سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 4

عَلِی بنُ الحُسَينِ بنِ عَلِی بنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: دَخَلَ الحُسَينُ عَلَى عَمِّی الحَسَنِ بنِ عَلِی لَمَّا سُقِی السُّمَّ، فَقَامَ لِحَاجَةِ الإِنسَانِ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لَقَد سُقِيتُ السُّمَّ عِدَّةَ مِرَارٍ، فَمَا سُقِيتُ مِثلَ هَذِهِ لَقَد لَفَظتُ طَائِفَةً مِن كَبِدِی، فَرَأَيتُنِی أُقَبِّلُهَا وَأُعِيدُهَا فِی يَدِی فَقَالَ لَهُ الحُسَينُ: يَا أَخِی، مَن سَقَاكَ؟ قَالَ: وَمَا تُرِيدُ بِذَلِكَ؟ فَإِن كَانَ الَّذِی أَظُنُّهُ فَاللّٰهُ حَسِيبُهُ، وَإِن كَانَ غَيرُهُ فَمَا أُحِبُّ أَن يُؤخَذَ بِی بَرِیءٌ فَلَم يَلبَث بَعدَ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثًا حَتَّى تُوفّی وَذُكِرَ أَنَّ امرَأَتَهُ جَعدَةَ بِنْتَ الأَشعَثِ بنِ قَيسٍ الكِندِی سَقَتْهُ السُّمَّ، وَقَد كَانَ مُعَاوِيَةُ دَسَّ إِلَيهَا 

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 5 ذکر خلافۃ حسن بن علی ذکر لمع من اخبارہ وسیرہ تحت اسم الحسن) 

ترجمہ: سیدنا زین العابدینؒ کا بیان ہے کہ میرے والدِ ماجد سیدنا حسینؓ میرے عمِ محترم سیدنا حسن بن علیؓ کے پاس ان کے زہر پلانے کے وقت گئے تو حضرت حسنؓ قضائے حاجت کے لیے گئے وہاں سے لوٹ کر کہا: مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ہے مگر اس مرتبہ کے جیسا کبھی نہ تھا اس میں میرے جگر کے ٹکڑے باہر آ گئے تم مجھے دیکھتے کہ میں ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا حضرت حسینؓ نے پوچھا: بھائی صاحب! آپ کو زہر کس نے دیا ہے؟ سیدنا حسنؓ نے کہا: اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ اگر زہر دینے والا وہی شخص ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو خدا اس (سے بدلہ لینے) کے لیے کافی ہے، اور اگر وہ کوئی اور ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ پکڑا جائے اس کے بعد حضرت حسنؓ زیادہ نہ ٹھہرے اور تین روز بعد انتقال فرما گئے اور ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کی اہلیہ جعدہ بنتِ اشعث بن قیس الکندی نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اشارے سے زہر پلایا۔

فائدہ:مسعودی جیسے متعصب شیعہ مؤرخ کو بھی کوئی مستند روایت اس"افسانے کے متعلق نہ مل سکی اس روایت کے دو حصے ہیں اصل حصے میں زہر دینے والے کا نام نہیں دوسرا حصہ جو محض روایتی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کا طرزِ تحریر شاہد ہے، اس میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نام ہے، لیکن اس روایتی ٹکڑے کی حیثیت لفظ ذُکِرَ سے معلوم ہو جاتی ہے، جو عربی میں نہایت کمزور واقعے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سو اس لفظ سے اس افسانے کی غیر یقینی و اشتباہی صورت واضح ہو جاتی ہے۔

لمحہ فکریہ:اب اس روایت پر عقلی اعتبار سے بحث کرتے ہیں:  

1: جگر کے ٹکڑوں کا معدے میں داخل ہو کر قضائے حاجت کے وقت خارج ہونا اگر تسلیم کر لیا جائے تو کیا سیدنا حسنؓ جیسے نظیف الطبع انسان کا ان ٹکڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی تسلیم کر لیا جائے گا؟ ہمارے نزدیک تو یہ بات ہی بعید ہے۔  

2: سیدنا حسینؓ کے دریافت کرنے پر حضرت حسنؓ نے انہیں زہر دینے والے کا نام بتانے سے صاف انکار کر دیا، لیکن مصنفِ نام و نسب کو یہ بات پتہ چل گئی:  

سرِ نہاں کہ زاہد و عارف بہ کس نہ گفت  

در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید؟  

3: سیدنا حسنؓ کے اس بیان سے یہ حقیقت بھی مبرہن اور بے نقاب ہو گئی کہ خود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے والے کا کوئی قطعی علم و یقین نہیں، صرف وہم و گمان ہے، ظن و تخمین ہے، جیسا کہ أَظُنُّهُ لفظ ظاہر ہے اور یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں کہ ظن و گمان شرعاً کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔  

4: اگر سیدنا حسنؓ کے ارشاد پر غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زہر دلانے میں حضرت امیرِ معاویہؓ کا قطعاً کوئی دخل نہیں اگر زہر دیا گیا اور دلایا تو اور جو کوئی زہر دینے دلانے والا ہو سکتا ہے، مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ نہیں ہو سکتے کیونکہ سیدنا حسنؓ اپنے بھائی کے استفسار پر فرما رہے ہیں:  

فَإِن كَانَ الَّذِی أَظُنُّهُ فَاللّٰهُ حَسِيبُهُ، وَإِن كَانَ غَيرُهُ فَمَا أُحِبُّ أَن يُؤخَذَ بِی بَرِیءٌ۔  

ترجمہ: اگر وہی ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو اللہ کافی ہے، اور اگر وہ کوئی اور ہے تو میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ پکڑا جائے۔  

اس ارشاد سے واضح ہے کہ جس شخص کے متعلق حضرت حسنؓ کا گمان ہے، وہ اور چاہے جو ہو، سیدنا امیرِ معاویہؓ نہیں ہو سکتے، کیونکہ انہیں کوئی نہیں پکڑ سکتا اخذ و مواخذہ کا سوال ان کے متعلق پیدا ہی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تو ملک کے حاکمِ اعلیٰ اور خلیفہ ہیں، مسندِ اقتدار پر متمکن ہیں انہیں یا ان کے اس کام پر مقرر کردہ شخص کو کون پکڑ سکتا ہے؟ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بیان سے یہ حقیقت کھل گئی ہے کہ ان کے گمان میں یعنی علم میں نہیں جو شخص زہر دینے والا تھا وہ کوئی معمولی آدمی تھا، جسے پکڑا اور قانون کے شکنجے میں کسا جا سکتا ہے جبھی تو آپؓ فرماتے ہیں کہ یہ مجھے پسند نہیں کہ میری وجہ سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے۔

بہرحال اس افسانوی روایت کا درایتی حیثیت سے جب تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ:  

1: خود حضرت حسنؓ کو زہر دینے والے کا کوئی یقینی علم نہیں۔  

2: کسی کے متعلق ان کا صرف گمان ہے، مگر اس کا نام بتانے سے آپؓ نے قطعی طور پر انکار فرما دیا۔  

3: اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے زہر دینے والے کا پتہ چل سکے حضرت حسنؓ کی وفات کے ساتھ اس ظن اور گمان کا بھی خاتمہ ہو گیا جو کسی کے متعلق ہو سکتا تھا اب کسی کے متعلق علم و یقین تو کجا، وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا۔ (ماہنامہ دعوت: امیر معاویہؓ، نمبر صفحہ 106، 109)

11: تحف العقول: تلاشِ بسیار کے باوجود یہ کتاب ہمیں دستیاب نہیں ہو سکی مصنفِ نام و نسب اس کی عبارت باسند ذکر کریں تو پھر بشرطِ صحت اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

12: الاستیعاب:* حافظ ابنِ عبدالبرؒ (متوفی 464ھ) زہر خورانی کے سلسلے میں جعدہ بنتِ اشعث کے ذکر کے بعد تحریر کرتے ہیں:  

وَقَالَت طَائِفَةٌ: كَانَ ذَلِكَ بِتَدسِيسِ مُعَاوِيَةَ إِلَيهَا 

(الاستیعاب: جلد1 صفحہ440 تحت: ترجمہ الحسن بن علی بن ابی طالب الہاشمی) 

ترجمہ: ایک چھوٹا گروہ کہتا ہے کہ جعدہ بنتِ اشعث نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے کہنے پر سیدنا حسنؓ کو زہر دیا تھا۔

صفحہ 3 از 4