سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا اہلِ بیتؓ سے حسنِ سلوک -…

سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا اہلِ بیتؓ سے حسنِ سلوک

  محمد ظفر اقبال

3: اس صلح کے بعد امامَینِ ہُمامَین، سیدَینِ حَسَنَینِ کَریمَین رضی اللہ عنہما نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے اپنے حق میں کوئی برائی نہ پائی، نہ ہی انہیں کبھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے کوئی ایذا پہنچی، اور نہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے کبھی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔

ابو حنیفہ الدینوری رحمۃ اللہ (متوفی 282ھ) لکھتے ہیں:  

قالوا: ولم ير الحسن ولا الحسين طول حياة معاوية منه سؤاً فی أنفسهما ولا مكروهاً، ولا قطع عنهما شيئاً مما كان شرط لهما، ولا تغير لهما عن بر  

(الأخبار الطوال: صفحہ225 بحث: بین معاویہؓ و عمرو بن العاصؓ)

ترجمہ: مؤرخین کا کہنا ہے کہ حضراتِ حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو زندگی بھر سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جانب سے کوئی دکھ نہ پہنچا، نہ ان کے حق میں حضرت امیرِ معاویہؓ کی جانب سے کوئی ناگوار حرکت ظہور میں آئی۔ حضرت امیرِ معاویہؓ نے ان دونوں بزرگوں کے ساتھ جو شرائط طے کی تھیں، ان میں سے کسی شرط کو ضائع نہیں کیا اور کسی احسان و بھلائی کی بات کو تبدیل نہیں فرمایا۔