مصنفِ نام و نسب بعنوان سیدنا حسنؓ کو زہر کس نے دیا؟ کے تحت لکھتے ہیں:
رہا مسئلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کس نے دیا تو تاریخی اعتبار سے ایک واضح بات ہے کہ انہیں (ان کی بیوی ناقل) جعدہ نے زہر دیا، مگر اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ کیا یہ جعدہ کا ذاتی فعل تھا؟ اور پھر جعدہ کو حضرت حسنؓ سے ایسا کیا اختلاف یا دشمنی تھی جس کی بناء پر اس نے یہ حرکت کی؟ یا اس زہر خورانی کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ تھا؟ اگر تھا تو کس کا؟ عام طور پر ہمارے واعظینِ منبر پر جو کچھ بیان کرتے ہیں، بعض اوقات ان میں اور تاریخی حقائق و شواہد میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔
(نام و نسب: صفحہ538)
پھر لکھتے ہیں:
بہرحال ہم اپنی طرف سے اس موضوع پر کچھ نہیں کہتے، درج ذیل مستند تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کر لیا جائے، حقیقت خود بخود منکشف ہو جائے گی ملاحظہ کیجیے:
1: البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ43
2: تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ202
3: ابنِ عساکر: جلد4 صفحہ202
4: سر الشہادتین: صفحہ4
5: تاریخِ ابنِ اثیر: جلد3 صفحہ228
6: تاریخِ خمیس: جلد2 صفحہ 292
7: شواہد النبوۃ: صفحہ173
8: الاصابہ فی تمییز الصحابہ: جلد1 صفحہ375
9: حیاۃ الحیوان: جلد1 صفحہ54
10: مروج الذہب: جلد2 صفحہ303
11: تحف العقول: صفحہ 291
12: الاستیعاب: جلد1 صفحہ374
اگرچہ اس اعتراض میں مصنفِ موصوف نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نام کی صراحت نہیں فرمائی، مگر سابقہ خامہ فرسائیوں کے پیشِ نظر اس بات کے کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جناب نے سیدنا حسنؓ کی زہر خورانی کا الزام حضرت امیرِ معاویہؓ پر عائد کر کے آپؓ کو قاتلِ حسنؓ بنا دیا ہے، نعوذ باللہ۔ لیکن سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نامِ نامی کو ردائے تقیہ میں مستور رکھا ہے آئیے! اب ہم نمبر وار کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا جن کتب کے حوالہ جات (بقیدِ جلد و صفحہ) مصنف نے دیے ہیں، ان کے مصنفین بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کو حضرت حسنؓ کی زہر خورانی کے الزام میں متہم کرتے ہیں یا نہیں۔
1: البدایہ والنہایہ:ہم جب مصنف کے لکھے کے بموجب البدایہ والنہایہ کھولتے ہیں تو اس کے اسی صفحے پر جس کا مصنف نے حوالہ دیا ہے ہمیں یہ عبارت ملتی ہے:
وَعِندِی أَنَّ هَذَا لَيسَ بِصَحِيحٍ، وَ عَدَمُ صِحَّتِهِ عَن أَبِيهِ مُعَاوِيَةَ بِطَرِيقِ الأولى
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 43 سنہ 49ھ، تحت: ذکر من توفی ہذہ السنۃ من الاعیان: الحسن بن علیؓ)
ترجمہ: میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ یزید نے سیدنا حسنؓ کو زہر دے کر شہید کر دیا ہے، لہٰذا اس کے والدِ ماجد سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق یہ گمان کرنا تو بطریقِ اولیٰ غلط ہے۔
2: تاریخ طبری:* تاریخِ ابنِ جریر الطبری میں سرسری تلاش سے ہمیں یہ حوالہ نہیں ملا محققِ عصر حضرت مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ العالی کی تحقیق کے مطابق تاریخِ ابنِ جریر میں زہر خورانی کے واقعے تک کا ذکر نہیں پایا گیا۔
(سیرتِ معاویہؓ: جلد2 صفحہ201 تحت: زہر خورانی کا طعن الخ)
اور معروف ندوی مؤرخ حضرت مولانا شاہ معین الدین صاحب ندوی کی تحقیق بھی یہی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
یہ واقعہ مجھے طبری میں باوجودِ تلاش کے کہیں نہیں ملا۔
(سیرۃ الصحابہ: جلد2 صفحہ201 تحت: حضرت حسنؓ کی زہر خورانی اور اس کی تحقیق)
اگر مصنفِ نام و نسب تاریخِ طبری سے باسند کوئی حوالہ پیش کر دیں تو بشرطِ صحت اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
3: تاریخِ ابنِ عساکر: تہذیب تاریخِ ابنِ عساکر میں یہ واقعہ بے سند مذکور ہے۔ تاریخِ مدینۃ دمشق میں حافظ ابنِ عساکرؒ (متوفی 571ھ) نے اس واقعے کو باسند ذکر کیا ہے۔ پورا حوالہ سند کے ساتھ ملاحظہ ہو:
قَالَ وَ أَنَا مُحَمَّدُ بنُ سَعدٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُمَرَ، أَنَا عَبدُ اللهِ بنُ جَعفَرٍ، عَن عَبدِ اللهِ بنِ حَسَنٍ وَقَد سَمِعتُ بَعضَهُم يَقُولُ: كَانَ مُعَاوِيَةُ قَد أَوفَدَ لِبَعضِ خَدَمِهِ أَن يُسقِيَهُ سُمًّا۔
(تاریخِ مدینۃ و دمشق: جلد13 صفحہ 284 تحت: الحسن بن علی بن ابی طالب)
الجواب: اس واقعے کو نقل کرنے والا محمد بن عمر الواقدی ہے، اور واقدی نے جہاں دیگر بے اصل اور متروک روایات گھڑی ہیں، یہ روایت بھی واقدی ہی کی مرہونِ کرم ہے علمائے رجال نے واقدی پر بہت سخت تنقید کی ہے۔ بقدرِ ضرورت چند حوالہ جات حاضرِ خدمت ہیں:
1: امام بخاریؒ اسے متروک الحدیث قرار دیتے ہیں۔
2: امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ واقدی کذاب ہونے کے ساتھ احادیث میں تبدیلیاں بھی کرتا تھا۔
3: امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ واقدی کی تمام کتابیں دروغِ محض ہیں۔
4: یحییٰ بن معینؒ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔
5: امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھنے والے چار کذاب مشہور ہیں، جن میں پہلا واقدی مدینہ کا رہنے والا ہے۔
(تہذیب التہذیب: جلد7 صفحہ 342، 346 حرف المیم، تحت: محمد بن عمر بن الواقدی الاسلمی میزان الاعتدال: جلد3 صفحہ362، 363 تحت: محمد بن عمر بن واقد الاسلمی)
قدیم مؤرخ ابنِ ندیم واقدی کے متعلق لکھتا ہے:
وَكَانَ يَتَشَيعُ، حَسَنُ المَذْهَبِ، يَلزَمُ التَّقِيَّةَ، وَهُوَ الَّذِی رَوَى أَنَّ عَلِيًّا عَلَيهِ السَّلَامُ كَانَ مِن مُعجِزَاتِ النَّبِیﷺ كَالعَصَا لِمُوسى وَ غَيرِ ذَلِكَ مِنَ الأَخبَارِ
(الفہرست لابن الندیم: صفحہ111 تحت: اخبار الواقدی)
ترجمہ: واقدی اچھے مذہب والا شیعہ بزرگ تھا، اور تقیہ کو لازم جانتا تھا یہ وہ شخص ہے جس نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کے معجزات میں سے تھے، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے عصا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مردوں کو زندہ کرنا، نیز اس قسم کی دیگر اخبارات بھی اس نے نقل کی ہیں۔
سو واقدی کی مذکورہ روایت ہمارے لیے کیسے حجت ہو سکتی ہے؟
4: سر الشہادتین: سر الشہادتین میں زہر خورانی کے سلسلے میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نامِ نامی موجود نہیں ہے۔
5: تاریخِ ابنِ الاثیر الجزری: علامہ ابنِ الاثیر الجزریؒ نے الکامل فی التاریخ میں زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنتِ اشعث کندی کی طرف کی ہے:
فِی هَذِهِ السَّنَةِ تُوُفِّی الحَسَنُ بنُ عَلِی، سَمَّتْهُ زَوجَتُهُ جَعدَةُ بِنْتُ الأَشعَثِ بنِ قَيسٍ الكندِی
(الکامل لابنِ اثیر: جلد3 صفحہ182 السنۃ التاسعہ و الاربعین للہجرہ تحت وفاۃ الحسن بن علی رضی اللہ عنہما)
اور اسی 49ھ میں سیدنا حسن بن علیؓ نے وفات پائی ان کو ان کی بیوی جعدہ بنتِ اشعث بن قیس کندی نے زہر دیا تھا۔
ہاں، ابنِ اثیرؒ نے اس بات کی تصریح ضرور کی ہے کہ سیدنا حسنؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا حسینؓ کی موجودگی میں سیدنا سعید بن العاصؓ اموی نے پڑھائی تھی، جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے حاکمِ مدینہ تھے۔
(اسد الغابہ: جلد4 صفحہ15 تحت: حسن بن علیؓ)
6: تاریخِ الخمیس: مؤرخ الدیار بکری نے اپنی تاریخ میں بھی زہر خورانی کا واقعہ بیان کیا ہے اور اس کی نسبت جعدہ بنتِ اشعث کی طرف ہے، نہ کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف۔ ملاحظہ فرمائیے:
ثُمَّ دَخَلَت عَلَيهِ مِنَ الغَدِ وَهُوَ يُجَادُ بِنَفسِهِ وَالحُسَينُ عِندَ رَأسِهِ، فَقَالَ: يَا أَخِی، مَن تَتَّهِمُ؟ قَالَ: لِمَ تَقتُلُهُ؟ قَالَ: نَعَم. قَالَ: إِن يَكُنِ الَّذِی أَظُنُّ فَاللّٰهُ أَشَدُّ بَأسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلًا، وَإِلَّا فَمَا أُحِبُّ أَن يُقتَلَ بِی بَرِیءٌ وَفِی رِوَايَةٍ: قَالَ: وَاللّٰهِ لَا أَقُولُ لَكُم مَن سَقَانِی ثُمَّ قُضِی وَقَد ذَكَرَ يَعقُوبُ بنُ سُفيَانَ فِی تَارِيخِهِ أَنَّ جَعدَةَ بِنْت الأَشعَثِ بنِ قَيسٍ الكِندِی كَانَت تَحتَ الحَسَنِ بنِ عَلِی، فَزَعَمُوا أَنَّهَا سَمتْه
(تاریخِ الخمیس فی احوالِ انفسِ نفیس: جلد 4 صفحہ292، 293 تحت: ذکر وفاتِ الحسن بن علیؓ)
ترجمہ: عمرو بن اسحاق کہتا ہے کہ میں اگلے دن پھر حضرت حسنؓ کے ہاں حاضر ہوا اس وقت ان پر جان کنی کا وقت آیا چاہتا تھا سیدنا حسینؓ ان کے سرہانے تشریف فرما تھے حضرت حسینؓ نے پوچھا: بھائی! (آپ کو کس نے زہر دیا ہے اور) آپ کو کس پر شبہ ہے؟ حضرت حسنؓ نے دریافت فرمایا: کیوں پوچھ رہے ہو؟ کیا اسے قتل کرو گے؟ فرمایا: ہاں! سیدنا حسنؓ نے فرمایا: اگر وہی ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو اللہ تعالیٰ زورِ جنگ میں زیادہ شدید ہے اور سخت سزا دیتا ہے، اور اگر وہ نہیں ہے تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ مارا جائے اور ایک روایت میں فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں بتاؤں گا کہ مجھے کس نے زہر دیا پھر آپؓ کا انتقال ہو گیا اور یعقوب بن سفیان نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے کہ جعدہ بنتِ اشعث، جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، اسی نے آپؓ کو زہر دیا ہے۔
7: شواہد النبوۃ: شواہد النبوۃ میں بہت سی باتیں عقائدِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں۔ مثلاً:
1: بارہ اماموں کی امامت کا عقیدہ۔
(شواہد النبوۃ: صفحہ159 رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)
2: امامت کے منصوص من اللہ ہونے کا عقیدہ۔
(شواہد النبوۃ: صفحہ180، رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)
3: امام مہدیؓ کی سیدنا حسن عسکریؒ کے گھر پیدائش کا عقیدہ۔
(شواہد النبوۃ: صفحہ212، 213 رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)
4: سیدنا علیؓ کے آنحضرتﷺ کا وصی ہونے کا عقیدہ اور اس کے داخلِ کلمہ ہونے کا عقیدہ۔
(شواہد النبوۃ: صفحہ 124 رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)
سو ایسی کتاب کا کوئی حوالہ ہمارے لیے قطعاً حجت نہیں ہے۔
*8: الاصابہ فی تمییز الصحابہ:* حافظ ابنِ حجرؒ سیدنا حسنؓ کے سنینِ وفات کے اختلاف کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں:
وَيُقَالُ إِنَّهُ مَاتَ مَسمُومًا قَالَ ابن سَعدٍ: أَخبَرَنَا إِسمَاعِيلُ، عَن عُمَيرِ بنِ إِسحَاقَ: دَخَلتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِی عَلَى الحَسَنِ بنِ عَلِی، فَقَالَ: لَقَد لَفَظتُ طَائِفَةً مِن كَبِدِی، وَإِنِّی قَد سقيت السم مِرَارًا، فَلَم أُسقَ مِثلَ هَذَا فَأَتَاهُ الحُسَينُ بنُ عَلِی فَسَأَلَهُ: مَن سَقَاكَ؟ فَأَبَى أَن يُخبِرَهُ رَحِمَهُ اللّٰهُ
(الاصابہ: جلد2 صفحہ65، 66 حرف الحاء، تحت: الحسن بن علی بن ابی طالب)
ترجمہ: اور کہا جاتا ہے کہ سیدنا حسنؓ نے زہر سے انتقال کیا ابنِ سعد کی روایت ہے کہ ہمیں اسماعیل نے خبر دی کہ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں اور میرے ایک دوست سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپؓ نے فرمایا: میرے جگر کے کچھ ٹکڑے گر چکے ہیں، اور مجھے کئی دفعہ زہر پلایا گیا ہے، لیکن اس دفعہ جو زہر دیا گیا اس سے زیادہ قاتل کوئی زہر نہ تھا اس کے بعد سیدنا حسینؓ اپنے بھائی حضرت حسنؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا: آپ کو زہر کس نے دیا؟ لیکن سیدنا حسنؓ نے نام نہیں بتایا۔ رحمۃ اللہ
فائدہ: حافظ ابنِ حجرؒ کی روایت سے مترشح ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک یہ بات ہی مشتبہ ہے کہ حضرت حسنؓ کا انتقال زہر سے ہوا ہے چنانچہ زہر کی روایت یقال کر کے لکھتے ہیں، جو ضعفِ روایت کی علامت ہے۔
9: حیاۃ الحیوان: علامہ کمال الدین محمد بن موسیٰ الدمیریؒ (متوفی 808ھ) نے بھی حضرت حسنؓ کی زہر خورانی کے واقعے کی نسبت ایک خاتون مقدمہ بنتِ الاشعث کی طرف کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
وَكَانَ الحَسَنُ قَد سم، سمتْهُ امرَأَتُهُ مقدَمةُ بِنْتُ الأَشعَثِ۔
(حیاۃ الحیوان: جلد1 صفحہ73 تحت: خلافتہ امیر المؤمنین حسن بن علی بن ابی طالب)
ترجمہ: حضرت حسنؓ کو زہر دیا گیا، اور آپؓ کو زہر دینے والی مقدمہ بنتِ الاشعث ہے۔
10: مروج الذہب: صاحبِ مروج الذہب مؤرخ ابو الحسن المسعودیؒ (متوفی 346ھ) شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ الکنی والالقاب (جلد 3 صفحہ 184) اعیان الشیعہ (جلد1 صفحہ156) تنقیح المقال (جلد2 صفحہ 282) میں بحیثیتِ شیعہ ان کا ذکر موجود ہے لیکن انہوں نے بھی اپنی تاریخ مروج الذہب میں زہر خورانی کا تو ذکر کیا، مگر زہر دینے والے کا نام ذکر نہیں کیا:
عَلِی بنُ الحُسَينِ بنِ عَلِی بنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: دَخَلَ الحُسَينُ عَلَى عَمِّی الحَسَنِ بنِ عَلِی لَمَّا سُقِی السُّمَّ، فَقَامَ لِحَاجَةِ الإِنسَانِ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لَقَد سُقِيتُ السُّمَّ عِدَّةَ مِرَارٍ، فَمَا سُقِيتُ مِثلَ هَذِهِ لَقَد لَفَظتُ طَائِفَةً مِن كَبِدِی، فَرَأَيتُنِی أُقَبِّلُهَا وَأُعِيدُهَا فِی يَدِی فَقَالَ لَهُ الحُسَينُ: يَا أَخِی، مَن سَقَاكَ؟ قَالَ: وَمَا تُرِيدُ بِذَلِكَ؟ فَإِن كَانَ الَّذِی أَظُنُّهُ فَاللّٰهُ حَسِيبُهُ، وَإِن كَانَ غَيرُهُ فَمَا أُحِبُّ أَن يُؤخَذَ بِی بَرِیءٌ فَلَم يَلبَث بَعدَ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثًا حَتَّى تُوفّی وَذُكِرَ أَنَّ امرَأَتَهُ جَعدَةَ بِنْتَ الأَشعَثِ بنِ قَيسٍ الكِندِی سَقَتْهُ السُّمَّ، وَقَد كَانَ مُعَاوِيَةُ دَسَّ إِلَيهَا
(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 5 ذکر خلافۃ حسن بن علی ذکر لمع من اخبارہ وسیرہ تحت اسم الحسن)
ترجمہ: سیدنا زین العابدینؒ کا بیان ہے کہ میرے والدِ ماجد سیدنا حسینؓ میرے عمِ محترم سیدنا حسن بن علیؓ کے پاس ان کے زہر پلانے کے وقت گئے تو حضرت حسنؓ قضائے حاجت کے لیے گئے وہاں سے لوٹ کر کہا: مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ہے مگر اس مرتبہ کے جیسا کبھی نہ تھا اس میں میرے جگر کے ٹکڑے باہر آ گئے تم مجھے دیکھتے کہ میں ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا حضرت حسینؓ نے پوچھا: بھائی صاحب! آپ کو زہر کس نے دیا ہے؟ سیدنا حسنؓ نے کہا: اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ اگر زہر دینے والا وہی شخص ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو خدا اس (سے بدلہ لینے) کے لیے کافی ہے، اور اگر وہ کوئی اور ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ پکڑا جائے اس کے بعد حضرت حسنؓ زیادہ نہ ٹھہرے اور تین روز بعد انتقال فرما گئے اور ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کی اہلیہ جعدہ بنتِ اشعث بن قیس الکندی نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اشارے سے زہر پلایا۔
فائدہ:مسعودی جیسے متعصب شیعہ مؤرخ کو بھی کوئی مستند روایت اس"افسانے کے متعلق نہ مل سکی اس روایت کے دو حصے ہیں اصل حصے میں زہر دینے والے کا نام نہیں دوسرا حصہ جو محض روایتی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کا طرزِ تحریر شاہد ہے، اس میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نام ہے، لیکن اس روایتی ٹکڑے کی حیثیت لفظ ذُکِرَ سے معلوم ہو جاتی ہے، جو عربی میں نہایت کمزور واقعے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سو اس لفظ سے اس افسانے کی غیر یقینی و اشتباہی صورت واضح ہو جاتی ہے۔
لمحہ فکریہ:اب اس روایت پر عقلی اعتبار سے بحث کرتے ہیں:
1: جگر کے ٹکڑوں کا معدے میں داخل ہو کر قضائے حاجت کے وقت خارج ہونا اگر تسلیم کر لیا جائے تو کیا سیدنا حسنؓ جیسے نظیف الطبع انسان کا ان ٹکڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی تسلیم کر لیا جائے گا؟ ہمارے نزدیک تو یہ بات ہی بعید ہے۔
2: سیدنا حسینؓ کے دریافت کرنے پر حضرت حسنؓ نے انہیں زہر دینے والے کا نام بتانے سے صاف انکار کر دیا، لیکن مصنفِ نام و نسب کو یہ بات پتہ چل گئی:
سرِ نہاں کہ زاہد و عارف بہ کس نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید؟
3: سیدنا حسنؓ کے اس بیان سے یہ حقیقت بھی مبرہن اور بے نقاب ہو گئی کہ خود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے والے کا کوئی قطعی علم و یقین نہیں، صرف وہم و گمان ہے، ظن و تخمین ہے، جیسا کہ أَظُنُّهُ لفظ ظاہر ہے اور یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں کہ ظن و گمان شرعاً کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
4: اگر سیدنا حسنؓ کے ارشاد پر غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زہر دلانے میں حضرت امیرِ معاویہؓ کا قطعاً کوئی دخل نہیں اگر زہر دیا گیا اور دلایا تو اور جو کوئی زہر دینے دلانے والا ہو سکتا ہے، مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ نہیں ہو سکتے کیونکہ سیدنا حسنؓ اپنے بھائی کے استفسار پر فرما رہے ہیں:
فَإِن كَانَ الَّذِی أَظُنُّهُ فَاللّٰهُ حَسِيبُهُ، وَإِن كَانَ غَيرُهُ فَمَا أُحِبُّ أَن يُؤخَذَ بِی بَرِیءٌ۔
ترجمہ: اگر وہی ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو اللہ کافی ہے، اور اگر وہ کوئی اور ہے تو میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ پکڑا جائے۔
اس ارشاد سے واضح ہے کہ جس شخص کے متعلق حضرت حسنؓ کا گمان ہے، وہ اور چاہے جو ہو، سیدنا امیرِ معاویہؓ نہیں ہو سکتے، کیونکہ انہیں کوئی نہیں پکڑ سکتا اخذ و مواخذہ کا سوال ان کے متعلق پیدا ہی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تو ملک کے حاکمِ اعلیٰ اور خلیفہ ہیں، مسندِ اقتدار پر متمکن ہیں انہیں یا ان کے اس کام پر مقرر کردہ شخص کو کون پکڑ سکتا ہے؟ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بیان سے یہ حقیقت کھل گئی ہے کہ ان کے گمان میں یعنی علم میں نہیں جو شخص زہر دینے والا تھا وہ کوئی معمولی آدمی تھا، جسے پکڑا اور قانون کے شکنجے میں کسا جا سکتا ہے جبھی تو آپؓ فرماتے ہیں کہ یہ مجھے پسند نہیں کہ میری وجہ سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے۔
بہرحال اس افسانوی روایت کا درایتی حیثیت سے جب تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ:
1: خود حضرت حسنؓ کو زہر دینے والے کا کوئی یقینی علم نہیں۔
2: کسی کے متعلق ان کا صرف گمان ہے، مگر اس کا نام بتانے سے آپؓ نے قطعی طور پر انکار فرما دیا۔
3: اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے زہر دینے والے کا پتہ چل سکے حضرت حسنؓ کی وفات کے ساتھ اس ظن اور گمان کا بھی خاتمہ ہو گیا جو کسی کے متعلق ہو سکتا تھا اب کسی کے متعلق علم و یقین تو کجا، وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا۔ (ماہنامہ دعوت: امیر معاویہؓ، نمبر صفحہ 106، 109)
11: تحف العقول: تلاشِ بسیار کے باوجود یہ کتاب ہمیں دستیاب نہیں ہو سکی مصنفِ نام و نسب اس کی عبارت باسند ذکر کریں تو پھر بشرطِ صحت اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
12: الاستیعاب:* حافظ ابنِ عبدالبرؒ (متوفی 464ھ) زہر خورانی کے سلسلے میں جعدہ بنتِ اشعث کے ذکر کے بعد تحریر کرتے ہیں:
وَقَالَت طَائِفَةٌ: كَانَ ذَلِكَ بِتَدسِيسِ مُعَاوِيَةَ إِلَيهَا
(الاستیعاب: جلد1 صفحہ440 تحت: ترجمہ الحسن بن علی بن ابی طالب الہاشمی)
ترجمہ: ایک چھوٹا گروہ کہتا ہے کہ جعدہ بنتِ اشعث نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے کہنے پر سیدنا حسنؓ کو زہر دیا تھا۔
ہاں! بالکل ایک چھوٹا گروہ، شیعہ اور شیعہ کے ایجنٹ کہتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دلوایا تھا لیکن حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی ایسے واقعات کلماتِ تمریض وَقَالَت طَائِفَةٌ یا ذکر یا یقَال جیسے کمزور اور مشتبہ اقوال سے ثابت ہو سکتے ہیں۔
مصنف کے پیش کردہ حوالہ جات کی حقیقت واضح ہو جانے کے بعد بطورِ دلیل ہم عالمِ اسلام کے تین مقتدر علماء کرام کی تصریحات پیش کر رہے ہیں۔ جبکہ علامہ حافظ ابنِ کثیرؒ اور علامہ ابنِ خلدونؒ کا حوالہ صفحاتِ گزشتہ میں گزر چکا ہے جن میں انہوں نے نہایت واضح الفاظ میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس تہمت کی نفی کی ہے یاد رہے کہ ان علماء کی تحقیقات و دیانت داری مصنفِ نام و نسب کے نزدیک بھی مسلم ہے۔