سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد ہونا
علی محمد الصلابیحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بعد فوراً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا آنا، اور پھر دونوں کی طبیعتوں میں اختلاف کا وجود رعیت کے معاملات میں دونوں کے اسلوب اور طرز تعامل میں تبدیلی کا سبب بنا، حضرت عمر فاروقؓ سخت طبیعت اور اپنے نفس اور ماتحتوں کا سختی سے احتساب کرنے والے تھے، جب کہ حضرت عثمان غنیؓ انتہائی نرم طبیعت اور معاملات میں نرمی برتنے والے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ اپنا اور دوسروں کا محاسبہ اس طرح نہیں کر پاتے تھے جس طرح حضرت عمر فاروقؓ کرتے تھے، چنانچہ حضرت عثمان غنیؓ خود فرماتے ہیں: اللہ عمر پر رحم فرمائے، ایسی طاقت کس کو ہے جیسی طاقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تھی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 418)
اگرچہ لوگ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے پہلے دور میں آپ کی طرف راغب ہوئے کیوں کہ آپ ان کے ساتھ انتہائی نرم تھے جب کہ حضرت عمر فاروقؓ ان پر سخت تھے، یہاں تک کہ سیدنا عثمان غنیؓ کی لوگوں سے محبت ضرب المثل بن گئی۔
لیکن آخری دور میں حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف اعتراضات شروع ہوئے، اور اس کا سبب آپؓ کی نرم خوئی اور طبیعت کی لطافت تھی، جس کا اثر حضرت عثمان غنیؓ کے دور اور حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں واقع ہونے والے واقعات کے درمیان فرق کے مظاہر میں رہا، حضرت عثمان غنیؓ کو اس کا پتہ تھا، چنانچہ سیدنا عثمان غنیؓ نے ان مجرمین سے کہا تھا جن کو قید کیا تھا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ جرأت میرے خلاف تمہارے اندر کہاں سے آئی ہے یہ جرأت تمہارے اندر میری بردباری سے پیدا ہوئی ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 250)
جب حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی حقیقت لوگوں کے سامنے آئی اور ان کے راز نمایاں ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے تمام اعتراضات کے شافی و کافی جوابات صحابہ کرامؓ اور دیگر لوگوں کے سامنے دیے تو مسلمان اس بات پر بضد ہوئے کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں اپنے حلم و بردباری کی وجہ سے یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ ہم ان کو معاف کر دیں گے، اور قبول کریں گے، اور اپنی کوشش بھر ان کو سمجھائیں گے، اور ہم کسی پر حد جاری نہیں کریں گے جب تک کسی واجب حد عمل کا ارتکاب نہ کرے اور کفر ظاہر نہ کرے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 364)