سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 4

(الکامل لابنِ اثیر: جلد3 صفحہ182 السنۃ التاسعہ و الاربعین للہجرہ تحت وفاۃ الحسن بن علی رضی اللہ عنہما)

اور اسی 49ھ میں سیدنا حسن بن علیؓ نے وفات پائی ان کو ان کی بیوی جعدہ بنتِ اشعث بن قیس کندی نے زہر دیا تھا۔ 

ہاں، ابنِ اثیرؒ نے اس بات کی تصریح ضرور کی ہے کہ سیدنا حسنؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا حسینؓ کی موجودگی میں سیدنا سعید بن العاصؓ اموی نے پڑھائی تھی، جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے حاکمِ مدینہ تھے۔ 

(اسد الغابہ: جلد4 صفحہ15 تحت: حسن بن علیؓ)

6: تاریخِ الخمیس:  مؤرخ الدیار بکری نے اپنی تاریخ میں بھی زہر خورانی کا واقعہ بیان کیا ہے اور اس کی نسبت جعدہ بنتِ اشعث کی طرف ہے، نہ کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف۔ ملاحظہ فرمائیے:  

ثُمَّ دَخَلَت عَلَيهِ مِنَ الغَدِ وَهُوَ يُجَادُ بِنَفسِهِ وَالحُسَينُ عِندَ رَأسِهِ، فَقَالَ: يَا أَخِی، مَن تَتَّهِمُ؟ قَالَ: لِمَ تَقتُلُهُ؟ قَالَ: نَعَم. قَالَ: إِن يَكُنِ الَّذِی أَظُنُّ فَاللّٰهُ أَشَدُّ بَأسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلًا، وَإِلَّا فَمَا أُحِبُّ أَن يُقتَلَ بِی بَرِیءٌ وَفِی رِوَايَةٍ: قَالَ: وَاللّٰهِ لَا أَقُولُ لَكُم مَن سَقَانِی ثُمَّ قُضِی وَقَد ذَكَرَ يَعقُوبُ بنُ سُفيَانَ فِی تَارِيخِهِ أَنَّ جَعدَةَ بِنْت الأَشعَثِ بنِ قَيسٍ الكِندِی كَانَت تَحتَ الحَسَنِ بنِ عَلِی، فَزَعَمُوا أَنَّهَا سَمتْه  

(تاریخِ الخمیس فی احوالِ انفسِ نفیس: جلد 4 صفحہ292، 293 تحت: ذکر وفاتِ الحسن بن علیؓ)

ترجمہ: عمرو بن اسحاق کہتا ہے کہ میں اگلے دن پھر حضرت حسنؓ کے ہاں حاضر ہوا اس وقت ان پر جان کنی کا وقت آیا چاہتا تھا سیدنا حسینؓ ان کے سرہانے تشریف فرما تھے حضرت حسینؓ نے پوچھا: بھائی! (آپ کو کس نے زہر دیا ہے اور) آپ کو کس پر شبہ ہے؟ حضرت حسنؓ نے دریافت فرمایا: کیوں پوچھ رہے ہو؟ کیا اسے قتل کرو گے؟ فرمایا: ہاں! سیدنا حسنؓ نے فرمایا: اگر وہی ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو اللہ تعالیٰ زورِ جنگ میں زیادہ شدید ہے اور سخت سزا دیتا ہے، اور اگر وہ نہیں ہے تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ مارا جائے اور ایک روایت میں فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں بتاؤں گا کہ مجھے کس نے زہر دیا پھر آپؓ کا انتقال ہو گیا اور یعقوب بن سفیان نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے کہ جعدہ بنتِ اشعث، جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، اسی نے آپؓ کو زہر دیا ہے۔

7: شواہد النبوۃ: شواہد النبوۃ میں بہت سی باتیں عقائدِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں۔ مثلاً:  

1: بارہ اماموں کی امامت کا عقیدہ۔ 

(شواہد النبوۃ: صفحہ159 رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)

2: امامت کے منصوص من اللہ ہونے کا عقیدہ۔ 

(شواہد النبوۃ: صفحہ180، رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)  

3: امام مہدیؓ کی سیدنا حسن عسکریؒ کے گھر پیدائش کا عقیدہ۔ 

(شواہد النبوۃ: صفحہ212، 213 رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد) 

4: سیدنا علیؓ کے آنحضرتﷺ کا وصی ہونے کا عقیدہ اور اس کے داخلِ کلمہ ہونے کا عقیدہ۔ 

(شواہد النبوۃ: صفحہ 124 رکنِ سادس، در بیانِ دلائل و شواہد)  

سو ایسی کتاب کا کوئی حوالہ ہمارے لیے قطعاً حجت نہیں ہے۔

*8: الاصابہ فی تمییز الصحابہ:* حافظ ابنِ حجرؒ سیدنا حسنؓ کے سنینِ وفات کے اختلاف کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں:  

وَيُقَالُ إِنَّهُ مَاتَ مَسمُومًا قَالَ ابن سَعدٍ: أَخبَرَنَا إِسمَاعِيلُ، عَن عُمَيرِ بنِ إِسحَاقَ: دَخَلتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِی عَلَى الحَسَنِ بنِ عَلِی، فَقَالَ: لَقَد لَفَظتُ طَائِفَةً مِن كَبِدِی، وَإِنِّی قَد سقيت السم مِرَارًا، فَلَم أُسقَ مِثلَ هَذَا فَأَتَاهُ الحُسَينُ بنُ عَلِی فَسَأَلَهُ: مَن سَقَاكَ؟ فَأَبَى أَن يُخبِرَهُ رَحِمَهُ اللّٰهُ 

(الاصابہ: جلد2 صفحہ65، 66 حرف الحاء، تحت: الحسن بن علی بن ابی طالب) 

ترجمہ: اور کہا جاتا ہے کہ سیدنا حسنؓ نے زہر سے انتقال کیا ابنِ سعد کی روایت ہے کہ ہمیں اسماعیل نے خبر دی کہ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں اور میرے ایک دوست سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپؓ نے فرمایا: میرے جگر کے کچھ ٹکڑے گر چکے ہیں، اور مجھے کئی دفعہ زہر پلایا گیا ہے، لیکن اس دفعہ جو زہر دیا گیا اس سے زیادہ قاتل کوئی زہر نہ تھا اس کے بعد سیدنا حسینؓ اپنے بھائی حضرت حسنؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا: آپ کو زہر کس نے دیا؟ لیکن سیدنا حسنؓ نے نام نہیں بتایا۔ رحمۃ اللہ

فائدہ: حافظ ابنِ حجرؒ کی روایت سے مترشح ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک یہ بات ہی مشتبہ ہے کہ حضرت حسنؓ کا انتقال زہر سے ہوا ہے چنانچہ زہر کی روایت یقال کر کے لکھتے ہیں، جو ضعفِ روایت کی علامت ہے۔

9: حیاۃ الحیوان: علامہ کمال الدین محمد بن موسیٰ الدمیریؒ (متوفی 808ھ) نے بھی حضرت حسنؓ کی زہر خورانی کے واقعے کی نسبت ایک خاتون مقدمہ بنتِ الاشعث کی طرف کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:  

وَكَانَ الحَسَنُ قَد سم، سمتْهُ امرَأَتُهُ مقدَمةُ بِنْتُ الأَشعَثِ۔ 

(حیاۃ الحیوان: جلد1 صفحہ73 تحت: خلافتہ امیر المؤمنین حسن بن علی بن ابی طالب)  

ترجمہ: حضرت حسنؓ کو زہر دیا گیا، اور آپؓ کو زہر دینے والی مقدمہ بنتِ الاشعث ہے۔

10: مروج الذہب: صاحبِ مروج الذہب مؤرخ ابو الحسن المسعودیؒ (متوفی 346ھ) شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ الکنی والالقاب (جلد 3 صفحہ 184) اعیان الشیعہ (جلد1 صفحہ156) تنقیح المقال (جلد2 صفحہ 282) میں بحیثیتِ شیعہ ان کا ذکر موجود ہے لیکن انہوں نے بھی اپنی تاریخ مروج الذہب میں زہر خورانی کا تو ذکر کیا، مگر زہر دینے والے کا نام ذکر نہیں کیا:  

صفحہ 2 از 4