حضرت مروان بن حکم اموی رضی اللہ عنہ اور ان کے والد - دفاعِ…

حضرت مروان بن حکم اموی رضی اللہ عنہ اور ان کے والد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

رعیت کے ساتھ عدل و انصاف کرنے والے، قرابت داروں اور اثر و رسوخ کا استیصال کرنے والوں کی مجاملت سے انتہائی احتیاط برتنے والے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مروانؓ کے بھائی عبدالرحمٰن بن الحکم نے اہلِ مدینہ کے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا، اس نے حضرت مروانؓ سے شکایت کی، جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے، حضرت مروانؓ نے اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو طلب کیا اور اس غلام کے سامنے بٹھایا اور اس سے کہا: اس کو طمانچہ لگاؤ، اس غلام نے کہا: میرا یہ مقصود نہ تھا بلکہ میرا مقصود صرف اس کو یہ بتانا تھا کہ اس کے اوپر بھی ایک قوت ہے جو میری مدد کرے گی، اور میں نے اپنا یہ حق آپ کو ہبہ کر دیا۔ حضرت مروان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے قبول نہیں کروں گا، تم اپنا حق لے لو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں طمانچہ نہیں لگا سکتا، لیکن میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں۔ حضرت مروانؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں اسے قبول نہیں کر سکتا اگر تمھیں ہبہ کرنا ہے تو اس کو ہبہ کرو جس نے تم کو طمانچہ مارا ہے، یا پھر اللہ کے حوالہ کر دو، اس نے کہا: میں نے اللہ کے لیے ہبہ کر دیا۔ اس موقف سے عبدالرحمٰن سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھائی مروان کی ہجو میں اشعار کہے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 200)

حضرت مروانؓ کے علم و عدل اور فقہ و تدین کی یہ تصویر، اس ناپسندیدہ تصویر کے بالکل برعکس ہے جسے اکثر مؤرخین اور قصہ گو پیش کرتے ہیں، جنھوں نے حضرت مروانؓ کی زندگی کو بدنما کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ وفات کے وقت بھی حضرت مروانؓ کو نہیں بخشا بلکہ آپ کی شکل کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی، اور یہ گمان کر بیٹھے کہ آپ کی بیوی ام خالد بن یزید بن معاویہ نے تکیہ کے ذریعہ سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا، یا زہر دے دیا، کیوں کہ حضرت مروانؓ نے ان کے بیٹے خالد کو لوگوں کے سامنے گالی دے دی تھی۔ تناقضات سے پر اس قصہ پر پہلی نظر ڈالنے سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ قوم کی بوڑھیوں نے اسے گھڑا ہے، اور پھر لوگوں نے بلا سوچے سمجھے بیان کرنا شروع کر دیا اس کے پیچھے بکواس کرنے کا شوق اور اس بلند مقام خاندان کی شہرت و وجاہت اور شرف و منزلت پر حسد کارفرما رہا۔

(عبدالملک بن مروان: دیکھیے۔ الریس صفحہ 12)

حضرت مروانؓ کی موت طبعی تھی یا طاعون کے سبب ہوئی یا بیوی نے گلا گھونٹ دیا؟ روایات کا یہ تناقض اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقت معلوم نہیں۔ اور جن روایات میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بیوی نے خود یا بعض لونڈیوں کے ذریعہ سے قتل کر دیا تھا، یہ روایات مقبول اور معقول نہیں ہیں۔ یہ بیوی عبدشمس جیسے شریف گھرانے کی شریف خاتون تھی، شوہر اس کا قریبی رشتہ دار اور خلیفہ وقت تھا اس طرح یہ خاتون معمولی خاتون نہ تھی، خلیفہ کی بیوی اور خلیفہ (معاویہ بن یزید) کی ماں تھی۔ ایسا گھٹیا کام شریف زادیاں نہیں کیا کرتی ہیں، مزید قابل غور پہلو یہ ہے کہ اگر اس خاتون نے ایسا کیا تھا تو پھر اس کا خاندان کے اندر کوئی اثر نہیں آیا اور نہ خاندان میں کوئی اختلاف رونما ہوا، اور نہ کسی نے قصاص و بدلہ کا مطالبہ کیا، اور حضرت خالد بن یزیدؒ کا وہی مقام عبدالملک بن مروان کے ہاں باقی رہا، اور پھر اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو صرف قتل پر بات ختم نہ ہوتی، بلکہ جس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے قتل کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی کوشش کی جاتی۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 201)

بعض اہل علم نے بیان کیا ہے کہ حضرت مروانؓ نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی: جو جہنم سے ڈرا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اور آپ کی انگوٹھی (مہر) کا نقش ’’العزۃ للّٰه‘‘ تھا، اور بعض لوگوں نے کہا: ’’امنت بالعزیز الرحیم‘‘ لکھا تھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 262)

علامہ ابن قیم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ولید اور مروان بن الحکم کی مذمت میں جتنی احادیث بیان کی جاتی، سب جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔

(المنار المنیف: صفحہ 117، فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 77)


صفحہ 2 از 2