حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات اور آپ کے بچوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اپنے بچوں میں ضم کر لینا
علی محمد الصلابیغزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ سے لوگوں نے عرض کیا: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے، ان کے اونٹ نے انہیں پیچھے رکھا۔ آپﷺ نے فرمایا: چھوڑو! اگر اس کے اندر خیر ہو گی تو اللہ تعالیٰ تم سے ملا دے گا، اور اگر ایسا نہیں تو اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنے اونٹ پر انتظار کیا، لیکن جب دیکھا کہ وہ آگے نہیں بڑھ رہا ہے تو اپنا ساز و سامان اس سے اتارا، اور اپنی پیٹھ پر لاد کر رسول اللہﷺ کے پیچھے پیدل چل دیے۔ رسول اللہﷺ نے اثنائے سفر میں ایک منزل پر قیام فرمایا، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کسی کو آتے ہوئے دیکھا، آپﷺ نے فرمایا: اللہ کرے ابوذر ہوں، جب لوگوں نے غور کیا تو کہا: یا رسول اللہﷺ! اللہ کی قسم وہ تو ابوذر ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ تنہا چلیں گے، تنہا ہی مریں گے، اور تنہا ہی اٹھائے جائیں گے۔
(السیرۃ النبوۃ: ابن ہشام: جلد 4 صفحہ 178)
زمانہ گزرا، حضرت عثمان غنیؓ کا عہد خلافت آیا، حضرت ابوذر غفاریؓ نے ربذہ میں سکونت اختیار کی، اور جب وفات کا وقت آیا تو اپنی بیوی اور غلام کو وصیت کی کہ جب میں وفات پا جاؤں تو مجھے غسل دینا اور کفن پہنا کر میرا جنازہ اٹھا کر بیچ راستہ میں رکھ دینا، اور جو پہلا قافلہ گزرے اس سے کہنا یہ ابوذر کا جنازہ ہے۔ جب حضرت ابوذر غفاریؓ کی وفات ہو گئی تو آپ کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ ایک قافلہ کا گزر اس راستہ سے ہوا، قریب تھا کہ قافلہ آپؓ کو کچل دیتا، اتنے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ قافلے سے آگے بڑھے اور دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ حضرت ابوذر غفاریؓ کا جنازہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ رونے لگے اور کہا: رسول اللہﷺ نے سچ فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ ابوذر پر رحم فرمائے، یہ تنہا چلیں گے، تنہا وفات پائیں گے اور تنہا اٹھائے جائیں گے۔
(السیرۃ النبویۃ ابن ہشام: جلد 4 صفحہ 478 اس کی سند میں بریدہ بن سفیان اسلمی کو امام بخاری اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔) (مترجم)
پھر ان لوگوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور دفن کیا، اور ان کے بال بچوں کو لے کر مکہ روانہ ہوئے، اور انہیں حضرت عثمان غنیؓ کے حوالہ کر دیا، اور حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کی بیٹی کو اپنے بچوں میں شامل کر لیا۔
(التمہید والبیان فی مقتل الشہید عثمان: صفحہ 87، 88)
اور ایک روایت میں ہے ’’ہم نے ان کی بچی کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا: امیر المؤمنینؓ قریب ہی ہیں، ہم ان سے مشورہ کر لیں۔ ہم مکہ آئے اور امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا: اللہ ابوذر پر رحم فرمائے اور ربذہ میں ان کی سکونت کو معاف فرمائے، پھر حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے بچوں کو اپنے بچوں میں شامل کر لیا، پھر آپؓ مدینہ روانہ ہو گئے اور ہم عراق روانہ ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 314)