سیدنا سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

حضرت سعید بن العاصؓ انتہائی حکیم اور دانا انسان تھے۔ فرماتے ہیں: ’’میرے ہم نشین کے میرے اوپر تین حقوق عائد ہوتے ہیں: جب وہ میرے قریب آئے تو اس کو خوش آمدید کہوں، اور جب وہ بیٹھے تو اس کے لیے جگہ کشادہ کروں، اور جب گفتگو کرے تو اس کی طرف متوجہ ہوں۔‘‘ اور اپنے بیٹے سے فرمایا: ’’میرے لخت جگر بغیر سوال کے اللہ کے لیے بھلائی کرو اور جب تمہارے پاس انسان حاضر ہو اور اس کے چہرے پر خون دوڑ رہا ہو یا وہ اس حالت میں آئے کہ اس کو خطرہ ہو اور اسے معلوم نہیں کہ تم اسے دیتے ہو یا نہیں، اس حالت میں اللہ کی قسم اگر تم اپنا سارا مال اسے دے دو تب بھی اس کو پورا بدلہ نہ دیا۔‘‘ نیز فرمایا:’’ میرے بیٹے! شریف انسان سے مذاق نہ کرنا وہ تم سے کینہ رکھنا شروع کر دے گا، اور نہ کسی کم تر شخص سے مذاق کرنا تم اس کی نگاہوں سے گر جاؤ گے۔‘‘ ایک دن ایک عابدہ و زاہدہ خاتون کوفہ کی امارت کے دور میں ان کے پاس آئی، آپ نے اس کے ساتھ داد و دہش کی اور اچھا سلوک کیا تو اس خاتون نے آپ کو دعا دیتے ہوئے کہا: ’’اللہ کرے کسی کمینہ سے آپ کو ضرورت نہ پڑے، اور شریفوں کی گردن پر ہمیشہ احسان رہے، اور اللہ جب کسی شریف سے کوئی نعمت زائل کر دے تو آپؓ کو اس نعمت کو اس کی طرف واپس کرنے کا سبب بنائے۔‘‘

اور جب حضرت سعید بن العاصؓ کی وفات کا وقت آیا تو اپنے تمام بیٹوں کو جمع کیا اور فرمایا: ’’میرے ساتھی میرے علاوہ کسی چیز کو گم نہ پائیں، میں ان کے ساتھ جو سلوک کرتا ہوں تم برابر کرتے رہنا، جو میں انہیں دیتا ہوں تم برابر انہیں دیتے رہنا، انہیں مانگنے کی زحمت نہ اٹھانا پڑے، کیوں کہ انسان جب کسی سے کوئی چیز طلب کرتا ہے تو اس خوف سے کہ کہیں اس کی بات رد نہ کر دی جائے، اس کے اعضاء مضطرب ہو جاتے ہیں اور اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ اللہ کی قسم ایک شخص اپنے بستر پر تڑپ رہا ہو اور وہ تمھیں اس لائق سمجھ رہا ہے کہ تم اس کی ضرورت پوری کر سکتے ہو تو یہ اس کا تمہارے اوپر تمہارے مطلوبہ چیز دینے سے زیادہ احسان ہے۔‘‘ اس کے بعد اور بہت سی وصیتیں کیں۔ حضرت سعید بن العاصؓ کی وفات 58ھ میں ہوئی، اسی طرح 57ھ اور 59ھ کی بھی روایت ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 90) 



صفحہ 3 از 3