یہ باتیں تو صحیحین میں ہیں لیکن یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، ایک راوی کا گمان ہے جو ہمارے لیے حجت نہیں ہے۔

دلیل الف: ناراضگی یا الفاظ سے ثابت ہوتی ہے یا چہرے سے۔سیدہ کے الفاظ بھی نہیں اور راوی امام زہری اس واقعے کے عینی شاہد نہیں لہٰذا سیدہ کا چہرہ تو اس نے نہیں دیکھا۔امام زہری کے علاوہ کسی اور طریق سے یہ ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ اس کا ادراج اور گمان ہے۔جیساکہ امام بیہقی نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔

ب:  اس پر اور بھی شواہد موجود ہیں۔صحیح نظریہ دوسرے شواہد کو سامنے رکھ کر  ہی حاصل کیا جاتا  ہے۔

ج : راوی کا گمان حجت نہیں ہے ۔

د : کیا جناب سیدہ، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی مخالفت کرسکتی ہیں ؟؟

فدک کا فیصلہ تو خود رسول پاک ﷺ کر کے گئے تھے،شیعہ فرمان رسول ﷺ کا ذکر کیوں نہیں کرتے ؟ آدھا سچ ،آدھا جھوٹ کیوں ؟ یہ عوام کے لئے دھوکہ دہی ہے۔

ھ :  شیعوں کے ہاں بھی اسی قسم کی حدیث ہے ۔شیعہ تو عورت کے لیے  زمین کی وراثت کے قائل ہی نہیں ان کے ہاں اس سلسلے میں صحیح سند احادیث موجود ہیں۔

لہذا اھل سنت کا نظریہ ثابت ہوا۔


صفحہ 2 از 2