12: حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ:
امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ (متوفی 1383ھ) لکھتے ہیں:
بعض علمائے کرام نے خلفائے راشدینؓ میں حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ اور اس کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کے نام کا اضافہ کیا، مگر میں نے باتباعِ جمہور حضرت علیؓ پر خلافتِ راشدہ کو اس لیے ختم کر دیا کہ سیدنا حسنؓ کی خلافت صرف چھ ماہ رہی، پھر انہوں نے خود ہی خلافت کی باگ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ میں دے دی اور خود بھی ان سے بیعت کر لی اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اگرچہ صحابیِ رسول ہونے کے سبب صاحبِ فضائل ہیں، مگر بایں ہمہ ان کو خلفائے راشدینؓ میں شمار کرنا خلافِ تحقیق ہے خلافتِ راشدہ کے لیے جن اوصاف کی ضرورت ہے وہ سوائے مہاجرینؓ کے اور کسی میں نہیں پائے گئے، اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ ان میں سے نہیں ہیں۔
(خلفائے راشدین: صفحہ238، 239 تحت: خاتمۃ الکتاب)
بفضلہٖ تعالیٰ اکابر علمائے کرام رحمہم اللہ کی تصریحات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ خلفائے راشدینؓ صرف چار ہیں۔