حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ…

حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ کیا شیعہ سنی اتحاد از روئے شریعت جائز ہے؟


صفحہ 3 از 4

33: جو نبی بھی آئے وہ انصاف کے نفاذ کیلئے آئے ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام دنیا میں انصاف کا نفاذ کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے، یہاں تک کہ حضورﷺ جو انسانوں کی اصلاح کیلئے آئے تھے وہ بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

(اتحاد و یک جہتی امام خمینی کی نظر میں: صفحہ، 15)

34: تمام مخلوقات پر اماموں کی اطاعت اور فرمانبرداری لازم ہے اور مخلوق کے تمام کام اللہ نے ان کے سپرد کر دئیے ہیں، سو حضرات ائمہ کرام جس چیز کو چاہتے ہیں حلال کرتے اور جس چیز کو چاہتے حرام کر دیتے ہیں۔ 

(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 441)

*شیعہ مذہب میں تقیہ و کتمان کی اہمیت:*

1: تقیہ واجب ہے اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔ 

(احسنُ الفوائد: صفحہ، 472)

2: خانہ کعبہ میں شیعہ کو تقیہ کر کے اہلِ سنت والی نماز پڑھنی چاہیئے۔ 

(عبادت و خود سازی: صفحہ، 265)

3: بے شک دین کے نو حصے تقیہ میں ہیں اور جو شخص تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے۔

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 217)

4: جو شخص تقیہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا اور جو تقیہ نہیں کرے گا اسے ذلیل کرے گا۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 217)

5: تم ایسے دین پر ہو جو اس کو چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے عزت دے گا اور جو دین کو ظاہر اور اسے شائع کرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و رسوا کرے گا۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 222)

6: تقیہ واجب ہے، اس کا ترک کرنے والا مذہبِ امامیہ سے خارج ہے، اور مخالفت کی اس نے اللہ تعالیٰ، رسولﷺ اور ائمہ کی۔ 

(احسن الفوائد: صفحہ، 626)

7: جس آدمی کو معمولی عقل و فہم ہے وہ جانتا ہے کہ تقیہ اللہ تعالیٰ کے قطعی احکام میں سے ہے۔ 

(کشفُ الاسرار: صفحہ، 129)

*شیعہ مذہب میں عقیدہ تحریف قرآن کریم:*

1: اصل قرآن بکری کھا گئی۔ 

(کتاب البرہان: جلد، 1 صفحہ، 38)

2: قرآن پاک میں شراب خور خلفاء نے تبدیلی کی۔ 

(قرآنِ مجید مترجم: صفحہ، 479)

3: اصل قرآن میں سترہ ہزار آیات ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 616)

4: قرآنِ پاک سے بے شمار آیات نکال دی گئیں ہیں۔ 

(آل و اصحاب: صفحہ، 13)

5: مرتدین نے قرآنِ پاک تبدیل کر دیا۔ 

(قرآنِ مجید مترجم: صفحہ، 1011)

6: جامعینِ قرآن نے قرآن میں کفر کے ستون کھڑے کر دیئے۔

(احتجاجِ طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 257)

7: ائمہ کے علاوہ کسی کے پاس پورا قرآن ہے نہ قرآن کا پورا علم۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 228)

8: قرآنِ مجید سے بولایۃ علیؓ کے الفاظ نکال دیئے گئے۔

(ترجمہ حیاتُ القلوب: جلد، 3 صفحہ، 193)

9: اصل قرآن مہدی کے پاس ہے موجودہ قرآن غیر اصل ہے۔

(ہزار تمہاری دس ہماری: صفحہ، 553)

10: موجودہ قرآن کو اولیاء الدین کے دشمنوں نے جمع کیا ہے۔ 

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 130)

11: اصل قرآن آج کے بعد ظہور مہدی تک نظر نہیں آئے گا۔

(انوارِ نعمانیہ: جلد، 2 صفحہ، 360)

12: موجودہ قرآن کی ترتیب خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

13: قرآنِ مجید میں ایسی باتیں بھی ہیں جو خدا نے نہیں کہیں۔ 

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 30)

14: موجودہ قرآن کی ترتیب خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

15: موجودہ قرآن میں خلافِ فصاحت اور قابلِ نفرت الفاظ موجود ہیں۔ 

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 30)

16: محدث جزائری کہتے ہیں کہ صراحتاً تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی متواتر روایتوں کی صحت پر (ہمارے) سب اصحاب کا اتفاق ہے۔ 

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

17: تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی روایات دو ہزار سے زیادہ ہیں، ایک جماعت نے ان کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے مفید، محقق داماد اور علامہ مجلسی وغیرہ۔ 

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

18: قرآن سے مراد وہ قرآن ہے جو ائمہ کے پاس محفوظ ہے جس کی سترہ ہزار آیتیں ہیں۔

(صافی شرح کافی: جلد، 2 کتاب فصل القرآن: جز ششم، صفحہ، 65، طبع لکشور)

19: ابو عبداللہ سے روایت ہے کہ جو قرآن جبرئیل محمدﷺ کے پاس لائے اس کی ستر ہزار آیتیں تھیں۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 671)

20: گیارہ مرتبہ سورۃ الفجر پڑھ کر آلہ تناسل (شرمگاہ) پر دم کرے اور بیوی سے نزدیکی کرے تو اللہ فرزند عطا کرے گا۔ 

(تحفۃُ العوام: صفحہ، 293)

21: موجودہ قرآن رطبُ و یابس کا مجموعہ ہے جب کہ اصل قرآن میں تو پاکستان تک کا ذکر ہے۔

(ہزار تمہاری دس ہماری: صفحہ، 554)

22: تحریف و تبدل کے واقع ہونے میں قرآن، توراۃ اور انجیل ہی کی طرح ہے اور جو یہ بتلاتی ہے کہ جو منافقین امت پر غالب آگئے اور حاکم بن گئے (یعنی حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ وغیرہ) وہ قرآن میں تحریف کرنے کے بارے میں اسی راستے پر چل کر بنی اسرائیل نے توراۃ اور انجیل میں تحریف کی تھی۔ 

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 94)

23: ان سب احادیث اور اہلِ بیتؓ کی دیگر روایات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ قرآن جو اس وقت ہمارے سامنے ہے پورا نہیں ہے، جیسا کہ رسالتِ مآبﷺ پر اترا تھا بلکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کے خلاف ہے، ایسی بھی ہیں جن میں تبدیلی کی گئی ہے اور وہ تحریف شدہ ہیں اور ان میں سے بہت سی چیزیں نکال دی گئی ہیں۔ 

(تفسیرُ الصافی: جلد، 1 صفحہ، 32)

24: جب قائم (یعنی امام مہدی غائب) ظاہر ہوں گے تو وہ قرآن کو اصلی اور صحیح طور پر پڑھیں گے اور قرآن کا وہ نسخہ نکالیں گے جس کو علیؓ نے لکھا تھا اور سیدنا جعفر صادقؒ نے یہ بھی فرمایا کہ جب علیؓ نے اس کو لکھ لیا اور پورا کر لیا تو لوگوں سے (یعنی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ وغیرہ سے) کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ٹھیک اس کے مطابق جس طرح اللہ نے محمدﷺ پر نازل فرمائی تھی، میں نے اس کو لوحین سے جمع کیا ہے تو ان لوگوں (یعنی حضرت ابوبکرؓ وچحضرت عمرؓ وغیرہ) نے کہا کہ ہمارے پاس یہ جامع مصحف موجود ہے اس میں پورا قرآن ہے ہم کو تمہارے جمع کئے ہوئے قرآن کی ضرورت نہیں تو علیؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اب آج کے بعد تم کبھی اس کو دیکھ نہ سکو گے۔ 

(کشفِ اسرار: صفحہ، 227)

صفحہ 3 از 4