خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علامہ زاہد الراشدی

صفحہ 2 از 7
سیدہ عائشہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیٹی تھیں اور ازواجِ مطہراتؓ میں نبی کریمﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ 9 سال کی عمر میں رسول اللہﷺ کے عقد میں آئیں اور آپﷺ کے وصال کے وقت ان کی عمر 18 سال تھی۔ سیدہ عائشہؓ سے نبی کریمﷺ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ سیدہ عائشہؓ ایک ذہین، فصیح اللسان اور سخی خاتون تھیں، ان کا علمی مقام یہ تھا کہ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں نہ صرف فتویٰ دیا کرتی تھیں بلکہ دوسرے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فتووں پر نقد کیا کرتی تھیں۔ سیدہ عائشہؓ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ حضورﷺ کے وصال کے بعد ایک دفعہ کسی نے انہیں ایک لاکھ درہم ہدیہ بھیجا جو انہوں نے شام ہونے سے پہلے پہلے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا۔ سیدہ عائشہ کی شاگرد سیدہ عمرہؓ اس کے متعلق بتاتی ہیں کہ ہم سب روزے سے تھے، سیدہ عائشہؓ نے یہ رقم تقسیم کرنا شروع کر دی کہ یہ برتن بھر کر فلاں کو دے آؤ اور یہ رقم فلاں کے گھر دے آؤ، سارا دن ہم یہی کام کرتے رہے۔ روزہ کھولنے سے کچھ وقت پہلے سیدہ عائشہؓ نے پوچھا کہ گھر میں کھانے کو کچھ ہے؟ میں نے سیدہ عائشہؓ کو بتایا کہ گھر میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ سیدہ عائشہؓ نے ناراضگی سے فرمایا کہ پہلے یاد کراتے تو میں افطاری کے لیے کچھ درہم رکھ لیتی، اب کچھ نہیں ہو سکتا اس لیے پانی سے روزہ کھولو۔ سیدہ عائشہؓ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد تقریباً 45 سال تک زندہ رہیں۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ حفصہؓ سیدنا عمر فاروقؓ کی بیٹی تھیں۔ ان کے خاوند سیدنا خنیسؓ غزوہِ بدر میں زخمی ہوئے اور بعد میں انہی زخموں کی وجہ سے شہید ہوئے۔ سیدہ حفصہؓ جب بیوہ ہوئیں تو سیدنا عمرؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے ان کے نکاح کے متعلق بات کی لیکن سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا ۔ یہ بات سیدنا عمرؓ کو بہت ناگوار گزری لیکن بعد میں جب سیدنا عمرؓ کو یہ بات پتہ چلی تو اطمینان ہوگیا کہ حضورﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سے سیدہ حفصہؓ کے متعلق پہلے سے تذکرہ فرمایا ہوا تھا۔ چنانچہ 2ھ میں حضورﷺ کا سیدہ حفصہؓ سے نکاح ہوا۔ انہوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دور خلافت میں وفات پائی۔
حضرت زینب امُ المساکین رضی اللہ عنہا:
سیدہ زینبؓ کے خاوند سیدنا عبداللہ بن جحشؓ جنگِ اُحد میں شہید ہوئے تو حضورﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کر لیا لیکن حضورﷺ کے ساتھ نکاح کے چند مہینے بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ سیدہ زینبؓ غرباء کو کھانا کھلانے اور مساکین کی مدد میں مشہور تھیں اس لیے انہیں ام المساکین کہا جاتا تھا۔ سیدہ خدیجہؓ کے بعد حضورﷺ کی صرف یہی زوجہ تھیں جو حضورﷺکی حیاتِ مبارکہ میں فوت ہوئیں۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا
سیدہ امِ سلمہؓ کا اصل نام ہند تھا، ذہین اور دانشمند خاتون تھیں۔ ان کے خاوند سیدنا ابوسلمہؓ بھی غزوہِ احد میں شہید ہوئے، نبی کریمﷺ نے سیدنا ابوسلمہؓ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد ان کی بہادری کی بہت تعریف کی۔ حضورﷺ نے خود سیدہ امِ سلمہؓ کو نکاح کا پیغام بھجوایا چنانچہ غزوہِ احد کے بعد نبی کریمﷺ سے ان کا نکاح ہوا۔ عام خیال یہ ہے کہ سیدہ امِ سلمہؓ کی وفات ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے آخر میں ہوئی۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا:
سیدہ زینبؓ حضورﷺ کے منہ بولے بیٹے سیدنا زید بن حارثہؓ کی بیوی تھیں۔ انہوں نے سیدہ زینبؓ کو طلاق دے دی تو اللہ رب العزت نے ان کا نکاح جناب نبی اکرمﷺ کے ساتھ کرنے کا قرآنِ کریم میں اعلان کر دیا۔ سیدہ زینبؓ کے ساتھ حضورﷺ کے اس نکاح کا قرآنِ کریم میں ذکر ہے جس پر سیدہ زینبؓ بہت فخر کیا کرتی تھیں۔ سیدہ زینبؓ حضورﷺ کے خاندان بنو ہاشم سے تھیں۔ محدثین ایک دلچسپ بات نقل کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا، میری ازواج میں سے میرے بعد سب سے پہلے میرے پاس وہ آئے گی جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہوگا۔ اس پر بعض ازواجِ مطہراتؓ نے یہ دیکھنے کے لیے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کی کہ کس کا ہاتھ لمبا ہے۔ حالانکہ اس سے حضورﷺ کی مراد زیادہ سخاوت کرنے والی یا زیادہ خرچ کرنے والی کی تھی اور یہ بات ام المؤمنین سیدہ زینبؓ پر صادق آتی تھی۔ سیدہ زینبؓ بہت سخی اور بڑے دل والی خاتون تھیں جو ہاتھ میں آتا لوگوں پر خرچ کر دیتیں۔ چنانچہ حضورﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق آپﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے سیدہ زینبؓ کی وفات ہوئی۔
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا:
غزوہِ بنو مصطلق میں بہت سے قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے جو لوگوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ سیدہ جویریہؓ لڑائی میں شکست کھانے والے قبیلے کے سردار کی بیٹی تھیں، وہ بھی قید ہو کر لونڈی بنیں اور سیدنا ثابت بن قیسؓ کے حصے میں آئیں۔ حضورﷺ نے سیدنا ثابت بن قیسؓ کو رقم ادا کر کے سیدہ جویریہؓ کو آزاد کرایا اور ان سے نکاح کر لیا۔ جب لوگوں کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے بھی سیدہ جویریہؓ کے قبیلے کے قیدیوں کو آزاد کرنا شروع کر دیا، یوں رسول اللہﷺ کے اس نکاح کی وجہ سے سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کر دیا گیا سیدہ جویریہؓ کا انتقال سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت کے زمانے میں ہوا۔
حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ امِ حبیبہؓ کے خاوند نے عیسائیت قبول کر لی تھی چنانچہ اسی وجہ سے ان کی اپنے خاوند سے علیحدگی ہوگئی۔ روایات میں آتا ہے کہ نجاشی حبشہ نے آپﷺ کا اور سیدہ ام حبیبہؓ کا نکاح پڑھایا۔ سیدہ ام حبیبہؓ کی وفات بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ میمونہؓ اپنے خاوند ابورہم کی وفات کے بعد رسول اللہﷺ کے عقد میں آئیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضورﷺ کے چچا سیدنا عباسؓ کی خواہش پر یہ نکاح ہوا۔ سیدنا عباسؓ نے ان کا نکاح پڑھایا جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا:
سیدہ صفیہؓ غزوہِ خیبر میں قید ہو کر لونڈی بنیں، جناب رسول اللہﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ سیدہ صفیہؓ کے والد اور بھائی غزوہِ خیبر میں مارے گئے تھے۔ حضورﷺ کو سیدہ صفیہؓ کے ساتھ بڑی الفت تھی اور حسبِ موقع ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔
نبی کریمﷺ کا گھریلو ماحول:
صفحہ 2 از 7