عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ…

عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ ہونے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 4

مسلمان بادشاہوں میں سے کوئی بھی حضرت امیرِ معاویہؓ سے بہتر نہیں ہوا، اور اگر ان کے زمانے کا مقابلہ بعد کے زمانوں سے کیا جائے تو عوام کسی بادشاہ کے زمانے میں اتنے خوش نہیں رہے جتنے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہاں! اگر ان کے زمانے کا مقابلہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے زمانوں سے کیا جائے تو فضیلت کا فرق ظاہر ہو جائے گا۔

اب عہدِ خلافتِ راشدہ اور عہدِ خلافتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ میں جو فرق تھا، اسے علمِ عقائد کے مشہور عالمِ دین علامہ عبد العزیز فرہارویؒ (متوفی 1240ھ) کی زبانی سنیں:  

قُلتُ لِأَهلِ الخَیرِ مَرَاتِبُ بَعضُهَا فَوقَ بَعضٍ، وَکُلُّ مَرتَبَةٍ مِنهَا یَکُونُ مَحَلَّ قَدحٍ بِالنِّسبَةِ إِلَی الَّتِی فَوقَهَا وَلِذَا قِیلَ حَسَنَاتُ الأَبرَارِ سَیِّئَاتُ المُقَرَّبِینَ، وَفَسَّرَ بَعضُ الکُبَرَاءِ قَولَهُ عَلَیہِ الصَّلَوۃُ وَالسَّلَامُ: إِنِّی لَأَستَغفِرُ اللهَ فِی الیَومِ أَکثَرَ مِن سَبعِینَ مَرَّةً، بِأَنَّهُ کَانَ دَائِمَ التَّرَقِّی، وَکُلَّمَا کَانَ یَتَرَقَّی إِلَی مَرتَبَةٍ استَغفَرَ عَنِ المَرتَبَةِ الَّتِی قَبلَهَا وَإِذَا تَقَرَّرَ ذَلِکَ فَنَقُولُ: کَانَ الخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ لَم یَتَوَسَّعُوا فِی المُبَاحَاتِ، وَکَانَت سِیرَتُهُم سِیرَةَ النَّبِیِّﷺ فِی الصَّبرِ عَلَی ضِیقِ العَیشِ وَالجَهدِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَهُوَ إِن لَم یَرتَکِب مُنکَرًا لَکِنَّهُ تَوَسَّعَ فِی المُبَاحَاتِ، وَلَم یَکُن فِی دَرَجَةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ فِی أَدَاءِ حُقُوقِ الخِلَافَةِ، لَکِنَّ عَدَمَ المُسَاوَاۃِ بِهِم لَا یُوجِبُ قَدحًا فِیہِ۔

(النبراس علی شرح العقائد: صفحہ309 نصب الامام واجب بالاجماع)

ترجمہ: اہلِ خیر کے مختلف مراتب ہوتے ہیں، جن میں سے بعض دوسرے بعض سے بلند ہوتے ہیں ان میں سے ہر مرتبہ اپنے سے فائق مرتبے کے اعتبار سے محلِ قدح ہوتا ہے اسی لیے مشہور مقولہ ہے: نیک لوگوں کے حسنات مقربین کی برائیاں ہوتی ہیں اور آنحضرتﷺ سے یہ جو ارشاد مروی ہے کہ میں دن میں ستر سے زائد بار اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اس حدیث کی تشریح بعض اکابر نے یوں بیان کی ہے کہ آپﷺ کے درجاتِ عالیہ میں ہر آن ترقی ہوتی رہتی تھی اور آپ جب بھی ترقی کا کوئی اگلا درجہ حاصل کرتے تو پچھلے درجے سے استغفار فرماتے تھے جب یہ بات طے ہو گئی تو ہم یہ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ نے مباحات میں توسع سے کام نہیں لیا تھا اور تنگیِ عیش پر صبر و جہد کے معاملے میں ان کی سیرت سرورِ دو عالمﷺ کی سیرت سے مشابہ تھی رہی بات حضرت امیرِ معاویہؓ کی، سو اگرچہ وہ کسی منکر کے مرتکب تو نہیں ہوئے لیکن انہوں نے مباحات میں (قدرے) توسع سے کام لیا اور حقوقِ خلافت کی ادائیگی میں وہ خلفائے راشدینؓ کے درجے میں نہیں تھے، لیکن ان کی برابری نہ کر سکنا ان کے لیے (کسی طرح بھی) موجبِ قدح نہیں ہے۔ 

اس ناکارہ کے مخدوم و کریم بزرگ مفکرِ اسلام، سلطان المتکلمین، امام المناظرین حضرتِ اقدس علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اطال اللہ حیاتہ نے بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت پر جس مدلل انداز میں جامع تبصرہ فرمایا ہے، وہ آپ ہی پر بس ہے، اسے ملاحظہ فرمائیے:  

حضرت امیرِ معاویہؓ کا دورِ حکومت خلافتِ راشدہ اور خلافتِ عامہ کے مابین کا عبوری دور ہے آپ کی حکومت خلافتِ عادلہ تھی جس میں کتاب و سنت کو آئینی بالا دستی حاصل تھی اور عدل و انصاف کی حدود قائم تھیں، لیکن اس کا معیار خلافتِ راشدہ کے دوسرے درجے پر تھا خلفائے راشدین سیرتِ نبویﷺ کے بہت زیادہ قریب تھے روزمرہ کی زندگی میں صبر و ایثار کا پیمانہ تھا بشری تقاضوں میں وہ جہد و مشقت سے گزرتے تھے اور مباح امور میں وہ توسع و فراخی کی راہ سے نہیں، ترک و تقویٰ کی راہوں پر چلتے تھے حضرت امیرِ معاویہؓ گو اپنے پورے دورِ خلافت میں کسی خلافِ شرع راہ پر نہیں چلے، لیکن مباح امور میں وہ کبھی وسعت سے بھی کام لیتے تھے، اور وقت گزرنے سے اس توسع کا اوپر کے حلقے میں آ جانا ایک فطری امر تھا حق یہ ہے کہ آپ کا دورِ حکومت خلافت تھا آپ نے حکومت کسی سے وراثت میں نہ لی تھی سیاسی راہ سے آپ اقتدار پر آئے تھے آپ کا پہلا دورِ حکومت حضرتِ عمرؓ و حضرت عثمانؓ کی نیابت میں تھا اور دوسرا دور حضرت حسنؓ کی صلح سے شروع ہوتا ہے جو ملک کی قومی و سیاسی سطح پر قائم ہوا تھا۔ ثم ملکاً (کہ خلافت پھر ملوکیت ہو جائے گی) میں لفظ ثم یعنی (پھر اس کے بعد) غور طلب ہے، اور اس سے وہ حکومت مراد ہو گی جو اس تیس سال کے بعد شروع ہو، اور حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت تو تیس سال کے اندر سے شروع ہو چکی تھی، گو وہ خلافتِ تامہ کی صورت میں نہ تھی ہاں، خلافت علی منہاج النبوۃ کے حکمران خلفائے اربعہ ہی ہیں خلافتِ راشدہ اور خلافتِ عادلہ کے اس فرق کو عقائدِ نسفی کی شرح نبراس میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ 

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مباح امور میں خلفائے اربعہ تحرز و اجتناب کی راہ سے چلے اور یہ عزیمت کی راہ تھی، اور سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ایسے کئی مواقع پر توسع و رخصت کی راہ اختیار فرمائی۔

(مباحات میں توسع کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: 

وَلَعَلَّ تَوَسُّعَهُ فِیهَا لِقُصُورِ هِم سَائِرِ أَبنَاءِ الزَّمَانِ، وَإِن لَم یُوجَد فِیهِ ذَلِکَ کَمَا عَلِمتَ، وَأَمَّا رُجحَانُ الخُلَفَاءِ الأَربَعَةِ فِی العِبَادَاتِ وَالمُعَامَلَاتِ فَظَاهِرٌ لَا خَفَاءَ فِیهِ۔ 

(الناہیہ: صفحہ 46 تحت: فصل فی الاجوبۃ عن مطاعنہ)

ترجمہ: اور شاید ان کا مباحات میں توسع اختیار کرنا ابنائے زمانہ کے قصورِ ہمت کی بناء پر تھا، اگرچہ خود ان کی ذات میں یہ چیز نہیں تھی جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے باقی خلفائے اربعہ کا عبادات و معاملات میں رجحان بالکل ظاہر ہے، جس میں کوئی خفا نہیں۔)

صفحہ 3 از 4