مؤرخ شہیر حضرت علامہ ابنِ خلدون رحمۃاللہ - ردِ رافضیت |…

مؤرخ شہیر حضرت علامہ ابنِ خلدون رحمۃاللہ

  محمد ظفر اقبال

مؤرخ شہیر حضرت علامہ ابنِ خلدون رحمۃ اللہ:

اسی اتباعِ خلفائے راشدینؓ کے باعث حضرت امیرِ معاویہؓ کا عہدِ خلافت خلافتِ راشدہ معلوم ہوتا تھا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ خلیفہ راشد تھے (گو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت خلافتِ راشدہ موعودہ میں شامل نہ تھی۔) حضرت علامہ ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیں:  

وَقَد کَانَ یَنبَغِی أَن تُلْحَقَ دَولَۃُ مُعَاوِیَۃَ وَأَخبَارُهُ بِدُوَلِ الخُلَفَاءِ وَأَخبَارِهِم، فَهُوَ تَالِیھم فِی الفَضلِ وَالعَدَالۃِ وَالصُّحبَۃِ، وَلَا یُنظَرُ فِی ذٰلِکَ إِلَی حَدِیثِ الخِلَافَۃُ بَعدِی ثَلَاثُونَ فَإِنَّهُ لَم یَصِحَّ، وَالحَقُّ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ فِی عِدَادِ الخُلَفَاءِ وَحَاشَا لِلّٰه أَن یُشَبَّہَ مُعَاوِیَۃُ بِأَحَدٍ مِمَّن بَعدَهُ، فَهُوَ مِنَ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ  

(تاریخ ابنِ خلدون: جلد2 صفحہ1140 تحت: بیعۃ الحسن و تسلیمہ الامر لمعاویہ)  

ترجمہ: مناسب یہی تھا کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت اور ان کے حالات کو ہم اسی جلد میں خلفائے راشدینؓ کی خلافت اور ان کے تذکرے کے ساتھ ذکر کرتے، کیونکہ آپؓ کی فضیلت، عدالت اور مقامِ صحابیت میں ان کے تابع ہیں اور اس سلسلے میں حدیث الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ (کہ خلافت میرے بعد 30 سال رہے گی) کی طرف نہ دیکھنا چاہیے کیونکہ یہ پایہ صحت کو نہ پہنچی حق بات یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کا شمار خلفائے راشدینؓ میں ہے۔ حاشا و کلا، حضرت امیرِ معاویہؓ اپنے مابعد خلفاء کے ہرگز مشابہ نہیں، بلکہ وہ خلفائے راشدینؓ میں سے ہیں۔