خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علامہ زاہد الراشدی

صفحہ 6 از 7
صوفیاء فرماتے ہیں کہ دیکھو، یہ محبت کا رشتہ کیسا رشتہ ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب سیدہ فاطمہؓ کو اپنی وفات کی خبر دی تو آپؓ رو پڑیں لیکن جب ان کی وفات کی خبر دی تو اس پر خوش ہوگئیں۔ اب کسی کو وفات کی خبر دی جائے تو اس کا کیا رد عمل ہونا چاہیئے۔ یہ محبت کے رشتے ہوتے ہیں کہ جن میں زندگی و موت کا معاملہ بے معنیٰ ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو ان کی موت کی خبر دی تو وہ خوش ہوگئیں اور ہنسنے لگیں کہ والد سے جدائی کے دن زیادہ نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سیدہ فاطمہؓ تقریباً چھ مہینے حیات رہیں۔ رسول اللہﷺ کی سب سے چھوٹی، سب سے چہیتی اور سب سے لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہؓ تھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا فاطمہؓ بضعۃ منی فاطمہؓ میرے دل کا ٹکڑا ہے۔
یہ فطری بات ہے کہ انسان کو کچھ باتیں طبعی طور پر ناگوار گزرتی ہیں۔ ابوجہل کی بیٹی مسلمان ہوگئی تھی اور صحابیہ بن کر مدینہ منورہ آگئی تھی۔ سیدنا علیؓ کے دل میں اس کے ساتھ نکاح کا خیال آیا اور یہ کوئی ایسی بڑی بات بھی نہیں تھی کہ عرب میں تعددِ ازدواج کا عام رواج تھا۔ رسول اللہﷺ کو خبر ہوئی تو حضورﷺ نے اس کو پسند نہ فرمایا جس پر سیدنا علیؓ نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ حالانکہ وہ صحابیہ تھی لیکن یہ حضورﷺ کا سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ طبعی رشتہ تھا کہ حضورﷺ نے اس کو گوارا نہ کیا۔ سیدہ فاطمہؓ بہت با حیا تھیں۔ ایک مرتبہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے کہا کہ جب ہم ہجرت کر کے حبشہ گئے تو وہاں میں نے جنازے کا ایک طریقہ دیکھا تھا کیا میں وہ بتاؤں آپؓ کو؟ فرمایا، ہاں بتاؤ۔ سیدہ اسماءؓ نے طریقہ بتایا کہ وہاں کے لوگ میت کی چارپائی کے دونوں طرف درخت کی ٹہنیاں پھنسا کر اس کا محراب بناتے تھے اور پھر اس کے اوپر پردہ ڈال دیتے تھے۔ اس پر سیدہ فاطمہؓ نے کہا کہ میرے جنازے پر ایسا ہی کرنا۔
سیدہ فاطمہؓ کے تین بیٹے تھے سیدنا حسنؓ، سیدنا حسینؓ اور سیدنا محسنؓ۔ رسول اللہﷺ کی گود میں جن بچوں نے پرورش پائی ان میں سیدہ امامہؓ، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ دوپہر کو آرام فرما رہے تھے کہ سیدنا حسنؓ آپﷺ کے پیٹ پر چڑھ کر بیٹھے اور پیشاب کر دیا، حضورﷺ نے اٹھ کر کپڑے پاک کرنے کا انتظام کیا۔ رسول اللہﷺ ان سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ بنو تمیم کے سردار سیدنا اقرع بن حابسؓ پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے غالباً سیدنا حسنؓ یا سیدنا حسینؓ کو بوسہ دیا۔ سیدنا اقرعؓ نے حیرانگی سے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ میرے دس بچے ہیں، میں نے تو کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ایک روایت کے مطابق فرمایا کہ خدا نے اگر تیرے سینے میں پتھر کا دل رکھ دیا ہو تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ ایک دفعہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسنؓ جو سامنے سے گزر رہے تھے، ٹھوکر کھا کر گر پڑے۔ حضورﷺ نے دیکھا تو آپﷺ سے رہا نہ گیا، آپﷺ منبر سے اتر کر گئے، سیدنا حسنؓ کو اٹھا کر اپنے ساتھ منبر پر لائے اور پھر اسی طرح خطبہ ارشاد فرمانا شروع کر دیا۔ پھر یہ پیشین گوئی فرمائی ان ابنی ھذا سیدًا وسیصلح اللہ بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین۔
ترجمہ: کہ یہ میرا بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا۔
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ
آپﷺ کے آخری بیٹے سیدنا ابراہیمؓ سیدہ ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے تھے۔ بعض روایات میں ایک سال اور بعض روایات میں دو سال کا ذکر آتا ہے کہ اِس عمر میں ان کا انتقال ہوگیا تھا، حضورﷺ ان کی وفات پر بہت غمگین ہوئے، آپﷺ نے فرمایا انّا بفراقک یا ابراھیم لمحزونون۔ 
ترجمہ: اے ابراہیمؓ! ہم تمہاری جدائی پر بہت غمزدہ ہیں۔ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ایک صحابی نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ آپ ہمیں رونے سے منع فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ زبان کے رونے سے منع کرتا ہوں آنکھ کا رونا تو فطری ہے۔ زبان کا رونا منع ہے یعنی شکوہ کرنا اور بین کرنا وغیرہ لیکن جب آدمی غمگین ہو تو آنکھوں سے آنسو بہتے ہی ہیں۔
نبی کریمﷺ کے متعلقین:
حضورﷺ کے اہلِ خاندان کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی تھے جو گھر کے افراد سمجھے جاتے تھے۔ دو تین شخصیات ایسی تھیں کہ جنہیں باہر سے آنے والا گھر کے افراد ہی سمجھتا تھا۔
سیدنا بلالؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت سے لے کر حضورﷺ کے وصال تک، رسول اللہﷺ کے گھر کے کام کاج میری ذمہ داری ہوا کرتے تھے۔ کوئی رقم آتی تو گھر کے خرچ اور گھر کی ضروریات کے لیے میرے حوالے ہو جاتی تھی، گھر کے متعلق کوئی بھی کام ہوتا حضورﷺ مجھ سے کہتے تھے کہ بلال! فلاں فلاں کام کرنا ہے۔
دوسرے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ تھے جن کے پاس حضورﷺ کی مسواک اور بچھونا وغیرہ ہوتا تھا۔ حضورﷺ کے لیے قضائے حاجت یا وضو کے پانی وغیرہ کا بندوبست کرنا، یہ ان کا کام تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کا تو لقب ہی پڑ گیا تھا صاحب الوسادۃ کہ یہ حضورﷺ کے بچھونے والے ہیں۔ مدینہ منورہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ حضورﷺ کے ذاتی خادم کی ذمہ داری نبھاتے تھے۔
تیسرے آدمی سیدنا انس بن مالکؓ تھے جو حضورﷺ کے ذاتی خادم تھے، ان کا قصہ بھی بہت عجیب ہے۔ ان کی والدہ محترمہ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگئی تھیں، ان کے خاوند کا نام مالک آتا ہے جو ان کے قبولِ اسلام سے ناراض ہو کر گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ سیدنا انسؓ کی والدہ نے پھر سیدنا ابوطلحہؓ سے نکاح کیا۔ حضورﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا انسؓ کی عمر دس سال تھی۔ والدہ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ ہمارے پاس اور تو کچھ نہیں ہے لیکن یہ بچہ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہے، پھر سیدنا انس بن مالکؓ آپﷺ کی خدمت میں رہے۔ گھر میں کئی باتوں کی ضرورت ہوتی ہے، کسی کو بلانا، کسی کو پیغام پہنچانا، گھر کی دیگر ضروریات وغیرہ۔ سیدنا انسؓ نے دس سال تک حضورﷺ کی خدمت کی، اس پر حضورﷺ نے سیدنا انسؓ کو ایک دعا دی جو کہ ایک مشہور دعا ہے۔ حضورﷺ نے دعا فرمائی: اللھم بارک لہ فی عمرہ و مالہ واکثر ولدہ۔
صفحہ 6 از 7