حدیثِ شریف میں آتا ہے کہ:
فَإِنَّهُ مَن یَعِش مِنکُم بَعدِی فَسَیَرَی اختِلَافًا کَثِیرًا، فَعَلَیکُم بِسُنَّتِی وَ سُنَّۃِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ المَھدِیِّینَ، تَمَسَّکُوا بِھا وَعَضُّوا عَلَیھا بِالنَّوَاجِذِ
(جامع ترمذی: جلد2 صفحہ92 کتاب العلم، باب ما جاء فی الاخذ بالسنۃ الخ، سنن ابی داؤد: جلد 2 صفحہ 279 کتاب السنۃ، باب لزوم السنۃ، مشکوٰۃ المصابیح: صفحہ30 کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ابنِ ماجہ: صفحہ5 باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین، مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 95)
ترجمہ: تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا اس لیے میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدینؓ جو ہدایت یافتہ ہیں، کی سنت کو لازم پکڑو اور اس کو دانتوں سے مضبوط تھام لو۔
مصنفِ نام و نسب مذکورہ بالا حدیثِ مبارکہ نقل کرنے کے بعد ارقام فرماتے ہیں:
آنحضرتﷺ کے اس ارشادِ گرامی کے مطابق اس کی سنت کا اتباع ضروری ہو گا، جس کے عہدِ اقتدار میں خلفائے راشدینؓ کی معنویت پائی جائے اور جس کے دورِ اقتدار میں خلافتِ راشدہ کا رنگ ڈھنگ نہ ہو، اس کی سنت کا اتباع نہ کیا جائے گا اور پھر یہ حکم دورِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ تک ہی محدود نہیں، اس کے مخاطبین اول صحابہ کرامؓ اور پھر قیامت تک آنے والی امتِ مسلمہ ہے۔
(بالکل یہی بات جناب محمود احمد عباسی بھی فرماتے ہیں اور مصنفِ نام و نسب اس باب میں ضرور جناب عباسی کے ہم نوا و ہم عقیدہ ہیں عباسی صاحب حدیث فَعَلَیکُم بِسُنَّتِی الخ کے تحت ارقام فرماتے ہیں:
جن لوگوں نے راشدون کی تعداد چار مقرر کر دی ہے وہ بے دلیل ہے، بلکہ اسے بھی چوتھی صدی ہجری کی اختراع کہنا چاہیے، کیونکہ تمام نصوصِ صریحہ و ثابتہ اور تعاملِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ہے راشدون کی نہ کوئی تعداد معین ہے اور نہ اس سلسلے میں زمانے کی کوئی تحدید ہے، بلکہ اس امر کی صراحت ہے کہ یہ سلسلہ صدیوں تک رہے گا۔
(حقیقتِ خلافت و ملوکیت: صفحہ، 11)
اس تفصیلی جائزے سے ایک منصف مزاج اور ذی عقل انسان بنو امیہ کی دینی حیثیت و مقام کا خود اندازہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ بھی کوئی شک و شبہ ذہن کے کسی گوشے میں جاگزین ہو، جبکہ ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا، تو ایسی صورت میں ان افراد کے لیے ہم بارگاہِ ایزدی میں یہی دعا کر سکتے ہیں:
بہ ایں بے حاصلان یادانشے یا مرگِ نا گاہے
(نام و نسب: صفحہ555)
الجواب: مصنفِ نام و نسب نے اپنی کمالِ فیاضی اور زورِ اجتہاد سے پوری امتِ مسلمہ کو (سوائے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے) اس حدیثِ مبارکہ کے عموم میں داخل کر دیا ہے حالانکہ کسی آیت یا حدیث کے عموم و خصوص کا فیصلہ اکابرِ علمائے امت، حضراتِ محدثین و فقہائے کرامؒ کا فریضہ ہے خود مصنف نام و نسب بھی اصولی طور پر ہمارے اس بیان کو تسلیم کرتے ہیں چنانچہ فسقِ یزید کے بیان میں حدیث مغفور لھم پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
(کسی) حدیث کا مطلب 1400 سال گزرنے کے بعد تبدیل نہیں ہو سکتا شارحینِ حدیث جن کے قلوب مفہومِ حدیث کے امین تھے اور جنہوں نے حدیث کی خدمت و اشاعت میں اپنی پوری زندگیاں گزار دیں، وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ حدیث کا مفہوم و مطلب بیان کریں۔
(نام و نسب: صفحہ508)
ہمارا بھی مصنفِ نام و نسب کو یہی مشورہ ہے کہ کم از کم اپنی ہی کہی بات پر تو عمل کریں آئیے جمہورِ محدثین کی تشریح و توضیح میں یہ معلوم کریں کہ (موعودہ) خلفائے راشدینؓ کتنے بزرگ ہیں؟ زیرِ بحث حدیث کے سلسلے میں حضراتِ محدثین کی تحقیق کیا ہے؟ اور کون کون سے بزرگ ان کے نزدیک اس حدیث کے عموم میں داخل ہیں؟
حضراتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم آنحضرتﷺ کے مسلسل و بلا فصل جانشین ہیں، انہیں ائمہ اربعہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی حکومت مطلق حکومت نہیں، بلکہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہے اور امتِ مسلمہ شروع ہی سے ان چار بزرگوں (یعنی حضراتِ شیخینؓ و حضراتِ ختنینؓ) کو جانشینِ رسولﷺ اور ان کی خلافت کو تتمہِ مصطفویﷺ سمجھتی آئی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ (متوفی 1176ھ) لکھتے ہیں:
ایام خلافت بقیہ ایام نبوت بودہ است۔
(ازالۃ الخفاء: جلد 1 صفحہ 100)
ترجمہ: خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کا زمانہ بقیہ زمانہِ نبوت تھا۔
سیدنا حسنؓ کا عہدِ خلافت، خلافتِ راشدہ کا تتمہ و تکملہ تھا اس سے مراد یہ نہیں کہ آپؓ کی خلافت، خلفائے اربعہ کی طرح قرآن کی موعودہ خلافتِ راشدہ ہے اس خلافتِ راشدہ کا تتمہ اس لیے کہا گیا کہ خلافتِ راشدہ کے بعض مقاصد کی تکمیل (سیدنا معاویہؓ کے ساتھ مصالحت، جس کی پیش گوئی حدیثِ شریف میں مذکور ہے) آپؓ کے عہدِ خلافت میں ہوئی تھی دوسرا آپ کا عہدِ خلافتِ تامہ بھی نہیں تھا، کیونکہ آپؓ نے قمیصِ خلافت اتار کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حوالے کر دی خود خلافت سے دستبردار ہو کر ان کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہدِ خلافت ایک مثالی عہدِ خلافت تھا جس میں کتاب و سنت کو آئینی بالا دستی حاصل تھی، لیکن آپؓ کا عہدِ خلافت استخلافاً نہیں بلکہ صلحاً وجود میں آیا تھا خلافتِ راشدہ (موعودہ) کے لیے جن اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے، وہ سوائے مہاجرین کے اور کسی میں نہیں پائے جاتے اور سوائے خلفائے اربعہ کے کوئی بھی خلیفہ ان صفات سے متصف نہیں ہے اس لیے خلفائے راشدینؓ صرف چار ہیں جو قرآنِ پاک کی آیتِ تمکین و استخلاف کے مصداق ہیں۔
ہاں! ان دونوں بزرگوں (یعنی حضرت حسن و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما) کو ان کی صفاتِ عالیہ اور رشد و ہدایت کی بدولت حکماً خلیفہ راشد کہہ سکتے ہیں، لیکن قرآن کی مراد کے تحت ان کو موعودہ خلیفہ راشد نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ خلافتِ راشدہ صرف مہاجرینِ اولین کے ساتھ خاص ہے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تمام تر فضائل و کمالات کے باوجود مہاجرین میں داخل نہیں ہیں جن حضرات نے سیدنا حسنؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ کو خلیفہ راشد کہا ہے، وہ حکماً کہا ہے ورنہ یہ بات ہر ایک کے نزدیک مسلم ہے کہ اصطلاحاً خلیفہ راشد صرف چار ہیں قائدِ اہلِ سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃ اللہ (متوفی 1424ھ) آیتِ تمکین و آیتِ استخلاف کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
آیتِ تمکین (اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ وَلَوۡلَا دَ فۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ
(سورۃ الحج: آیت 40 41)
ترجمہ: وہ لوگ جن کو نکالا ان کے گھروں سے ناحق، سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو گر جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام بہت پڑھا جاتا ہے اور اللہ ضرور مدد کرے گا اس کی جو اس کی مدد کرے بے شک اللہ زبردست زور والا ہے وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قدرت دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے منع کریں گے اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام ہر کام کا)
میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ایک اعلان فرمایا ہے (جن کو کافروں نے گھروں سے نکال دیا تھا اور وہ رسولِ اکرمﷺ کے حکم کے تحت مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو گئے تھے) کہ اگر ہم ان کو ملک میں حکومت و اقتدار دے دیں تو وہ ضرور ان چار کاموں کی تکمیل کریں گے۔ اور چونکہ ان مہاجرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے آنحضرتﷺ کے بعد صرف ان چار اصحاب ہی کو ملکی اقتدار عطا فرمایا گیا یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ اس لیے حسبِ اعلانِ خداوندی قرآن پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یہ قطعی عقیدہ لازم ہے کہ ان چاروں خلفاء نے ضرور وہ کام سر انجام دیئے ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے یعنی اقامتِ صلوٰۃ، ایتاءِ زکوٰۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اگر کوئی شخص باوجود اس اعلانِ خداوندی کے ان خلفائے اربعہ کو برحق تسلیم نہیں کرتا تو وہ اس آیت کا منکر ہے اور اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا مذکورہ اعلان صحیح ثابت نہیں ہوا۔ العیاذ باللہ۔ اور اس آیت کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ مذکورہ تمکین و اقتدار کا وعدہ مابعد کے خلفاء کے لیے ہے، کیونکہ یہ اعلان اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ کے لیے ہے جو مہاجرینِ صحابہ ہیں اور سوائے ان چار خلفاء کے صحابہؓ میں سے اور کسی مہاجر صحابی کو خلافت نہیں ملی اسی بناء پر ان چاروں خلفاء کی خلافت کو خصوصی طور پر خلافتِ راشدہ کہتے ہیں جو قرآن کی موعودہ خلافت ہے اور یہ خلافت ان چار یار ہی میں منحصر ہے۔
آیت استخلاف (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَـنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًـا وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞
(سورۃ النور: آیت 55)
ترجمہ: اللہ نے وعدہ کر لیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ البتہ انہیں زمین میں خلیفہ بنا دے گا، جیسا کہ ان سے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا، اور ان کے لیے ان کا دین مضبوط کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔)
اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایمان و عملِ صالح والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خلیفہ بنانے کا وعدہ فرمایا ہے جو اس آیت کے نازل ہونے کے وقت موجود تھے، جس پر لفظ مِنۡكُمۡ دلالت کرتا ہے جو کہ نبی کریم، رحمت اللعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد مہاجرینِ صحابہ میں سے بالترتیب صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانِ غنیؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کو ہی خلافت و جانشینی کا عظیم شرف نصیب ہوا ہے اس لیے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن خلفاء کے متعلق اس آیت میں وعدہ فرمایا تھا، وہ یہی چار ہیں اور ان کی خلافت قرآن کی موعودہ خلافت ہے اگر ان چاروں خلفاء کو اس آیت کا مصداق نہ قرار دیا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور آیت میں مِنۡكُمۡ کی قید کی وجہ سے بعد کے خلفاء اس آیت کا مصداق قرار نہیں دیئے جا سکتے، خواہ حضرت حسنؓ ہوں یا حضرت امیرِ معاویہؓ، اور خواہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ہوں یا قربِ قیامت میں پیدا ہونے والے حضرت مہدیؒ جو امتِ محمدیہﷺ کے آخری ہادی و مجدد ہوں گے اور جن کی عادلانہ اسلامی حکومت کے بارے میں احادیث میں پیش گوئی موجود ہے۔ ان مابعد خلفاء کو بعض حضرات نے جو خلفائے راشدینؓ میں شمار کیا ہے تو وہ لغوی معنیٰ میں ہے کہ ان کی حکومتیں بھی برحق خلافتیں ہیں اور وہ بھی رشد و ہدایت والے ہیں، لیکن اصل خلفائے راشدینؓ یہی خلفائے اربعہ (چار یار) ہیں جو قرآن کی موعودہ خلافت کا صحیح مصداق ہیں اور ان کے بعد آنے والے خلفاء اس آیت کے موعودہ خلفاء نہیں قرار دیئے جا سکتے، کیونکہ حسبِ آیتِ تمکین اس آیتِ استخلاف سے مراد بھی وہی خلفاء ہیں جو مہاجرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہوں گے۔
(سنی مؤقف: 52، 53 تحت آیتِ استخلاف)