Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف اعتراضات و بغاوت کی آگ بھڑکانے کی محکم تدبیر

  علی محمد الصلابی

مختلف ملے جلے اسباب و عوامل کے نتیجہ میں معاشرہ افواہوں اور الٹی سیدھی باتوں کو قبول کرنے کے لیے تیار تھا، اور زمین اس کے لیے سازگار تھی اور معاشرہ خلاف ورزیاں اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، فتنہ برپا کرنے والے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بہانے امراء اور گورنروں پر تنقید و طعن پر متفق ہو چکے تھے، اور لوگوں کو اپنا ہم نوا بنا لیا تھا اور خود حضرت عثمان غنیؓ پر خلیفہ ہونے کی حیثیت سے طعن و تشنیع شروع ہو چکی تھی، اگر ہم ان اتہامات اور دعووں کو جمع کریں جو خلیفہ کے خلاف پھیلائے گئے تھے تو انہیں پانچ خانوں میں جمع کر سکتے ہیں:

1: خلافت سے قبل کے ذاتی مواقف: بعض غزوات اور مواقع سے غائب رہنا۔

2: مالی سیاست: عطیات اور چراگاہیں۔

3: انتظامی واداری سیاست: اقرباء کی تولیت، طریقہ تولیت۔

4: ذاتی یا مصالح امت کے پیش نظر اجتہادات: منیٰ میں اتمام صلاۃ، جمع قرآن، مسجد نبوی میں توسیع۔

5: بعض صحابہ کرامؓ کے ساتھ آپ کا معاملہ: حضرت عمار، ابوذر، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: 394)

ان تمام اتہامات کے سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے موقف کی وضاحت ہم اپنے مقام پر کر چکے ہیں، اب صرف حضرت عمارؓ کے سلسلہ میں وضاحت باقی ہے ان شاءاللہ اس سلسلہ میں گفتگو آرہی ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف تنقید و مطاعن کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا، خواہ آپ کے دور میں ہو جب کہ آپ نے ان کا مثبت جواب دیا تھا اور خواہ بعد کے ادوار میں راویان اور مصنفین کے یہاں ہو، لیکن یہ صحیح نہیں ہیں اور یہ اس حد کو نہیں پہنچتی ہیں کہ خلیفہ کے قتل کا سبب ثابت ہوں۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 400) 

تاریخ طبری وغیرہ کتب تاریخ میں مکتوب اور مجہول اور ضعیف اخباریوں اور رافضیوں کی سند طریق سے مروی مذکورہ اعتراضات خلفاء و ائمہ کی سیرتوں سے متعلق حقائق کے خلاف عظیم مصیبت ثابت ہوئے ہیں۔ خاص طور سے اضطرابات و فتن کے ادوار میں، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی سیرت کو اس سلسلہ میں حظ وافر ملا ہے۔ سیدنا عثمان غنیؓ کی روشن سیرت کو داغدار کر کے اور اس کو مسخ کر کے لوگوں کو آپ کے خلاف برانگیختہ کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کو بذاتِ خود اس کا علم ہو گیا تھا، اس لیے آپ نے اپنے امراء اور گورنروں کے نام تحریر فرمایا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہو رعیت انتشار کا شکار ہے، حرص میں لگ چکی ہے اور اس کے تین اسباب ہیں:

ترجیح دی جانے والی دنیا، تیز رفتار باطل افکار و نظریات اور سینوں میں چھپا ہوا کینہ و حسد۔

(التمہید والبیان: صفحہ 64) 

امام ابن العربی رحمۃاللہ ان تمام اعتراضات سے متعلق فرماتے ہیں: ظالموں نے کذابوں کی روایات کے سہارے یہ کہا کہ سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنی خلافت میں مظالم و منکرات کا ارتکاب کیا حالاں کہ یہ سب کا سب سند و متن دونوں اعتبار سے باطل ہے۔

(العواصم من القواصم: جلد 61 صفحہ 63)

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے وضاحت کی ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ معصوم نہ تھے، فرماتے ہیں: قاعدہ کلیہ ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کے بعد کسی کو معصوم نہیں مانتے، بلکہ خلفاء اور دیگر لوگوں سے غلطیاں اور گناہ صادر ہو سکتے ہیں، وہ اس سے توبہ کرتے ہیں اور ان کی ڈھیر ساری نیکیاں اور ابتلاء و مصائب ان کے لیے کفارئہ سیئات ثابت ہوتے ہیں، اور ان کے علاوہ امور بھی ان کے لیے کفارہ ہو سکتے ہیں تو جو کچھ حضرت عثمان غنیؓ سے متعلق منقول ہے وہ غلط ہے یا گناہ، سیدنا عثمان غنیؓ کو اسبابِ مغفرت مختلف شکلوں میں حاصل ہیں۔ آپ کی اطاعت اور نیکیاں، نبی کریمﷺ کی شہادت، بلکہ مصیبت کے ساتھ جنت کی بشارت

(مسلم: فضائل الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 1867ـ 1869)

اور پھر سیدنا عثمان غنیؓ نے ان تمام اعتراضات سے جو آپ پر اٹھائے گئے توبہ کی اور بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہوئے۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی خطاؤں کو معاف کر دیا، اور صبر کا دامن تھامے رکھا یہاں تک کہ سیدنا عثمان غنیؓ مظلوم شہید ہوئے۔ اور یہ سب سے عظیم چیز ہے جس سے اللہ خطائیں معاف کر دیتا ہے۔

(ذوالنورین عثمان بن عفان: محمد مال اللہ: صفحہ 63)