حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ…

حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ کیا شیعہ سنی اتحاد از روئے شریعت جائز ہے؟


صفحہ 2 از 4

5: سیدنا محمد باقرؒ یا سیدنا جعفر صادقؒ میں سے کسی ایک سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور کسی چیز سے ایسے نہیں ہوتی جیسا کہ بداء کے عقیدہ سے ہوتی ہے۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 228)

6: ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ بداء (اللہ تعالیٰ کی طرف غلطی کی نسبت) کا عقیدہ رکھنے میں کتنا ثواب ہے تو وہ اس عقیدے سے نہ رکتے۔ (اصولِ کافی: صفحہ، 86)

*شیعہ مذہب میں کلمہ طیبہ:*

1: لا اله الا الله محمد رسول الله على ولى الله وصى رسول الله و خليفتة بلا فصل۔

(اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ: صفحہ، 422)

2: توحید و رسالت کے ساتھ ولایت کو ضروری سمجھا اور کہا لا اله الا الله محمد رسول الله على ولى الله وصى رسول الله و خليفتة بلا فصل۔

(شیعہ مذہبِ حق ہے: صفحہ، 325)

3: شیعہ مصنف عبد الکریم مشتاق لکھتے ہیں کہ: میں نے خدا کی عطاء کردہ عقلی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے بغور فیصلہ کر لیا کہ سنیوں کا کلمہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پڑھ لینا دلیل ایمان نہیں بلکہ اس کے اقرار پر بھی خدا نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافق قرار دے دیا۔ 

(شیعہ مذہبِ حق ہے: صفحہ، 342)

4: شیعہ مصنف عبد الکریم مشتاق لکھتے ہیں کہ توحید و رسالت کے ساتھ علیؓ کی امامت، خلافت اور وصایت کا اقرار کیا جائے تو اس تیسرے حصہ کو کلمہ میں شامل کرنا عین اطاعت خدا و رسول ہے، اور اس کی مخالف بلا جواز ہے۔

آگے لکھتے ہیں کہ ہم اگر غور و انصاف کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ موحد کی پہچان لا اله الا الله سے ہوتی ہے، مسلم کی پہچان محمد رسول الله سے ہوتی ہے، اور مؤمن و منافق میں تمیز على ولى الله سے ہوتی ہے۔ 

(شیعہ مذہبِ حق ہے: صفحہ، 311)

5: انبیاء کرام علیہم السلام نے خدا کی توحید، حضورﷺ کی نبوت اور علیؓ کی ولایت کا اقرار کیا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ اگر انبیاء یہ تینوں (خدا کی توحید، حضورﷺ کی نبوت اور علیؓ کی ولایت) کا اقرار نہ کرتے تو وہ نبی نہ بنتے نہ رسول، تو جب ان تین اجزاء کے اقرار کے بغیر انبیاء کی نبوت نہیں رہ سکتی تو ہمارا ایمان کیسے رہے گا، لہٰذا ایمان اسی کا مکمل ہوگا جو کلمے میں ان تینوں اجزاء کا اقرار کرتا ہوگا۔

(وسیلہ انبیاء: جلد، 2 صفحہ، 179)

*شیعہ مذہب میں توہین انبیاء کرام علیہم السلام و عقیدہ امامت:*

1: امام رسول اللہ کے برابر ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 270)

2: پنچتن پاک ساری مخلوق سے افضل ہیں۔ 

(وسیلہ انبیاء: صفحہ، 90)

3: محمد اور آلِ محمد اولادِ آدم سے نہیں ہے۔ 

(جلاءُ العیون: جلد، 2 صفحہ، 59)

4: ائمہ خود ذاتِ محمد ہیں۔

(کتاب البرہان: جلد، 1 صفحہ، 25)

5: امام کے بغیر دنیا قائم نہیں رہ سکتی۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 178)

6: امام پر وحی نازل ہوتی ہے۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 176)

7: امام تمام گناہوں اور عیوب سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 200)

8: حضرت علیؓ تمام انبیاء سے افضل ہے۔ 

(جلاءُ العیون: جلد، 2 صفحہ، 20)

9: حضرت علیؓ کے در کے بھکاری تو اولولعزم پیغمبر ہیں۔ 

(خلقتِ نورانیہ: جلد، 1 صفحہ، 201)

10: امام میں نبیﷺ سے بڑھ کر صفات موجود ہیں۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ 388)

11: ولایت علیؓ کا رتبہ نبوت سے زیادہ ہے۔ 

(ہزار تمہاری دس ہماری: صفحہ، 52)

12: امامت کا درجہ نبوت و پیغمبری سے بالاتر ہے۔

(حیاتُ القلوب: جلد، 2 صفحہ 3)

13: امامت علی کا منکر نبوت محمدﷺ کا منکر ہے۔

(تفسیر مرآۃ الانوار: صفحہ، 24)

14: حضورﷺ کی وفات کے وقت میت بِکس گئی اور پیٹ پھول گیا۔ 

(تنزیہ الاسباب: صفحہ، 10)

15: شبِ قدر میں امام پر سالانہ احکام نازل ہوتے ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 248)

16: امام اپنی موت کا وقت جانتا ہے اور اپنے اختیار سے خود مرتا ہے۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 258)

17: امام مہدی ظہور کے بعد سب سے پہلے سنی علماء کو قتل کریں گے۔ 

(حقُ الیقین: جلد، 1 صفحہ، 527)

18: امام مہدی کی بیعت تمام ملائکہ جبرائیل اور میکائیل کریں گے۔ 

(چودہ ستارے: صفحہ، 594)

19: امام تمام گناہوں اور عیوب سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 200)

20: امام کی معرفت کے بغیر خدا کی محبت پوری نہیں ہو سکتی۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 177)

21: امام مہدی نئی شریعت لائے گا اور نئے احکامات جاری کریں گے۔ 

(بحارُ الانوار: صفحہ، 597)

22: حضرت علیؓ واقعی رسول کا حصہ ہے، اور انہیں علم غیب عطا کی گیا۔ 

(عالمُ الغیب: صفحہ، 47)

23: انبیاء کو نبوت علیؓ کی امامت کے اقرار سے ملی۔

(المجالس الفاخرہ فی اذکار العترۃ الطاہرہ: صفحہ، 12)

24: ائمہ معصومین حضورﷺ کے قائم مقام ہیں، اور انبیاء سے افضل ہیں۔

(انوار النجف فی اسرار المصحف: صفحہ، 11)

25: ائمہ گزشتہ اور آئندہ تمام اُمور جانتے ہیں اور ان پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 260)

26: ائمہ جس چیز کو چاہتے ہیں حلال کرتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے حرام کرتے ہیں۔ 

(خلقتِ نورانیہ: صفحہ، 155)

27: تمام دنیا اور آخرت امام کی ملکیت ہے وہ جس کو چاہیں دے دیں اور جس کو چاہیں نہ دے دیں۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 409)

28: قومِ عاد، ثمود اور فرعون کو ہلاک کرنے والے اور موسیٰ کو نجات دینے والے علیؓ ہے۔ 

(وسیلہ انبیاء: جلد، 2 صفحہ، 110)

29: امام مہدی جب غار سے باہر آئے گا تو اس کے ہاتھ پر سب سے پہلے حضورﷺ بیعت کریں گے اس کے بعد حضرت علیؓ اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔ 

(حقُ الیقین: صفحہ، 160)

30: ہمارے مذہب کے ضروری عقائد میں سے ہے کہ ہمارے ائمہ کا وہ درجہ ہے کہ جہاں تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا۔ 

(الولایۃ التکوینیہ: صفحہ، 52)

31: امامت بھی نبوت کی طرح منصب الہٰی ہے، امام کا معصوم ہونا ضروری ہے، امام کا خطاء اور نسیان سے محفوظ ہونا واجب ہے، امام کے لئے سارے زمانے پر فوقیت رکھنا ضروری ہے۔

(تحفہ نماز جعفریہ: صفحہ، 28)

32: ائمہ اطہار سوائے جناب سرور کائناتﷺ کے دیگر تمام انبیاء اولو العزم وغیرہم سے افضل و اشرف ہے۔ 

(احسن الفوائد فی شرح العقائد: صفحہ، 406، طبع پاکستان، مصنف علامہ محمد حسین)

صفحہ 2 از 4