عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ…

عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ ہونے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 4

4: رسول اللہﷺ اس خواب کو سن کر رنجیدہ کیوں ہوئے؟ اس کا سبب واللہ اعلم یہ ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کو یہ معلوم کر کے رنج ہوا کہ خلافتِ راشدہ خاصہ کی مدت تین خلفاء پر ختم ہو جائے گی اس کے بعد خلافت کی وہ شان نہ رہے گی جو خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں تھی۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمان کافروں سے لڑنے کے بجائے آپس میں لڑنے لگے، تا آنکہ حضرت حسنؓ نے خلافت کی باگ ڈور حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ میں دے دی تو پھر بحر و بر میں اسلامی جھنڈا لہراتا ہوا نظر آنے لگا اور فتوحاتِ اسلامیہ کا دروازہ کھل گیا۔

(برأت عثمان: صفحہ63، 64، تحت: برأت عثمان)

اور ایک مقام پر حضرت شیخ الاسلامؒ فرماتے ہیں:  

کہا جاتا ہے کہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ: 

الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ثم تکون ملکاً

ترجمہ: میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی، پھر بادشاہی ہو گی۔ 

اگر اس حدیث کے ضعف سے قطع نظر کر لی جائے جیسا کہ ناقدینِ حدیث نے تصریح کی ہے، تو ایک دوسری حدیث میں یہ بھی ہے: 

تدور رحی الاسلام لخمس وثلاثین او ست وثلاثین او سبع وثلاثین

(رواہ ابوداؤد، مشکوٰۃ: صفحہ 465) 

اسلام کی چکی میرے بعد پینتیس یا چھتیس سال یا سینتیس سال تک چلتی رہے گی اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ سینتیس سال کے بعد حکومتِ اسلام ختم ہو جائے گی، یہ تو واقعے کے خلاف ہے بس یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اسلام اپنی پوری شان کے ساتھ صحیح طریقے پر اپنی مدت تک رہے گا، تو اس میں سات سال خلافتِ امیرِ معاویہؓ کے بھی شامل ہیں پھر ان کو خلفاء سے الگ کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ نیز مسلم شریف کی حدیثِ صحیح میں حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

لا یزال ہذا الدین عزیزاً منیعاً الی اثناء عشر خلیفۃ کلہم من قریش۔

(مسلم: جلد2  صفحہ119)

ترجمہ: یہ دینِ اسلام معزز اور مضبوط رہے گا بارہ خلفاء تک جو سب قریش سے ہوں گے۔ 

ان بارہ میں حضرت امیرِ معاویہؓ یقیناً داخل ہیں کہ وہ یقیناً صحابی ہیں اور ان کی خلافت میں اسلام کو عروج بھی بہت تھا، فتوحات بھی ہوئیں حدیث میں ان کو بارہ خلیفہ کہا گیا ہے، ملک نہیں کہا گیا مجمع الزوائد اور جامع صغیر میں ہے: 

ان عدۃ الخلفاء بعدی عدۃ نقباء موسیٰ

ترجمہ: میرے خلفاء کی تعداد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نقباء کے برابر ہے اس سے بھی بارہ خلفاء کا خلیفہ ہونا ثابت ہے قرآن میں بھی آیا ہے کہ: 

وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَىۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا‌

(سورۃ المائدۃ: آیت 12)

ترجمہ: ہم نے قومِ موسیٰ میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 45، 46 تحت: مطالب قصاص کا حق)

ان تمام ابحاث و تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا شمار خلفائے اسلام میں ہے اور حدیثِ سفینہؓ سے مراد یہ لینا کہ خلافتِ راشدہ کے بعد کا دور سراسر غیر اسلامی دور ہے، جیسا کہ مصنفِ نام و نسب کا خیال ہے، قرینِ انصاف و دانش مندی نہیں جس طرح خود خلافتِ راشدہ کا پورا عہد یکساں نہیں تھا بلکہ اس کا اول اس کے آخر سے کئی حیثیتوں سے ممتاز تھا، اسی طرح سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہدِ خلافت کم و بیش فرق کے ساتھ ٹھیٹھ اسلامی عہد تھا پھر خلافتِ راشدہ کے عہد میں شامل نہ ہونے کی بناء پر کوئی خلیفہ موجبِ طعن نہیں ٹھہر سکتا، یہ تو ایک تکوینی امر ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا اپنا دورِ خلافت خلافتِ راشدہ مطلقہ کا دور کہلاتا ہے تو کیا یہ بات نعوذ باللہ سیدنا علیؓ کے حق میں موجبِ قدح ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اس میں تو انسانی عقل و ہمت اور جہد و سعی کا دخل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تو ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ کے زمرے میں آتی ہے۔

ہماری ان تمام باتوں سے یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ ہم خلفائے راشدینؓ کے عہدِ خلافت کو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے برابر ٹھہرا رہے ہیں۔ حاشا و کلا۔ ہم اس بات کا کھلے لفظوں میں اقرار کرتے ہیں کہ عہدِ خلافتِ امیرِ معاویہؓ اور خلافتِ راشدہ میں فرق تو بے شک تھا، لیکن یہ فرق ظلم و عدل، فسق و تقویٰ، کذب و صداقت یا امانت و خیانت کا فرق نہیں تھا، بلکہ یہ فرق عزیمت و رخصت کا، تقویٰ و مباحات کا، اور احتیاط و توسع کا اور اصابتِ رائے و قصورِ اجتہاد کا فرق تھا اور جن حضرات کو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت میں کچھ کمی نظر آتی تھی، وہ خلفائے راشدینؓ مہدیین کی نسبت سے نظر آتی تھی بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم: 

لیکن اس سے اس بات کا کوئی جواز نہیں نکلتا کہ ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد کوئی شخص بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس تاثر کو بنیاد بنا کر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت میں آج کی گندی سیاست کے تمام مظاہرے تلاش کرنے شروع کر دے اور تحقیق کے بغیر ان پر جھوٹ، خیانت، رشوت، اخلاقی پستی، ظلم و جور، بے حمیتی اور سیاسی بازی گری کے وہ تمام الزامات عائد کر ڈالے جو آج کے سیاست دانوں میں نظر آتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کی نسبت سے اس عہدِ حکومت میں فرق ضرور تھا، لیکن فسق و معصیت اور ظلم و جور کی حد تک نہیں پہنچا تھا۔ ان کی حکومت، حکومتِ عادلہ ہی تھی۔

(حضرتِ معاویہؓ نئے اور تاریخی حقائق: صفحہ146 تحت: حضرتِ معاویہؓ کی عہدِ حکومت کی صحیح حیثیت)

حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728ھ) فرماتے ہیں:  

فَلَم یَکُن مِن مُلُوکِ المُسلِمِینَ مَلِکٌ خَیرٌ مِن مُعَاوِیَۃَ، وَلَا کَانَ النَّاسُ فِی زَمَانِ مَلِکٍ مِنَ المُلُوکِ خَیرًا مِنهُم فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ، إِذَا نُسِبَت أَیَّامُهُ إِلَی أَیَّامِ مَن بَعدَهُ، وَأَمَّا إِذَا نُسِبَت إِلَی أَیَّامِ أَبِی بَکرٍ وَعُمَرَ ظَهَرَ التَّفَاضُلُ۔ 

(منہاج السنۃ: جلد3 صفحہ 185، فصل: والقاعدۃ الکلیۃ فی ہٰذا ان لا نعتقد ان احداً معصوم بعد النبی الخ، تحت: السبب السابع)

صفحہ 2 از 4