مناقشہ سوم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مناقشہ سوم

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 3

ہاں! ان دونوں بزرگوں (یعنی حضرت حسن و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما) کو ان کی صفاتِ عالیہ اور رشد و ہدایت کی بدولت حکماً خلیفہ راشد کہہ سکتے ہیں، لیکن قرآن کی مراد کے تحت ان کو موعودہ خلیفہ راشد نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ خلافتِ راشدہ صرف مہاجرینِ اولین کے ساتھ خاص ہے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تمام تر فضائل و کمالات کے باوجود مہاجرین میں داخل نہیں ہیں جن حضرات نے سیدنا حسنؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ کو خلیفہ راشد کہا ہے، وہ حکماً کہا ہے ورنہ یہ بات ہر ایک کے نزدیک مسلم ہے کہ اصطلاحاً خلیفہ راشد صرف چار ہیں قائدِ اہلِ سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃ اللہ (متوفی 1424ھ) آیتِ تمکین و آیتِ استخلاف کی وضاحت میں فرماتے ہیں:

آیتِ تمکین (اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ وَلَوۡلَا دَ فۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ 

(سورۃ الحج: آیت 40 41)  

ترجمہ: وہ لوگ جن کو نکالا ان کے گھروں سے ناحق، سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو گر جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام بہت پڑھا جاتا ہے اور اللہ ضرور مدد کرے گا اس کی جو اس کی مدد کرے بے شک اللہ زبردست زور والا ہے وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قدرت دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے منع کریں گے اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام ہر کام کا)

میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ایک اعلان فرمایا ہے (جن کو کافروں نے گھروں سے نکال دیا تھا اور وہ رسولِ اکرمﷺ کے حکم کے تحت مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو گئے تھے) کہ اگر ہم ان کو ملک میں حکومت و اقتدار دے دیں تو وہ ضرور ان چار کاموں کی تکمیل کریں گے۔ اور چونکہ ان مہاجرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے آنحضرتﷺ کے بعد صرف ان چار اصحاب ہی کو ملکی اقتدار عطا فرمایا گیا یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ اس لیے حسبِ اعلانِ خداوندی قرآن پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یہ قطعی عقیدہ لازم ہے کہ ان چاروں خلفاء نے ضرور وہ کام سر انجام دیئے ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے یعنی اقامتِ صلوٰۃ، ایتاءِ زکوٰۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اگر کوئی شخص باوجود اس اعلانِ خداوندی کے ان خلفائے اربعہ کو برحق تسلیم نہیں کرتا تو وہ اس آیت کا منکر ہے اور اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا مذکورہ اعلان صحیح ثابت نہیں ہوا۔ العیاذ باللہ۔ اور اس آیت کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ مذکورہ تمکین و اقتدار کا وعدہ مابعد کے خلفاء کے لیے ہے، کیونکہ یہ اعلان اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ کے لیے ہے جو مہاجرینِ صحابہ ہیں اور سوائے ان چار خلفاء کے صحابہؓ میں سے اور کسی مہاجر صحابی کو خلافت نہیں ملی اسی بناء پر ان چاروں خلفاء کی خلافت کو خصوصی طور پر خلافتِ راشدہ کہتے ہیں جو قرآن کی موعودہ خلافت ہے اور یہ خلافت ان چار یار ہی میں منحصر ہے۔

آیت استخلاف (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَـنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًـا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞

(سورۃ النور: آیت 55)  

ترجمہ: اللہ نے وعدہ کر لیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ البتہ انہیں زمین میں خلیفہ بنا دے گا، جیسا کہ ان سے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا، اور ان کے لیے ان کا دین مضبوط کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔)

صفحہ 2 از 3