خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علامہ زاہد الراشدی

صفحہ 3 از 7
ازواجِ مطہراتؓ کے بارے میں جناب نبی کریمﷺ کا روزانہ کا معمول یہ تھا کہ آپﷺ عصر کی نماز کے بعد تمام ازواجِ مطہراتؓ کے حجروں میں باری باری جایا کرتے تھے۔ مدینہ منورہ میں آپﷺ کا قیام مسجدِ نبوی کے پیچھے حجروں میں تھا ایک حجرہ سیدہ عائشہؓ کا تھا جس میں اب حضور نبی کریمﷺ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی قبور ہیں جب کہ ایک قبر کی جگہ ابھی باقی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مخصوص ہے۔ باقی ازواجِ مطہرات کے حجرے بھی ساتھ ساتھ تھے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا تھا اس لیے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح موت نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے دوبارہ دنیا میں بھیجیں گے۔ انسانوں میں سب سے لمبی عمر کے انسان حضرت عیسٰی علیہ السلام ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر حضرت نوح علیہ السلام کو لمبی عمر کا انسان مانا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ لمبی عمر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے کہ ان کی اس وقت تقریباً دو ہزار سال عمر ہوگئی ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے اور حضرت امام مہدیؒ کے ساتھ مل کر دنیا میں اسلام کا غلبہ قائم کریں گے، ان کی شادی ہوگی، بچے ہوں گے، مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوگا اور وہ میرے ساتھ قبر میں دفن ہوں گے۔ چنانچہ اس قبر کی جگہ اب بھی خالی ہے اور وہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر کی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مخصوص ہے۔
جناب رسول اللہﷺ روزانہ عصر کے بعد باری باری ہر زوجہ کے حجرے میں جاتے تھے، سب سے حال احوال پوچھتے تھے اور ضروریات کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے۔ رات کس زوجہ کے پاس گزاری جائے، اس کے لیے آپﷺ نے باریاں مقرر کر رکھی تھی۔ حضورﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یا اللہ! جو میرے اختیار میں ہے اس میں تو میں برابری کرتا ہوں، یعنی ازواج کے لیے خرچہ اور عطیات وغیرہ، لیکن جو میرے اختیار میں نہیں ہے یعنی دل کا رجحان اور میلان، اے اللہ اس میں میرا مواخذہ نہ کرنا۔ دلی معاملہ آپﷺ کا سیدہ عائشہؓ کے ساتھ زیادہ تھا جو کہ ایک فطری بات تھی، دل کے معاملات کسی کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ سیدہ عائشہؓ نوجوان، ذہین اور سمجھدار خاتون تھیں اور ازواجِ مطہراتؓ میں حضورﷺ کی سب سے زیادہ پسندیدہ تھیں۔ اور یہ بات بھی غیر فطری نہیں ہے کہ جہاں ایک سے زیادہ بیویاں بیک وقت ہوں وہاں آپس میں اختلاف کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ ازواجِ مطہراتؓ کی بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نوک جھونک رہتی تھی، محدثین اس بارے میں بہت سے واقعات ذکر فرماتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی اور یہ امت کی تعلیم کا ایک اہتمام تھا کہ مختلف مزاج کی عورتیں حضورﷺ کے ساتھ مل جل کر رہیں، ان کی آپس میں معاصرت بھی ہو، نوک جھونک بھی ہو، لیکن اس سب کے باوجود ایک دائرے کی پابندی بھی ہو۔
ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے زیادہ معاصرت سیدہ عائشہؓ اور سیدہ زینبؓ کے درمیان تھی۔ کبھی کبھی بات سخت بھی ہو جاتی تھی، دونوں حسبِ موقع ایک دوسرے پر فخر بھی جتلایا کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر سیدہ زینبؓ فرمایا کرتی تھیں کہ میرا قرآنِ کریم میں ذکر ہے:
فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت، 37) 
ترجمہ: کہ پھر جب سیدنا زیدؓ اس (سیدہ زینبؓ) سے حاجت پوری کر چکا تو ہم نے آپ سے اس کا نکاح کر دیا تا کہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو۔ سیدہ زینبؓ دوسری ازواجِ مطہراتؓ سے فرمایا کرتی تھیں کہ تم سب کا نکاح زمین پر ہوا جب کہ میرا نکاح آسمانوں پر ہوا۔ تم میں سے کسی کے نکاح کا ذکر قرآنِ کریم میں نہیں ہے لیکن میرے نکاح کا ذکر قرآنِ کریم میں ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ سب ازواج اکٹھی ہوئیں کہ حضورﷺ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے اس کے لیے انہوں نے آپس میں فیصلہ کر کے سیدہ زینبؓ متکلم بنایا۔ سیدہ زینبؓ نے لمبی گفتگو کی کہ یا رسول اللہﷺ ازواجِ مطہراتؓ کو سیدہ عائشہؓ کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں وغیرہ۔ جب سیدہ زینبؓ بات مکمل کر چکیں تو سیدہ عائشہؓ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ مجھے بھی اجازت ہے کہ میں کچھ بات کروں؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں تمہارا بھی حق ہے۔ سیدہ عائشہؓ بہت فصیح اللسان تھیں ان کی فصاحت اپنے زمانے میں ضرب المثل تھی۔ جب سیدہ عائشہؓ نے گفتگو شروع کی تو سب ازواج خاموش ہوگئیں حضورﷺ نے آخر میں ایک ہی جملہ فرمایا کہ آخر سیدنا ابوبکرؓ کی بیٹی ہے، یعنی باقی ازواج سے کہا کہ اب بولو سیدہ عائشہؓ کے سامنے۔ چنانچہ اس قسم کی باتیں ازواجِ مطہراتؓ میں آپس میں معاصرت کی ہو جایا کرتی تھیں۔
یہ فطری بات ہے کہ ایک خاوند کی زیادہ بیویاں ہوں تو ان کا آپس میں کسی نہ کسی بات پر اختلاف ہو جاتا ہے۔ لیکن جب منافقوں نے سیدہ عائشہؓ پر تہمت لگائی تو ازواجِ مطہراتؓ سے سیدہ عائشہؓ کے کردار کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس واقعہ کے گزرجانے کے بعد سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ خطرہ سیدہ زینبؓ سے تھا لیکن سیدہ عائشہؓ کے بارے میں سب سے زیادہ صفائی سیدہ زینبؓ نے ہی دی۔ سیدہ زینبؓ نے فرمایا ما علمت فیھا الا خیرًا یا رسول اللہﷺ میں نے تو سیدہ عائشہؓ میں خیر کے سوا کوئی بات نہیں دیکھی۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ازواج کے درمیان باہمی زندگی کا ایک نمونہ بتایا کہ یہ موقع ہوتا ہے فائدہ اٹھانے کا، لیکن سیدہ زینبؓ نے باوجود معاصرت کے وہ بات کہی جسے وہ دیانت داری کے ساتھ سچ سمجھتی تھیں۔
صفحہ 3 از 7