فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے اسباب - دفاعِ اہلِ سنت |…

فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے اسباب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

 یہ عبادت گزار معاشرہ تھا عبادت کی روح ان کے تمام تصرفات میں واضح طور پر کارفرما تھی۔ اللہ کی رضا کے لیے یہ روح صرف فرائض و نوافل کی ادائیگی ہی میں نہیں بلکہ تمام اعمال کی ادائیگی میں موجود تھی، رعایا کی نگہداشت، قرآن و دین کی تعلیم، بیع و شراء، تجارت، بال بچوں کی تربیت، زن و شوہر کے تعلقات غرض کہ زندگی کے ہر میدان میں روح عبادت کار فرما تھی وہ اس کو عبادت تصور کر کے انجام دیتے تھے۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

یہ خلفائے راشدینؓ کے دور کے اہم ترین صفات ہیں لیکن جس قدر عہدِ نبویﷺ سے قریب ہوں یہ صفات قوی تر ہوں گی، اور جس قدر عہد نبویﷺ سے دوری ہو گی اس میں ضعف ہو گا۔ ان اوصاف نے مسلم معاشرہ کو آفاق کی بلندیوں پر قائم کر دیا تھا، اور اسلامی تاریخ میں اس دور کو ایک مثالی دور بنا دیا تھا اور اسی وجہ سے اسلام عجیب تیز رفتاری کے ساتھ پھیلا۔ اسلامی فتوحات کی تحریک فتوحات کی تاریخ میں سریع ترین تحریک رہی ہے، چنانچہ پچاس سال سے کم عرصہ میں اسلام مغرب میں بحر اوقیانوس سے لے کر مشرق میں ہندوستان تک پھیل گیا۔ یہ صورتحال ضبط تحریر میں لانے اور نمایاں کیے جانے کی مستحق ہے، اور اسی طرح مفتوحہ علاقوں میں بلاظلم و جور کے لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا بھی۔

یہ اوصاف و خصائص جس سے اسلامی معاشرہ متصف تھا اس صورت حال کا حقیقی سرمایہ تھا، لوگوں نے جب اسلام کو اس عجیب اور خوبصورت و روشن شکل میں معمول بہ پایا تو اس کو پسند کیا، اور ان کی خواہش ہوئی کہ وہ اس دین کو اپنے سینوں سے لگا کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 103)

اس دور کی تاریخ کا مطالعہ انسان کے اندر نہ مٹنے والے تاثرات چھوڑتا ہے، اسلام کی حقانیت پرستی اپنے تمام شواہد کے ساتھ حقیقت کی دنیا میں قابل تنفیذ ہے۔ یہ فضا میں لٹکی ہوئی مثالیات نہیں ہے جو صرف تخیلات اور آرزو و تمنا سے متعلق ہوں بلکہ یہ عالم وجود میں واقع ہونے والی مثالیات ہیں، اگر انسان لازم سنجیدگی کے ساتھ کماحقہ کوشش کرے تو پھر ان کی تطبیق انسان کی دسترس میں ہے، اور پھر یہ تاثر کہ جو چیز ایک مرتبہ واقع ہو چکی ہے وہ دوبارہ بھی واقع ہو سکتی ہے کیوں کہ آج کا انسان وہی انسان ہے اور انسان نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ دوبارہ بلندیوں کو طے کرے، اگر عزم صادق ہے تو ضرور طے کرے گا اور غلبہ و نصرت اسے حاصل ہو گی۔

ارشاد الہٰی ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔

جو امور مسلمانوں کے خلافتِ راشدہ کی طرف پلٹنے کے سلسلہ میں معاون ہو سکتے ہیں ان میں سے ان عوامل و اسباب کی معرفت ہے جو زوال کا سبب بنے ہیں، تاکہ ہم ان سے اجتناب کریں، اور ان اسباب کو اختیار کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تکریم کا سبب بنایا ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے اسباب کو اس کی اہمیت کے پیش نظر تفصیل سے بیان کریں۔ چنانچہ اہم ترین اسباب یہ تھے:


صفحہ 2 از 2