خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علامہ زاہد الراشدی

صفحہ 4 از 7
خرچے کا معاملہ یہ تھا کہ جو کچھ حضورﷺ کے پاس ہوتا آپﷺ برابر تقسیم فرما دیتے تھے۔ آپؐ کا کوئی مستقل کاروبار تو تھا نہیں، غنیمت میں سے حصہ مل جاتا، بیتُ المال سے کوئی چیز مل جاتی، یا کوئی ہدیہ پیش کر دیتا تو حضورﷺ ازواج میں تقسیم فرما دیتے۔ گھر کی صورتحال کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کبھی ہم یعنی حضورﷺ کے خاندان پر ایسا وقت نہیں گزرا کہ ہم نے عام قسم کی کھجوریں تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھائی ہوں، کئی کئی دن چولہے میں آگ نہیں جلتی تھی۔ کبھی کچھ کھجوریں مل جاتیں، کبھی ستو وغیرہ مل جاتا اور کبھی کچھ بھی نہ ملتا۔ فرماتی ہیں کہ جب حضورﷺ حیات تھے تو ہم میں سے ہر ایک کے پاس صرف ایک ایک جوڑا کپڑوں کا ہوتا تھا۔ یہ رسول اللہﷺ کی ہدایت تھی کہ زندگی میں غیر ضروری سہولتیں اختیار نہ کی جائیں۔ رسول اللہﷺ نے اختیاری طور پر اور حکمت کے طور پر یہ زندگی اختیار کی تھی اور حضورﷺ کی زندگی کے بعد بھی ازواجِ مطہراتؓ نے آخر وقت تک یہی طرز زندگی اپنائے رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپﷺ کے وصال کے بعد ازواج کے پاس مال زیادہ آتا تھا لیکن وہ سب ضرورت مندوں پر خرچ بھی ہو جاتا تھا۔
یہ جناب نبی کریمﷺ کے گھر کا ماحول تھا۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے زندگی بھر ہم ازواج کو گھر کے معاملات میں نہیں ٹوکا، حضورﷺ سختی نہیں فرماتے تھے۔ حضورﷺ نے خود فرمایا کہ انا خیرکم لأھلی کہ میں تم میں سے اپنے خاندان کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔ البتہ دینی معاملے میں کمی بیشی ہوتی تو آپﷺ اس کا نوٹس لیتے تھے لیکن گھر کے اندر یا دنیوی معاملات میں کسی قسم کا کوئی نقصان ہوتا تو رسول اللہﷺ ہمارے ساتھ اس کے متعلق نرمی سے پیش آتے۔ رسول اللہﷺ گھر کے کاموں میں ہمارا ہاتھ بٹاتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے حسب ضرورت گھر میں جھاڑو بھی دیا، جوتے بھی گانٹھے اور چارپائیاں بھی کسیں۔ اس طرح گھر کے دیگر کاموں میں حضورﷺ ازواجِ مطہراتؓ کی مدد فرمایا تھے۔
نبی کریمﷺ کی اولاد:
سیدنا ابراہیمؓ کے علاوہ حضورﷺ کی ساری اولاد سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے تھی۔ صرف سیدہ ماریہؓ کے بطن سے سیدنا ابراہیمؓ کی ولادت ہوئی جو نبی کریمﷺ کی لونڈی تھیں اور مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپﷺ کو ہدیہ میں بھیجی تھیں۔
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ:
سیدہ خدیجہؓ سے آپﷺ کی اولاد میں، بیٹوں میں یقینی طور پر سیدنا قاسمؓ کا نام آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سیدنا قاسمؓ اتنی عمر کو پہنچ گئے تھے کہ گھوڑے کی سواری کر لیتے تھے لیکن نبوت سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ باقی بیٹوں کے نام بعض روایات میں آتے ہیں، عبداللہ، طاہر اور طیب۔ اس میں مؤرخین اختلاف کرتے ہیں کہ یہ الگ الگ بیٹے ہیں یا ایک ہی بیٹے کا نام عبداللہ ہے اور لقب طاہر ہے۔ یہ بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے، سیدنا قاسم چونکہ بڑے ہوئے تھے اس لیے ان کا ذکر روایات میں آتا ہے۔ رسول اللہﷺ کی کنیت ابوالقاسم انہی کی وجہ سے تھی۔ چھوٹے بچوں کے نام تو روایات میں آتے ہیں لیکن ان کے بارے میں تفصیلات نہیں آتیں، بعض محدثین کہتے ہیں کہ دو بیٹے تھے، بعض کہتے ہیں کہ تین بیٹے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ عبداللہ، طاہر، طیب ایک ہی بیٹے کے نام تھے۔
البتہ حضورﷺ کی چار بیٹیاں تھیں، چاروں جوان ہوئیں اور چاروں کی شادیاں ہوئیں۔ تین بیٹیوں کی اولاد ہوئی جبکہ ایک کی اولاد نہیں ہوئی۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا:
آپﷺ کی بڑی بیٹی سیدہ زینبؓ کا نکاح اپنے خالہ زاد ابوالعاص بن ربیعؓ سے ہوا تھا جو سیدہ خدیجہؓ کے بھانجے تھے۔ یہ غزوہِ بدر میں کفار کی طرف سے تھے۔ غزوہِ بدر کے بعد سیدنا ابوالعاصؓ حضورﷺ کی قید میں آگئے تھے جب کہ دونوں کا نکاح باقی تھا کہ ابھی نکاح کے نئے قوانین نازل نہیں ہوئے تھے۔ سیدہ زینبؓ نے اپنا ہار فدیہ میں دے کر انہیں رہا کروایا۔ سیدنا ابوالعاصؓ بعد میں ایک موقع پر مسلمان ہوگئے تھے اور پھر مسلمانوں کی طرف سے معرکوں میں شریک ہوتے رہے، بہت بہادر آدمی تھے۔ ان کا ذکر نبی کریمﷺ اس طرح فرمایا کرتے تھے کہ سیدنا ابوالعاصؓ نے مجھے میری بیٹی کے بارے میں کبھی تنگ نہیں کیا۔ کسی باپ کا اپنی بیٹی کے حوالے سے داماد کا خیر سے ذکر کرنا بڑی بات ہوتی ہے۔ سیدہ زینبؓ کی اولاد میں ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی۔ بڑی بیٹی امامہؓ تھیں جب کہ بیٹے علیؓ تھے۔ سیدہ امامہؓ حضورﷺ کی بہت لاڈلی نواسی تھیں، روایات میں آتا ہے کہ سیدہ امامہؓ نماز کے دوران حضورﷺ کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، حضورﷺ قعدے میں بیٹھتے تھے تو سیدہ امامہؓ کبھی کندھے پر چڑھ جاتیں اور کبھی آکر گود میں بیٹھ جاتی تھیں۔ حضورﷺ نماز کے دوران سجدے میں جاتے تھے تو یہ گردن پر چڑھ کر بیٹھ جاتی تھیں۔ ایک روایت میں تو یوں آتا ہے کہ حضورﷺ نے ایک دفعہ سیدہ امامہؓ کو اپنی گود میں اٹھا کر نماز مکمل کی۔
جناب رسول اللہﷺ بچوں سے بہت شفقت فرمایا کرتے تھے، بچوں کو گود میں اٹھانا، ان کو پیار کرنا، انہیں بوسہ دینا، ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا، ان کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کرنا۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں بچوں کے ساتھ حضورﷺ سے زیادہ شفقت کرنے والا نہیں دیکھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضورﷺ بچوں کو بہلانے کے لیے زبان ہلا کر دکھایا کرتے تھے، آپﷺ بچوں کے ساتھ بچہ بن جایا کرتے تھے۔ سیدہ امامہؓ جوان ہوئیں تو سیدہ فاطمہؓ کے انتقال کے بعد سیدنا علیؓ کے نکاح میں آئیں۔ سیدنا علیؓ کی شہادت کے بعد سیدنا علیؓ کی وصیت کے مطابق سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے سیدہ امامہؓ سے نکاح کیا۔ سیدہ زینبؓ کے ایک بیٹے تھے جن کا نام سیدنا علیؓ تھا۔
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا:
صفحہ 4 از 7