3: حضرت امام ابوبکر باقلانی رحمۃ اللہ:
حضرت امام ابوبکر باقلانیؒ (متوفی 403ھ) عقائد اہلِ سنت والجماعت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
یَعرِفُونَ حَقَّ السَّلَفِ الَّذِینَ اختَارَھمُ اللّٰه سُبحَانَه لِصُحبَۃِ نَبِیِّهِﷺ، وَیَأخُذُونَ بِفَضَائِلِھم، وَیُمسِکُونَ عَمَّا شَجَرَ بَینَھم صَغِیرِمھم وَکَبِیرھم، وَیُقَدِّمُونَ أَبَا بَکرٍ ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثمَانَ ثُمَّ عَلِیًّا رِضوَانُ اللّٰه عَلَیهِم، وَیُقِرُّونَ أَنَّھمُ الخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ المھدِیُّونَ، أَفضَلُ النَّاسِ کُلّھم بَعدَ النَّبِیِّ، وَیُصَدِّقُونَ بِالأَحَادِیثِ الَّتِی جَاءَت عَنِ الرَّسُولِﷺ۔
(کتاب التمہید: صفحہ 295 بحوالہ عبقات: صفحہ 287)
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت ان اسلاف کا حق پہچانتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا تھا وہ ان کے فضائل سے تمسک کرتے ہیں اور جو اختلاف ان میں چلے، خواہ چھوٹوں میں ہو یا بڑوں میں، اس اختلاف (میں بحث) سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہیں اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو سب سے مقدم سمجھتے ہیں، پھر حضرت عمر فاروقؓ کو، پھر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو، پھر حضرت علی المرتضیٰؓ کو، اور اقرار کرتے ہیں کہ یہی خلفائے راشدینؓ مہدیین ہیں اور نبی کریمﷺ کے بعد سب لوگوں سے افضل ہیں اور اہلِ سنت ان تمام احادیث کی تصدیق کرتے ہیں جو حضورﷺ سے ثابت ہیں۔