حضرت ولید بن عقبہ الاموی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حضرت ولید بن عقبہ الاموی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

کیا یہ آیت حضرت ولید بن عقبہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ اس سلسلہ میں مفسرین نے ایک قصہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ولید بن عقبہؓ کو بنو مصطلق کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔ بنو مصطلق کے لوگ اسلحہ سے لیس ان کے استقبال کے لیے نکلے یہ سمجھ نہ سکے اور خوفزدہ ہو کر راستہ سے لوٹ آئے، اور آ کر رسول اللہﷺ کو یہ رپورٹ پیش کر دی کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو ان کی طرف روانہ کیا، اور یہ حکم فرمایا کہ کوئی کارروائی کرنے سے قبل تحقیق کر لیں۔ بنو مصطلق کے لوگوں نے انہیں خبر دی کہ وہ تو اسلام پر قائم ہیں اور ان کے پاس کوئی زکوٰۃ وصول کرنے آیا ہی نہیں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 176)

اس سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہیں لیکن اس قصہ کی کوئی بھی صحیح متصل سند نہیں ہے۔

(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 176) شانِ نزول کی روایت مسند احمد جلد 4 صفحہ 279 اور طبرانی کبیر (33950) میں ہے، لیکن اس کی سند میں عیسیٰ بن دینار اپنے والد دینار سے روایت کرتے ہیں اور دینار مجہول ہیں۔ ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی ہے، اور ابن حبان مجاہیل کی توثیق میں معروف ہیں۔) (مترجم)

 کم از کم اس کی سند ضعیف ضرور ہے، اور لوگوں نے فضائل اعمال میں جہاں تحلیل و تحریم کا مسئلہ نہ ہو ضعیف اسانید کو اگرچہ قبول کیا ہے

(فضائل اعمال میں بھی راجح قول یہی ہے کہ ضعیف روایات مقبول نہیں۔ دیکھیے صحیح الترغیب للالبانی کا مقدمہ۔ (مترجم)

لیکن ہم حضرت ولیدؓ سے متعلق اسے قبول نہیں کر سکتے کیوں کہ اس سے امر حرام کی تحلیل لازم آتی ہے، اور ایک ایسے شخص کو فاسق قرار دیتی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہے، اگرچہ یہ صحبت ایک دن ہی کی ہو، صحابی رسول کو فاسق قرار دینا حرام ہے۔ اور یہ آیت کریمہ بذات خود روایات کے قبول کرنے میں تحقیق پر ابھارتی ہے۔ اس آیت کریمہ نے تو علم روایت کی اساس رکھ دی ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 182)

حضرت ولید بن عقبہؓ کی طرف جو قصہ منسوب کیا گیا ہے اس میں صرف وہی صحیح روایات ہی قبول کی جائیں گی جن کی سند و متن دونوں صحیح ہوں، کیوں کہ یہ صحابہ کو فسق سے متصف قرار دیتی ہیں اور یہ ایسا طعن ہے جسے پندرہ صدیوں کے بعد دور حاضر کے عام انسان کے سلسلہ میں بھی قبول کرنے میں تساہل نہیں برتا جا سکتا تو بھلا ایسے شخص سے متعلق جس نے عہد نبویﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں زندگی گزاری ہو اور اہم ذمہ داریاں اور مناصب اس کو سونپے گئے ہوں اس کے بارے میں اس طرح کی باتوں کی نسبت کیسے تساہل برتا جا سکتا ہے، اور اسے بلا تحقیق و توثیق کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟

شانِ نزول کا یہ قصہ اسلامی تاریخ کے صدر اول کے ایک حصہ کی نمائندگی کر رہا ہے، اور اس قصہ کے اجزاء و حوادث اسلامی عقیدہ سے متعلق ہیں، پس اسلامی تاریخ کے اس پہلو کی روایات کو قبول کرنے میں تساہل نہیں برتا جا سکتا جس طرح کہ شہر تہذیب و تمدن سے متعلق اخبار کو قبول کرنے میں تساہل برتا جاتا ہے۔

حضرت ولید بن عقبہؓ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لانے والے لوگوں میں سے ہیں، لیکن صد افسوس اکثر ان حضرات کے اسلام پر نقد و جرح کی جاتی ہے، بعض مؤرخین اس زعم کا شکار ہیں کہ یہ لوگ مجبوراً اسلام لائے تھے، اسلام ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا، لیکن ان کا یہ زعم بلاشبہ باطل ہے۔

(المدینۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 173) 

حضرت ولید بن عقبہؓ سے متعلق روایات میں راویوں نے خوب نمک مرچ لگائے ہیں، اور مذہبی و سیاسی افکار و عصبیتوں نے خوب کھیل کھیلے ہیں، کذب و وضع کی دخل اندازی ہوئی ہے، ادبی عبقریت کے اثبات اور روایات وضع کرنے کی قدرت کے امتحان کے لیے اس قصہ کو گھڑنے والوں کے لیے مقابلہ آرائی کا بہترین میدان ثابت ہوا ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 173)

بنو مصطلق سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے حضرت ولید بن عقبہؓ کو بھیجنے کے سلسلہ میں جو چیز مانع ہے وہ وہ روایت ہے جو ثقہ راویوں سے اتصال سند کے ساتھ مروی ہے کہ حضرت ولید بن عقبہؓ فتح مکہ کے وقت کم سن تھے، اور اس عمر میں رسول اللہﷺ عامل کی حیثیت سے روانہ نہیں کر سکتے، چنانچہ فیاض بن محمد الرقی، جعفر بن برقان سے اور وہ ثابت بن حجاج الکلابی سے اور وہ عبداللہ ہمدانی (ابو موسیٰ) سے اور وہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والوں نے اپنے اپنے بچوں کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کیا، آپﷺ نے سب کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ مجھے بھی آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، مجھے زعفرانی خوشبو لگائی گئی تھی، آپﷺ نے میرے سر پر ہاتھ نہ پھیرا، چوں کہ میری والدہ نے مجھے زعفرانی خوشبو لگا دی تھی جس کی وجہ سے آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہ لگایا۔ یہی خوشبو مانع ہوئی۔

(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 32، ابوداود (4181) شیخ البانی نے اس کو منکر قرار دیا ہے، دیکھیے: ضعیف ابی داؤد: 338) (مترجم)

اس قصہ میں مذہبی عصبیت نے کھیل کھیلا ہے۔ حضرت ولیدؓ اموی عثمانی ہیں اور اس شان نزول میں جس نے حضرت ولیدؓ کا نام گھسیڑا ہے وہ رافضی شیعی محمد بن سائب کلبی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:’’ کوفی شیعوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔‘‘ اور فرماتے ہیں: ’’کوفہ میں دو کذاب پائے جاتے تھے: ایک کلبی، دوسرا سدی۔‘‘

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 179)

اس قصہ سے ان کا نام جوڑنے کا سبب یہ ہے کہ یہ واقعہ زکوٰۃ کی وصولی سے متعلق ہے، اور حضرت ولیدؓ عہدِ صدیقی میں قضاعہ کی زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر تھے، اور دورِ فاروقی میں الجزیرہ میں تغلب کی زکوٰۃ پر آپ کی تقرری ہوئی تھی اور شیعی کتب میں حضرت ولیدؓ کے اس واقعہ کے حوالے سے حضرت عثمان بن عفانؓ پر تنقید کی جاتی ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 180)

صفحہ 2 از 3