خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علامہ زاہد الراشدی

صفحہ 5 از 7
حضورﷺ کی دوسری بیٹی سیدہ رقیہؓ تھیں۔ سیدہ رقیہؓ کا نکاح حضورﷺ نے پہلے ابولہب کے بیٹے عتبہ سے کیا تھا، نکاح ہوگیا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ جب کہ حضورﷺ کی تیسری بیٹی امِ کلثومؓ ابولہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ کے نکاح میں تھیں۔ اس دوران دعوتِ اسلام کا سلسلہ شروع ہوگیا، ابولہب نے اس عداوت میں اعلان کر دیا کہ میں اپنے بیٹوں کی شادیاں حضورﷺ کی بیٹیوں سے نہیں کروں گا۔ پھر سیدہ رقیہؓ کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے ہوا ، سیدنا عثمانؓ جب ہجرت کر کے حبشہ گئے تو سیدہ رقیہؓ ان کے ساتھ تھیں، حبشہ میں ان کا بیٹا سیدنا عبداللہؓ پیدا ہوا۔ سیدنا عثمانؓ انہی کے حوالے سے ابوعبداللہ کہلاتے تھے۔ یہ حضورﷺ کا دوسرا نواسہ جب کہ سیدہ رقیہؓ کے بطن سے پہلا بیٹا تھا، چھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ایسے کہ مدینہ منورہ واپس آئے، ایک مرتبہ کھیل رہے تھے کہ کسی دوسرے بچے نے چھڑی ماری جو آنکھ میں لگ گئی، اسی زخم سے پھر وفات ہوگئی۔ سیدنا عثمانؓ مدینہ میں ہوتے ہوئے بھی بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدہ رقیہؓ گھر میں بیمار تھیں، سیدنا عثمانؓ کے علاوہ اور کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ حضورﷺ نے خود سیدنا عثمانؓ سے گھر پر رکنے کا کہا تھا کہ سیدہ رقیہؓ اٹھ نہیں سکتی، پانی نہیں پی سکتی، معذور ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمانؓ سیدہ رقیہؓ کی تیمار داری میں مدینہ منورہ میں رکے رہے اور پھر اسی حالت میں غزوہِ بدر کے بعد سیدہ رقیہؓ کا انتقال ہو گیا۔
حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا:
سیدہ رقیہؓ کے انتقال کے بعد حضورﷺ نے اپنی دوسری بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دی، اسی لیے سیدنا عثمانؓ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے یعنی دو نوروں والا۔ ایک بیٹی کے بعد دوسری بیٹی کو نکاح میں دینا، یہ داماد پر بے پناہ اعتماد کی علامت ہے۔ جب سیدہ امِ کلثومؓ بھی فوت ہوگئیں تو اس وقت حضورﷺ کی بیٹیوں میں صرف سیدہ فاطمہؓ زندہ تھیں اور سیدنا علیؓ کے نکاح میں تھیں۔ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ سے ایک جملہ فرمایا کہ اے عثمانؓ! اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں تیرے نکاح میں دیتا جاتا۔ سیدہ امِ کلثومؓ کی اولاد نہ تھی۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا:
حضورﷺ کے تیسرے داماد سیدنا علیؓ کرم تھے دامادوں میں سیدنا علیؓ حضورﷺ کے سب سے زیادہ چہیتے داماد تھے جبکہ بیٹیوں میں سیدہ فاطمہؓ حضورﷺ کی سب سے زیادہ چہیتی بیٹی تھیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ سب سے چھوٹا بچہ زیادہ لاڈلا ہوتا ہے، رسول اللہﷺ کو سیدہ فاطمہؓ سے بہت محبت تھی۔ آپﷺ کسی سفر پر جانے سے پہلے سب سے آخر میں سیدہ فاطمہؓ سے ملنے جاتے، آپﷺ سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہؓ کے پاس جاتے۔ جب سیدہ فاطمہؓ جوان ہوئیں تو مختلف جگہوں سے شادی کے پیغامات آتے جن پر حضورﷺ خاموش ہو جاتے تھے۔ لیکن جب سیدنا علیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا کہ اگر سیدہ فاطمہؓ کا نکاح میرے ساتھ ہو جائے تو اس پر حضورﷺ مسکرائے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ شاید حضورﷺ اسی انتظار میں تھے۔ سیدنا علیؓ درویش آدمی تھے، حضورﷺ نے پوچھا کچھ پاس ہے بھی یا نہیں؟ سیدنا علیؓ نے بتایا، یا رسول اللہﷺ کچھ بھی نہیں ہے۔ پوچھا مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ بتایا، یا رسول اللہﷺ وہ بھی نہیں ہے۔ حضورﷺ نے پوچھا وہ زرہ کہاں ہے جو تمہیں غنیمت میں ملی تھی؟ بتایا، وہ میرے پاس ہے۔ آپﷺ نے فرمایا جاؤ لے کر آؤ۔ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ سے وہ زرہ لے کر بیچ دی جسے سیدنا عثمانؓ نے خریدا۔ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا کہ اس میں سے مہر بھی ادا کرنا اور کچھ سامان وغیرہ بھی خریدنا۔ اور جب نکاح ہوگیا تو رہائش کا مسئلہ پیدا ہوگیا کہ سیدنا علیؓ تو حضورﷺ کے پاس ہی رہتے تھے۔ ایک انصاری صحابی تھے سیدنا حارثؓ، وہ کہنے لگے کہ حضورﷺ میرے پاس ایک مکان فارغ ہے، میری اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ آپﷺ کی بیٹی اور داماد وہاں رہیں۔ چنانچہ سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ وہاں منتقل ہوگئے۔ حضورﷺ کی زندگی میں سیدہ فاطمہؓ کے علاوہ آپﷺ کی ساری اولاد فوت ہو گئی تھی۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ بیماری کی حالت میں تھے تو سیدہ فاطمہؓ آیا کرتی تھیں اور حضورﷺ کا حال احوال پوچھا کرتی تھیں۔ آپﷺ کی وفات سے کچھ دن پہلے سیدہ فاطمہؓ آئیں اور آ کر حال احوال پوچھا، حضورﷺ نے بھی ان کی خیریت دریافت کی۔ حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کے کان میں کچھ بات کہی جس سے سیدہ فاطمہؓ زار و قطار رونے لگ گئیں۔ اس پر آپﷺ نے دوبارہ سیدہ فاطمہؓ کے کان میں کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگ گئیں۔ سیدہ فاطمہؓ حضورﷺ کے پاس سے اٹھ کر سیدہ عائشہؓ کے پاس گئیں تو انہوں نے پوچھ لیا کہ کیا بات تھی کہ پہلے حضورﷺ نے کچھ کہا تو آپ رونے لگ گئیں اور دوبارہ کچھ کہا تو آپؓ ہنسنے لگ گئیں۔ سیدہ فاطمہؓ نے کہا کہ کان میں بات کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ راز کی بات تھی۔ سیدہ فاطمہؓ نے وہ بات رسول اللہﷺ کی حیات میں کسی کو نہیں بتائی۔ حضورﷺ کے انتقال کے بعد جب حالات معمول پر آئے تو سیدہ عائشہؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے پھر وہی بات پوچھی۔ اس پر وہ کہنے لگیں کہ بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے میرے کان میں کہا تھا کہ فاطمہ! میں دنیا سے جا رہا ہوں۔ باپ کی وفات کی خبر کا ایک بیٹی کو کتنا صدمہ ہو سکتا ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کہتی ہیں کہ جب میں نے رونا شروع کیا تو حضورﷺ نے میرے کان میں پھر کہا کہ میرے بعد سب سے پہلے تم میرے پاس آؤ گی۔
صفحہ 5 از 7