مفتوحہ علاقوں کے باشندے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مفتوحہ علاقوں کے باشندے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 381)

فتنہ کا ماحول تیار کرنے میں مرتدین کی جماعتیں ایک خاص عنصر کی حیثیت رکھتی تھیں۔ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مرتدین تھے، لیکن جو نئی چیز رونما ہوئی وہ یہ کہ سیدنا عثمان غنیؓ کی مرتدین سے متعلق سیاست اپنے پیش رو دونوں خلفاء سے مختلف رہی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اپنے گورنروں اور قائدین کو لکھتے تھے کہ اعدائے اسلام سے جہاد میں کسی مرتد سے مدد نہ لیں، اور خالد بن ولید اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہما کو تاکید فرماتے کہ ان کے ساتھ کوئی ایسا شخص شریک جہاد نہ ہو جو ارتداد کا شکار ہو چکا ہے تاوقتیکہ وہ ان سے متعلق کوئی رائے نہ دیں۔ آپ کے دور خلافت میں کوئی بھی مرتد جہاد میں شرکت نہ کر سکا۔

(عبداللہ بن سبا و اثرہ فی احداث الفتنۃ: سلیمان العودۃ: صفحہ 155)

امام شعبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں کسی مرتد سے جنگوں میں تعاون نہیں لیا یہاں تک کہ وفات پا گئے۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 347)

اسی لیے بعض وہ حضرات جو ارتداد کا شکار ہوئے اور پھر دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے اور اچھے مسلمان بنے لیکن پھر بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے آنے سے شرماتے تھے، چنانچہ طلیحہ بن خویلد مکہ عمرہ کرنے جاتے لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ملاقات کرنے کی جرأت نہ کرتے یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ وفات پا گئے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 59) 

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس سیاست میں تھوڑی ڈھیل دی گئی چنانچہ شام و عراق کو زیر کرنے کے لیے انہیں استعمال کیا جانے لگا۔

(عبداللہ بن سبا و اثرہ فی احداث الفتنۃ: صفحہ 156) 

چنانچہ قادسیہ کی جنگ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لشکر میں قیس بن مکشوح مرادی اور عمرو بن معدیکرب شریک تھے، وہ لوگوں کو ہمت دلاتے اور ان کے جذبات کو برانگیختہ کرتے تھے اور یہ حضرت عمر فاروقؓ کی اجازت کے بعد ہوا تھا۔

(ایضاً)

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی سیاست میں یہ تجاوز ڈر اور احتیاط کے ساتھ تھا، اس کے لیے متعین ضوابط و شروط تھے، چنانچہ ایسے حضرات سو سپاہیوں کے ذمہ دار نہیں بنائے جا سکتے تھے، اس لیے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے قیس بن مکشوح مرادی کو صرف ستر سپاہی سونپے تھے، جو ہریر کی رات عجم پر حملہ آور ہوئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 382)

سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنے دور میں ان شرائط و قیود کو ختم کر دیا جو آپ کے پیشر و دونوں خلفاء نے مرتدین کے سلسلہ میں عائد کی تھیں۔ اور آپ نے یہ سمجھا کہ ارتداد پر ایک عرصہ گزر جانے کے بعد حالات نے ان پرانے تصورات کو ختم کر دیا ہو گا اور ان کے نفوس کی تطہیر ہو چکی ہو گی اس لیے آپ نے اجتہاد کر کے ان حضرات کو استعمال کیا تاکہ اس طرح ان کی اصلاح ہو جائے، لیکن ان کی اصلاح نہ ہو سکی بلکہ فساد ہی میں اضافہ ہوا۔ بقول شاعر:

و کنت و عمرا کالمسمن کلبہ

فتخدشہ انیابہ و اظافرہ 

(عبداللہ بن سبا و اثرہ فی احداث الفتنۃ: صفحہ 157)

’’زندگی کی قسم تو اس شخص کی طرح ہے جو اپنے کتے کو کھلا کھلا کر موٹا کرتا ہے اور پھر وہی کتا اس کو اپنے دانتوں اور ناخنوں سے نوچ کھاتا ہے۔‘‘

ارتداد کا شکار ہونے والوں کو کام میں لانے کا نتیجہ کوفہ میں یہ رونما ہوا کہ وہاں کے لوگ بدل گئے، اور ان کے سپہ سالار عبدالرحمٰن بن ربیعہؓ ترکوں کے ساتھ جنگ میں شہید ہوئے، یہی وہ جرنیل تھے کہ جب یہ حضرت عمر بن خطابؓ کے دور میں ان سے قتال کرتے تو لوگ خوف زدہ رہتے، اور کہتے تھے کہ ان کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں جو موت سے انہیں بچاتے ہیں، اسی لیے ہمارے خلاف یہ اتنی جرأت اور جواں مردی سے لڑتے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 146)

اس کے آثار واضح طور سے اس فتنہ میں نمایاں ہیں جس کے نتیجہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت پیش آئی، چنانچہ ہم حضرت عثمان غنیؓ کے سلسلہ میں متہم افراد کی فہرست میں ان حضرات کا نام پاتے ہیں جن کا تعلق ان قبائل سے تھا جو ارتداد کا شکار ہوئے جیسے سودان بن حمران سکونی، قتیرہ بن فلان سکونی، حکیم بن جبلہ عبدی۔

(عبداللہ بن سبأ و اثرہ فی احداث الفتنۃ: صفحہ 157)


صفحہ 2 از 2