وقوع فتنہ سے متعلق نبی کریمﷺ کے خبر دینے کی حکمتیں - دفاعِ…

وقوع فتنہ سے متعلق نبی کریمﷺ کے خبر دینے کی حکمتیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

2: ان احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے مابین فتنۂ قتال ضرور رونما ہو گا، اس کا انکار ممکن نہیں، صحابہ و تابعین کے دور سے لے کر آج تک تمام اسلامی ادوار میں یہ چیز رہی ہے، لیکن ضروری یہ ہے کہ اس قتال کے اسباب کی معرفت حاصل کی جائے تاکہ اس سے بچا جا سکے، اور جب بھی اسلامی ممالک میں یہ فتنہ سر اٹھائے تو اس کو بجھانے کی سعی و کوشش کی جائے، اور یہ بالکل مناسب نہیں کہ ہم تماش بین بنے رہیں۔

3: اللہ تعالیٰ کی اس امت پر بڑی رحمت ہے وہ دنیا ہی میں اس کے گناہوں کو مٹانا چاہتا ہے۔ یہ قتال و فتن اور زلزلے جو رونما ہوتے ہیں اس سے اس امت کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔

4: ان احادیث میں سے بعض کے اندر پوری صراحت کے ساتھ واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر فتنے مشرق سے رونما ہوں گے اور حقیقت میں بھی ایسا ہی رہا ہے چنانچہ پہلا فتنہ کوفہ و بصرہ سے شروع ہوا، اور فتنہ جمل بھی یہیں رونما ہوا۔

5: فتنہ میں ملوث لوگ تھوڑی دنیا کے عوض اپنے دین کا سودا کر لیں گے، شہوتوں اور شبہات کا دور دورہ ہو گا، صحیح اسلام کے حاملین اپنے برتاؤ و تصرف میں اجنبی ہو کر رہ جائیں گے، اور دین کو تھامنے والا اس شخص کی مانند ہو گا جو ہاتھ میں انگارے یا کانٹے لیے ہوئے ہو، اور جو کچھ تکلیف و اذیت دین کی راہ میں لاحق ہو اس پر صابر ہو اور ثواب کی امید لگائے ہو۔

6: فتنہ میں اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو محفوظ رکھے گا، فتنہ انہیں لاحق نہیں ہو گا، اور ان کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے آلودہ نہیں ہوں گے، اور وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں گے، اور اسلام کے صحیح مبادی و اصول رحمت و اخوت کی طرف دعوت دیں گے، اور ان کا یہ موقف یقیناً انوکھا ہو گا، جب کہ چہار سو فتنہ برپا ہو گا، خواہشات نفس کا دور دورہ ہو گا۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 346-348)

7: فتنہ میں زبان کا کردار تلوار سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے، بلکہ زبان ہی سے اکثر فتنے اور مصیبتیں جنم لیتی ہیں، بعض دفعہ زہر آلود کلمہ زبان سے نکلتا ہے اور دلوں میں آگ لگا دیتا ہے، نفس میں پوشیدہ چیزوں کو بھڑکا دیتا ہے، جذبات کو برانگیختہ کر دیتا ہے، اور خونخوار فتنہ کا سبب بن جاتا ہے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 348)

8: فتنہ میں علم کم ہو جاتا ہے، علماء کی وفات کی وجہ سے یا پھر علماء سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے سکوت و اعتزال اختیار کر لیتے ہیں، یا لوگ ہی کسی سبب سے ان سے اعراض کر لیتے ہیں، جہالت کا دور دورہ ہوتا ہے، لوگ جاہلوں کو اپنا قائد و امیر بنا لیتے ہیں بغیر علم کے وہ فتوے دیتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، بے کار اور کم درجہ کے لوگوں کا دور دورہ ہوتا ہے، اور بیوقوفوں کا غلبہ ہوتا ہے۔

(ایضاً)

9: ان احادیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو ضمانت دی ہے کہ اس امت کو فاقہ و قحط سے ہلاک نہ کرے گا، دشمن کو اس پر اس طرح مسلط نہیں کرے گا کہ وہ ہمیشہ اس پر غالب رہے، خواہ اس دشمن کی کتنی بھی قوت و طاقت کیوں نہ ہو، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس امت میں اختلاف نہ ہونے کی ضمانت نہیں دی ہے،

لہٰذا اسی دروازہ سے خارجی دشمن داخل ہو گا، امت جب آپس میں اختلاف مچائے گی، اور بعض بعض کو قتل کریں گے تو اس سے اسباب قوت کمزور پڑ جائیں گے، اور دشمن کو غلبہ حاصل ہو گا، اور پھر وہ اس کے خیرات و امکانیات سے کھیلے گا، اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک امت وحدت و اتفاق اور نفاذ شریعت کے ذریعہ سے قوت نہ حاصل کر لے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 348)

10: ان احادیث میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ فتنہ کا وقوع اور اس کا استمرار اسلام کی ہدایت سے منحرف فرقوں کے ظہور اور اہل باطل کے غلبہ کا سبب ہے۔

11: فتنہ میں لوگوں کے اخلاق بدل جائیں گے، کیوں کہ اس وقت لوگ عمل صالح اور خیر کے کاموں سے دور ہو جاتے ہیں، اور ان کے درمیان عداوت و دشمنی، کینہ و بغض برپا ہوتا ہے، اور معاملات لوگوں کے لیے گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔

12: ان احادیث میں بیان ہوا ہے کہ ان فتنوں سے قبل امن و استقرار بحال ہو گا، لوگوں کے مادی اور امنی حالات درست ہوں گے، مسافر عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے گا اس کو راستہ بھولنے کے سوا اور کسی چیز کا خوف نہ ہو گا، اور یہ عہدِ عثمانی میں بالکل عیاں ہے جب کہ آپ کا دور امن و استقرار کا دور تھا، چاروں طرف سے مال و متاع کے سوتے پھوٹ رہے تھے، پھر فتنہ کا آغاز ہوا اور ان سب کو مٹا دیا اور حالت امن خوف میں بدل گئی۔

13: فتنہ میں اچھے لوگ اور عقل والے فہم و بصیرت کے مالک قتل ہو جاتے ہیں، اور بیکار لوگ باقی رہتے ہیں۔ معروف و منکر گڈمڈ ہو جاتا ہے نہ معروف کا حکم دیا جاتا ہے اور نہ منکر سے روکا جاتا ہے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 349۔350)

احادیث فتن کے یہ بعض دروس و معانی ہیں جنھیں یہاں بیان کیا گیا۔


صفحہ 2 از 2