*5: حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ:*
حافظ ابنِ عساکر الدمشقیؒ (متوفی 571ھ) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:
وَنَدِینُ بِحُبِّ السَّلَفِ الَّذِینَ اختَارَھمُ اللّٰه لِصُحبَۃِ نَبِیِّهِ، وَنُثنِی عَلَیهِم بِمَا أَثنٰی اللّٰه عَلَیهِم، وَنَتَوَلَّاھم، وَنَقُولُ: إِنَّ الإِمَامَ بَعدَ رَسُولِ اللّٰہِﷺ أَبُو بَکرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنهُ، وَإِنَّ اللّٰہَ أَعَزَّ بِهِ الدِّینَ وَأَظھرَهُ عَلَی المُرتَدِّینَ، وَقَدَّمَهُ المُسلِمُونَ لِلإِمَامَۃِ بِمَا قَدَّمَهُ رَسُولُ اللّٰہِﷺ لِلصَّلَاۃِ، ثُمَّ عُمَرُ بنُ الخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنهُ، ثُمَّ عُثمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنهُ، نَوَّرَ اللّٰہُ وَجهَهُ، قَتَلَهُ قَاتِلُوهُ ظُلمًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ عَلِیُّ بنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنهُ، فَھؤُلَاءِ الأَئِمَّۃُ بَعدَ رَسُولِ اللّٰہِﷺ، وَخِلَافَتُھم خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ، وَنَشھدُ لِلعَشرَۃِ بِالجَنَّۃِ الَّذِینَ شَھدَ لَھم رَسُولُ اللّٰہِﷺ بِالجَنَّۃِ، وَنَتَوَلّٰی سَائِرَ أَصحَابِ النَّبِیِّﷺ، وَنَکُفُّ عَمَّا شَجَرَ بَینَھم، وَنَدِینُ أَنَّ الأَئِمَّۃَ الأَربَعَۃَ رَاشِدُونَ مَھدِیُّونَ، فَضلًا لَا یُوَازِیھم فِی الفَضلِ غَیرُھم، فَتَصدِیقٌ بِجَمِیعِ الرِّوَایَاتِ الَّتِی ثَبَّتَھا أَھلُ النَّقلِ
(تبیین کذب المفتری: صفحہ 120، 121 باب: ما وصف من مجانبۃ اہل البدع وجہادہ الخ)
ترجمہ: اور ہم سلف کی محبت کا دین رکھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لیے چنا تھا، اور ہم ان کی صفت و ثنا کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت و ثنا کی، اور ہم ان سے تولا کا تعلق رکھتے ہیں، (تبرا کا نہیں) اور ہم کہتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد امامِ برحق حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے دین کو عزت دی اور انہیں مرتدین پر غالب کیا، اور مسلمانوں نے انہیں اسی طرح خلافت میں آگے کیا جس طرح رسول اللہﷺ نے انہیں نماز میں آگے کیا پھر امامِ برحق حضرت عمر فاروقؓ ہیں، پھر حضرت عثمانِ غنیؓ ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کے چہرے کو رونق بخشے۔ آپ کو آپ کے قاتلین نے ظلم و تعدی سے قتل کیا۔ پھر امامِ برحق حضرت علیؓ بن ابی طالب ہیں سو رسول اللہﷺ کے بعد یہی ائمہ ہیں اور ان کی حکومت خلافتِ نبوت تھی، اور ہم ان دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے جنت کی شہادت دیتے ہیں جن کے لیے رسول اللہﷺ نے جنت کی شہادت دی، اور ہم سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تولا (دوستی) کا تعلق رکھتے ہیں اور جو بھی اختلاف ہوا ان سے اپنے آپ کو روکتے ہیں، اور ہم بارگاہِ خداوندی میں اقرار کرتے ہیں کہ یہ ائمہ اربعہ ہی راشدین و مہدیین ہیں، اور کوئی بھی فضیلت میں ان کی برابری نہیں کر سکتا، اور ہم ان تمام روایات کو مانتے ہیں جنہیں محدثین نے مانا ہے۔