شیعہ مناظر الف پر گفتگو ختم کرچکا تبصرہ بھی لکھ چکا، اس کے…

شیعہ مناظر الف پر گفتگو ختم کرچکا تبصرہ بھی لکھ چکا، اس کے باوجود دوبارہ الف کی طرف دوڑیں!(قسط 32)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

سنی مناظر: صحیحین میں جو کچھ ہے اسے آپ نے ایمانداری سے بیان نہیں کیا۔  الف کی طرح ب کی باتیں بھی مکمل بیان نہیں ہوئیں اور سیدنا علی کا مؤقف یہ بیان نہیں ہوا جو آپ نے ب میں لکھا ہے۔ اگر ہاں یا ناں میں جواب چاہئے تو میرا جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔

شیعہ مناظر:  اگر کہیں گے وہ روایتیں نہیں ہیں تو میں دکھا دوں گا۔اگر کہے  گے ہاں ہیں تو بات ب میں ختم ۔

مدعا دوم شروع۔کیاہر گز نہیں؟

یہ مدعا دوم ہے۔جہاں آپ نے حقائق سے بحث کرنی ہے۔

  سنی مناظر: روایتوں کے انبار دکھانے کے بجائے صرف ایک یا دو روایات پیش کریں اور اپنا استدلال بھی پیش کیجئے گا تاکہ پتہ چلے کہ ان روایات سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

آپ کی تحریر کے (ب) کے مطابق

 سیدنا علی حدیث لانورث سے خلفاء کے استدلال سے اختلاف کرتے ہوئے فدک کو سیدہ فاطمہ کا حق سمجھتے تھے۔

 بقول آپ کے سیدنا علی نے دور حضرت عمر فاروق میں فدک کی میراث کا مطالبہ کیا تھا۔

 سیدنا علی خلفاء کو جھٹلاتے اور ان کے کاموں کو دھوکہ بازی اور گناہ سمجھتے تھے۔

تینوں نکات کو ثابت کرنے کے لئے آپ اپنے دلائل/روایات بمعہ استدلال پیش کر سکتے ہیں۔

میں ان تینوں نکات کا  دو ٹوک الفاظ میں انکار کرتا ہوں۔

 شیعہ مناظر: استدلال ب میں یہی ہونا ہے۔ آپ مجھے بتاؤ  یہ روایتیں ہیں یا نہیں؟ یہ ب نہیں ہے۔ یہ مدعا دوم کی باتیں ہیں۔

 سنی مناظر: پھر وہی رٹا۔ روایات بمعہ استدلال ۔ یہ تینوں نکات ثابت کر کے دکھائیں۔ چلیں۔ مدعا دوم کی نیت سے دکھادیں۔  کچھ تو ڈھنگ کی گفتگو کر لیں۔

شیعہ مناظر: پھر وہی حرکتیں۔سادہ سوال یہ روایتیں ہیں یا نہیں؟ جب یہ روایتیں ہیں تو،استدلال معاملہ ختم نہیں ہوا تھا۔ 


روایات موجود ہیں یا نہیں اس پر ہاں یا ناں کا ضد۔ شیعہ مناظر جانتا تھا کہ مکمل روایات پیش ہوگئیں تو اس کا بھانڈہ بیچ چوراہے پر پھوٹ جائے گا کیونکہ دور عمر فاروق میں سیدنا علی اور حضرت عباس کے مابین تنازعہ بحیثیت متولی کے تھا۔ فدک کی ملکیت کا معاملہ تو دور صدیق میں ہی حل ہوچکا تھا۔


  سنی مناظر: یہ روایتیں مکمل بیان نہیں کی گئیں۔  جب مکمل بیان ہوں گی تو پھر ب میں آپ کے مؤقف کی ایسی تیسی ہوجائے گی۔ 

 شیعہ مناظر: سوچ کر آنا  ۔ابھی اللہ حافظ۔

 سنی مناظر: مطلب آپ مکمل روایت رکھ کر اپنا استدلال ثابت نہیں کریں گے۔

 شیعہ مناظر:  سوال روایتوں کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہے۔ بس ۔

سنی مناظر:  میں تو مکمل تیاری کر کے بیٹھا ہوں۔ بھاگ تو آپ رہے ہیں۔

 شیعہ مناظر: جب آپ کو ب کا علم ہو تو پیش کروں گا ورنہ تین دن کے بعد کہیں گے  الف۔

سنی مناظر:  نامکمل روایات کے بارے میں جواب مانگ رہے ہیں۔ میں نے ب سے جو نکات لکھے ہیں وہ درست نہیں تو آپ لکھ دیں۔ میں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گا۔

 صحیحین میں یہ باتیں مذکور نہیں ہیں۔ شیعہ مناظر دلشاد صاحب کی حالت سب دیکھ لیں۔اپنی نامکمل تحریر سے عوام کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔  گفتگو کرنے سے فرار کر چکا ہے۔ الف کی حقیقت واضح ہوچکی۔ آج اس کی تحریر میں ب پر حقائق واضح کرنے تھے۔ ایک تو آیا دیر سے۔ پھر نکتے پر بات کرنے سے بھاگتا رہا۔ ایڈمنز بتائیں۔۔۔ اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟

اتنا تفصیل سے سمجھانے کے باوجود شیعہ مناظر کی سوئی  شروع سے آخر تک اسی کاپی پیسٹ تحریر میں اٹکی ہوئی رہی!

 شیعہ مناظر: میرے مدعا کی روشنی میں ہماری بحث تین مرحلوں پر مشتمل ہوگی۔

 پہلا مرحلا:  جو شیعہ کہتے ہیں وہ صحیح سند آپ کی معتبر ترین کتابوں میں  (خاص کر صحیحین میں) موجود ہیں۔ دوسرا مرحلا : جناب زہرا نے واقعی معنوں میں  مطالبہ کیا اور آپ  ناراض ہوگئیں اور مولی علی بھی ان کے ساتھ ہم عقیدہ تھا اور جناب فاطمہ اسی نظریے کے ساتھ دنیا سے گئیں  (یہ باتیں خاص کر آپ کی صحیحین میں ہیں)۔

تیسرا  مرحلا:  یہ ثابت کرنا ہے کہ حق جناب فاطمہ  کے ساتھ تھا اور جناب خلیفہ نے آپ کا حق آپ کو نہیں دیا۔ ان  تین مراحل کے مطابق مرحلہ وار گفتگو ہوگی۔

سنی مناظر:    

1۔  پہلے مرحلے کے الف کا پہلا حصہ :سیدہ فاطمہ کا مطابہ فدک کا تعین اور صدیقی فیصلہ درست یا غلط؟

 پہلے مرحلے کے الف کا دوسرا حصہ :کیا سیدہ فاطمہ ناراض ہوئیں اور مکمل بائیکاٹ کے ساتھ رحلت فرمائی؟

اس کے بعد پہلے مرحلے کا ب زیر بحث لایا جائے گا۔ ہر ایک نکتے پر تین دن کے اندر گفتگو مکمل کی جائے گی۔ ان شاء اللہ

 میں بہت مصروف رہتا ہوں۔ اس نفسیاتی کیس پر کئی دن لگا دئے ہیں۔ جواب دیتا نہیں ہے۔ بس لفاظی کرتا رہتا ہے۔ کیا علمی گفتگو صرف ہاں یا ناں میں ہوتی ہے۔ میں اسے بتا بھی رہا ہوں کہ اس نے اپنی تحریر میں کئی حقائق چھپائے ہیں پھر بھی کہہ رہا ہے کہ ہاں یا ناں میں جواب دو۔ حد تو یہ ہے کہ ب کا حصہ مکمل صحیحین کے خلاف ہے۔  اسے ثابت کرنے کا کہتا ہوں تو بے تکے جواب دیتا ہے۔ ایڈمنز بتائیں۔۔ میں کیا کروں؟

 ایڈمن ابرار بھائی۔۔۔۔ شیعہ مر جائے گا لیکن ٹو دی پوائنٹ گفتگو نہیں کرے گا۔اس نے اپنی تحریر کے ب میں جو مؤقف سیدنا علی کا لکھا ہے اسے قیامت تک ثابت نہیں کر سکتا۔

1۔صحیحین کی ایسی کوئی حدیث نہیں ہے کہ سیدنا علی فدک کو سیدہ فاطمہ کا حق سمجھتے تھے۔

2۔  سیدنا علی نے دور حضرت عمر فاروق میں فدک کی میراث کا مطالبہ نہیں کیا تھا ۔ کسی حدیث سے یہ بات واضح نہیں ہے۔

3۔ سیدنا علی نے کبھی خلفاء کو نہیں جھٹلایا اور نہ ہی ان کے کاموں کو دھوکہ بازی اور گناہ سمجھا۔

 دلشاد صاحب تحریر لکھ کر پھنس گئے ہیں۔ میں فی الحال گروپ میں موجود رہوں گا۔ کل تک موصوف نے علمی انداز اپنایا تو گفتگو باقائدہ ب پر شروع ہوگی۔ شیعہ ممبرز اپنے مناظر کو شرم دلائیں اور اسے مجبور کریں کہ سامنے آکر دفاع کرے اور شیعہ مؤقف ثابت کر کے دکھائے۔ اللہ حافظ

 شیعہ مناظر: مطالبہ جاری رہنا اور رضایت والی کی  بطلان پر دلیل ہے ۔

الف : خود حضرت فاطمہ علیہا السلام بھی مطالبہ کرتی رہیں۔

وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ ۔

آپ ابوبکر سے بار بار مطالبہ کرتی رہیں"  کانت جب فعل مضارع سے پہلے آئے تو یہ ماضی استمراری پر دلالت کرتا ہے۔

صفحہ 2 از 3