حضراتِ اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے اس صلح کی…

حضراتِ اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے اس صلح کی مکمل پاسداری

  محمد ظفر اقبال

6: حضراتِ اہلِ بیتؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح و مصالحت کا جو عہد کیا تھا اور آپؓ کے ہاتھ پر جو بیعتِ خلافت کی تھی، حضرت امیرِ معاویہؓ کی وفات تک اس پر قائم رہے یہی سبب ہے کہ جب حجر بن عدیؒ نے سیدنا حسینؓ کو نقضِ بیعت کے لیے آمادہ کرنا چاہا تو آپؓ نے جواب دیا:  

إِنَّا قَد بَايَعنَا وَعَاهدنَا، وَلَا سَبِيلَ إِلَى نَقضِ بَيعَتِنَا

(الاخبار الطوال: صفحہ220 بحث: مبایعۃ معاویہ بالخلافۃ و زیاد بن ابیہ)  

ترجمہ: ہم بیعت کر چکے ہیں، عہد ہو چکا ہے، اب اسے توڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

آپ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نامہ عطر شمامہ میں ارقام فرماتے ہیں:  

فَكَتَبَ إِلَيهِ الحُسَينُ: أَتَانِی كِتَابُكَ، وَأَنَا بِغَيرِ الَّذِی بَلَغَكَ عَنِّی جَدِيرٌ، وَالحَسَنَاتُ لَا يهدى لَهَا إِلَّا اللهُ، وَمَا أَرَدتُ لَكَ مُحَارَبَةً وَلَا عَلَيكَ خِلَافًا

(تہذیبِ ابنِ عساکر: جلد 4 صفحہ327 تحت: ذکر واقعۃ الحسین وفضلہ)

ترجمہ: سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو جواب ارسال کیا کہ آپؓ کا مکتوبِ گرامی مجھے ملا جو کچھ بات آپ کو میری طرف سے پہنچی ہے وہ میرے لائق نہیں بے شک نیک کاموں کی طرف اللہ تعالیٰ ہی ہدایت فرماتا ہے میرا نہ آپ سے جنگ کا ارادہ ہے اور نہ ہی مخالفت کا قصد ہے۔