سیدنا سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

بفرض محال اگر مان لیں کہ جب موالی نے مذکورہ اشعار حضرت سعیدؓ کی کوفہ آمد کے وقت کہے تھے تو سوال یہ ہے کہ انہیں حضرت سعیدؓ کی سیاست کا پتہ کیسے چلا تھا کہ وہ بھوکے ماریں گے یا آسودہ کریں گے؟ اور تعجب ہے کہ راویوں نے اس خبر کو اس طرح بیان کیا ہے کہ خود اس کا بعض حصہ بعض کی تردید کرتا ہے، چنانچہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا، آپ نے ان کے درمیان سیرت عادلہ (یعنی عدل و انصاف کی روش) اختیار کی، بعض موالی یہ رجزیہ شعر کہتے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 279) 

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیرت عادلہ بھی ہو اور موالی کو بھوکا بھی مارے؟ وہاں تو خیر کثیر تھا، مال کی ایسی فراوانی تھی کہ سب کے لیے کافی تھا، بلکہ زائد تھا۔ سیرت عادلہ سے متصف تو خیر کو عام کرتا ہے، سب کو نوازتا ہے۔ 

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 213)

اللہ تعالیٰ قدیم مؤرخین پر رحم فرمائے وہ قارئین کے ساتھ حسن ظن رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے اپنی کتابوں میں متناقض اور متضاد روایات کو جمع کر دیا، انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ ہر دور کے قارئین کھرے اور کھوٹے کے درمیان تفریق کر لیں گے۔ وہ معذور ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنے دور کے لوگوں کے لیے تصنیف کی تھیں وہ یہ نہیں جان سکے کہ بعد کے ادوار میں ایسے لوگ ہوں گے جو رات کے اندھیرے میں لکڑی چننے والے ہوں گے، اور کھرے اور کھوٹے کے مابین تفریق نہیں کر سکیں گے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 213)

چنانچہ ابنِ سعدؒ نے حضرت سعید بن العاصؓ کے تذکرہ میں بلاسند یہ بات روایت کر دی ہے کہ جب حضرت سعیدؓ کوفہ کے گورنر کی حیثیت سے آئے تو عیش و عشرت کے خوگر نوجوان تھے، انہیں کوئی تجربہ نہ تھا، منبر پر چڑھنے سے انکار کر دیا جب تک کہ اس کو دھویا نہ جائے، پھر منبر دھلوایا گیا اور منبر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ سر زمین سواد قریش کے غلاموں کا باغ ہے۔‘‘ پھر لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی۔

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 32، المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 213)

یہ صحیح نہیں کیوں کہ یہ بے سند بات ہے اور اس لیے کہ حضرت سعید بن العاصؓ نے لشکرِ جہاد کی قیادت کی، بہت سے ممالک فتح کیے، لہٰذا آپ اس طرح نہیں ہو سکتے جیسا کہ افتراء پردازوں نے بیان کیا ہے، اور پھر ابن سعدؒ نے حضرت سعیدؓ کی طرف منسوب اس کلام کو مالک بن حارث الاشتر کی زبانی بیان کیا ہے اور اس وقت کا تذکرہ ہے جب اس نے حضرت سعیدؓ کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، اس موقع پر اشتر نے کہا: یہ حضرت سعد بن العاصؓ ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اس کا یہ زعم ہے کہ سواد کی سرزمین قریش کے غلاموں کا باغ ہے، حالاں کہ سواد تمہاری جائے پیدائش اور تمہارے نیزوں کا مرکز ہے، جو تمہارا وفادار ہو وہ تمہارے آباء و اجداد کا وفا دار ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 214) 

مالک بن حارث جو اشتر کے لقب سے معروف ہے، فتنہ پرداز انسان ہے، یہ ان خوارج کے قائدین میں سے ہے جنھوں نے حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر کے ان کو قتل کیا تھا ان سے کوئی بعید نہیں کہ لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے اس طرح کے اقوال گھڑیں، اگر یہ جملہ کہا گیا ہے تو اس کے کہنے والے وہ حضرات ہیں جنھوں نے خلافت کے خلاف خروج کیا تھا۔ عراق خصوصاً کوفہ پر مسلسل قریشی گورنروں کی تولیت کے سبب یہ بیمار تصور اور مریض فہم انہوں نے سمجھا حالاں کہ قبائلی عصبیت اس مقولہ کے اندر بالکل واضح ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 214)

امام ذہبی رحمۃاللہ حضرت سعید بن العاصؓ سے متعلق فرماتے ہیں:

’’آپ شریف امیر، سخی و جواد تھے، سبھی آپ کی تعریف کرتے، انتہائی بردبار اور باوقار تھے، حزم و عقل کے مالک تھے، خلافت و ولایت کے قابل تھے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 447)

مخالفین اور ناقدین عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا پھر ان سے ایسے امور سرزد ہوئے جس کی وجہ سے اہل کوفہ نے ان کو وہاں سے نکال باہر کیا،

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 279)

تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ صرف کوفیوں کا آپ کو وہاں سے نکال دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوا تھا، جو کوفہ اور کوفیوں کی تاریخ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوفی اکثر بلا کسی شرعی عذر اور معمولی اسباب کی وجہ سے امراء و والیان کی شکایت کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروقؓ کو بھی کہنا پڑا کہ کوفیوں نے مجھے تھکا دیا اور تنگ کر کے رکھ دیا، یہ کسی کو پسند نہیں کرتے اور نہ انہیں کوئی پسند کرتا ہے، نہ یہ درست ہوتے ہیں اور نہ ان پر کوئی درست ثابت ہوتا ہے۔

(المعرفۃ و التاریخ: الفسوی: جلد 2 صفحہ 754)

اور دوسری روایت میں یوں وارد ہوا ہے: کوفیوں نے مجھے تھکا دیا ہے اگر ان پر کسی نرم مزاج کو مقرر کرتا ہوں تو اس کو کمزور سمجھ بیٹھتے ہیں، اور اگر کسی سخت گیر کو مقرر کرتا ہوں تو اس کی شکایت کرتے ہیں۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 423)

 بلکہ آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی: 

اللّٰهم انہم قد لبسوا علی فلبس علیہم۔

(المنہاج: ابن تیمیۃ: جلد 3 صفحہ 188)

’’اے اللہ ان لوگوں نے میرے لیے مشکلات برپا کی ہیں، تو ان کے لیے مشکلات برپا کر۔‘‘

صفحہ 2 از 3