مناقشہ سوم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مناقشہ سوم

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 3

اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایمان و عملِ صالح والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خلیفہ بنانے کا وعدہ فرمایا ہے جو اس آیت کے نازل ہونے کے وقت موجود تھے، جس پر لفظ مِنۡكُمۡ دلالت کرتا ہے جو کہ نبی کریم، رحمت اللعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد مہاجرینِ صحابہ میں سے بالترتیب صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانِ غنیؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کو ہی خلافت و جانشینی کا عظیم شرف نصیب ہوا ہے اس لیے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن خلفاء کے متعلق اس آیت میں وعدہ فرمایا تھا، وہ یہی چار ہیں اور ان کی خلافت قرآن کی موعودہ خلافت ہے اگر ان چاروں خلفاء کو اس آیت کا مصداق نہ قرار دیا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور آیت میں مِنۡكُمۡ کی قید کی وجہ سے بعد کے خلفاء اس آیت کا مصداق قرار نہیں دیئے جا سکتے، خواہ حضرت حسنؓ ہوں یا حضرت امیرِ معاویہؓ، اور خواہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ہوں یا قربِ قیامت میں پیدا ہونے والے حضرت مہدیؒ جو امتِ محمدیہﷺ کے آخری ہادی و مجدد ہوں گے اور جن کی عادلانہ اسلامی حکومت کے بارے میں احادیث میں پیش گوئی موجود ہے۔ ان مابعد خلفاء کو بعض حضرات نے جو خلفائے راشدینؓ میں شمار کیا ہے تو وہ لغوی معنیٰ میں ہے کہ ان کی حکومتیں بھی برحق خلافتیں ہیں اور وہ بھی رشد و ہدایت والے ہیں، لیکن اصل خلفائے راشدینؓ یہی خلفائے اربعہ (چار یار) ہیں جو قرآن کی موعودہ خلافت کا صحیح مصداق ہیں اور ان کے بعد آنے والے خلفاء اس آیت کے موعودہ خلفاء نہیں قرار دیئے جا سکتے، کیونکہ حسبِ آیتِ تمکین اس آیتِ استخلاف سے مراد بھی وہی خلفاء ہیں جو مہاجرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہوں گے۔

(سنی مؤقف: 52، 53 تحت آیتِ استخلاف)


صفحہ 3 از 3