عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ…

عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ ہونے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 4 از 4

اور یہ کسی پہلو سے محلِ اعتراض و موجبِ طعن نہیں ہاں، افضلیت اور بات ہے آپ کی حکومت کو اگر کسی پہلو سے ملوکیت بھی کہا جائے تو یہ ایسی ملوکیت تھی جس سے خلافت کی نفی نہیں کی جا سکتی اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیدنا حسنؓ خلافت کو ملوکیت کے سپرد کر دیں اس جہت سے تو ملوکیت کے بانی حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہو جائیں گے کہ انہوں نے خلافت کو ملوکیت کے سپرد کیا، اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں ان کا یہ اقدام محلِ مدح نہ رہے گا، حالانکہ آپﷺ نے اپنی ایک پیشین گوئی میں حضرت حسنؓ کے اس اقدام کو محلِ مدح میں ذکر کیا ہے کہ اس امت کے دو فریقِ عظیمہ آپؓ کے اس اقدام یعنی صلح سے ایک ہو جائیں گے۔ واللہ اعلم و علمہ اتم و احکم۔

(عبقات: صفحہ422، 423)

یہ ہے عہدِ خلافتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی صحیح حیثیت البتہ یہاں ایک شبہ وارد ہوتا ہے، اس کا ازالہ بھی ضروری ہے، وہ یہ کہ بعض علماء نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو ملوک (بادشاہ) کہہ کر خطاب کیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

علامہ ابنِ حجر ہیتمی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:  

جو شخص حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت پر ملوکیت کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے اس سے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کی حکومت میں مذکورہ اجتہادات واقع ہوئے، اور جو شخص اسے خلافت قرار دیتا ہے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دستبرداری اور اہلِ حل و عقد کے اتفاق کے بعد وہ خلیفہ برحق واجب الاطاعت تھے اور اطاعت کے لحاظ سے لوگوں پر ان کے وہی حقوق تھے جو ان سے پہلے خلفائے راشدینؓ کو حاصل تھے۔

(الصواعق المحرقۃ: صفحہ 219 فی بیان اعتقاد و اہل السنت والجماعت فی الصحابہ)


صفحہ 4 از 4