1: مذکورہ عبارت علاماتِ قیامت کی نشانیوں میں بیان کردہ طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں نہ فریقین کا نام ہے اور نہ ہی مقام و موقع کا ذکر ہے۔ اس مجمل پیشین گوئی کا اطلاق سیدنا حسن و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح پر کرنا صحیح نہیں، کیونکہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ سرورِ کائناتﷺ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا حسنؓ (جبکہ وہ عالمِ طفولیت میں تھے اور آپﷺ کے پہلو میں تشریف فرما تھے) کی طرف التفات کرتے ہوئے فرمایا:
إن ابنی هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به فئتين عظيمتين من المسلمين
(بخاری: جلد1 صفحہ 373 تحت کتاب الصلح، باب: قول النبیﷺ: للحسن بن علی ابنی هذا سيد الخ)
ترجمہ: میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔
اب اتنی واضح پیشین گوئی، جس میں صلح و مصالحت کی پوری تشریح ہے، کو چھوڑ کر ایک مجمل حدیث سے استدلال پکڑنا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی باہمی صلح کو، جو روئے قرآن رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ تھے، برِ کدورت ٹھہرانا ہرگز صحیح نہیں۔ پھر آنحضرتﷺ کا اس صلح سے بہتر امید وابستہ کرنا، حضرت حسنؓ کو سردار کا لقب دینا اور ان کے اس فعلِ مسعود کو محلِ مدح میں ذکر کرنا پتہ دیتا ہے کہ یہ صلح صحیح ہو گی، برِ کدورت نہ ہو گی۔
2: اس صلح کو اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بنی ہاشم، جو ہمارے نزدیک انتہائی عاقل و لبیب، ذکی و فہیم، معاملہ فہم، زیرک اور دانا بزرگ تھے (اور فریقِ مخالف کے نزدیک عالم الغیب بھی) بر کدورت نہ سمجھ سکے البتہ صدیوں بعد مصنف نام و نسب نے اس نکتہ کو پا لیا ہے کہ وہ صلح بر کدورت تھی۔
ع بسوخت عقل زحیرت که این چہ بوالعججی است