سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 4

مصنفِ نام و نسب بعنوان سیدنا حسنؓ کو زہر کس نے دیا؟ کے تحت لکھتے ہیں:

رہا مسئلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کس نے دیا تو تاریخی اعتبار سے ایک واضح بات ہے کہ انہیں (ان کی بیوی ناقل) جعدہ نے زہر دیا، مگر اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ کیا یہ جعدہ کا ذاتی فعل تھا؟ اور پھر جعدہ کو حضرت حسنؓ سے ایسا کیا اختلاف یا دشمنی تھی جس کی بناء پر اس نے یہ حرکت کی؟ یا اس زہر خورانی کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ تھا؟ اگر تھا تو کس کا؟ عام طور پر ہمارے واعظینِ منبر پر جو کچھ بیان کرتے ہیں، بعض اوقات ان میں اور تاریخی حقائق و شواہد میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔

(نام و نسب: صفحہ538)

پھر لکھتے ہیں: 

بہرحال ہم اپنی طرف سے اس موضوع پر کچھ نہیں کہتے، درج ذیل مستند تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کر لیا جائے، حقیقت خود بخود منکشف ہو جائے گی ملاحظہ کیجیے:  

1: البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ43  

2: تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ202  

3: ابنِ عساکر: جلد4 صفحہ202  

4: سر الشہادتین: صفحہ4  

5: تاریخِ ابنِ اثیر: جلد3 صفحہ228  

6: تاریخِ خمیس: جلد2 صفحہ 292  

7: شواہد النبوۃ: صفحہ173  

8: الاصابہ فی تمییز الصحابہ: جلد1 صفحہ375

9: حیاۃ الحیوان: جلد1 صفحہ54  

10: مروج الذہب: جلد2 صفحہ303  

11: تحف العقول: صفحہ 291  

12: الاستیعاب: جلد1 صفحہ374

اگرچہ اس اعتراض میں مصنفِ موصوف نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نام کی صراحت نہیں فرمائی، مگر سابقہ خامہ فرسائیوں کے پیشِ نظر اس بات کے کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جناب نے سیدنا حسنؓ کی زہر خورانی کا الزام حضرت امیرِ معاویہؓ پر عائد کر کے آپؓ کو قاتلِ حسنؓ بنا دیا ہے، نعوذ باللہ۔ لیکن سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نامِ نامی کو ردائے تقیہ میں مستور رکھا ہے آئیے! اب ہم نمبر وار کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا جن کتب کے حوالہ جات (بقیدِ جلد و صفحہ) مصنف نے دیے ہیں، ان کے مصنفین بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کو حضرت حسنؓ کی زہر خورانی کے الزام میں متہم کرتے ہیں یا نہیں۔

1: البدایہ والنہایہ:ہم جب مصنف کے لکھے کے بموجب البدایہ والنہایہ کھولتے ہیں تو اس کے اسی صفحے پر جس کا مصنف نے حوالہ دیا ہے ہمیں یہ عبارت ملتی ہے:  

وَعِندِی أَنَّ هَذَا لَيسَ بِصَحِيحٍ، وَ عَدَمُ صِحَّتِهِ عَن أَبِيهِ مُعَاوِيَةَ بِطَرِيقِ الأولى 

(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 43 سنہ 49ھ، تحت: ذکر من توفی ہذہ السنۃ من الاعیان: الحسن بن علیؓ)  

ترجمہ: میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ یزید نے سیدنا حسنؓ کو زہر دے کر شہید کر دیا ہے، لہٰذا اس کے والدِ ماجد سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق یہ گمان کرنا تو بطریقِ اولیٰ غلط ہے۔

2: تاریخ طبری:* تاریخِ ابنِ جریر الطبری میں سرسری تلاش سے ہمیں یہ حوالہ نہیں ملا محققِ عصر حضرت مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ العالی کی تحقیق کے مطابق تاریخِ ابنِ جریر میں زہر خورانی کے واقعے تک کا ذکر نہیں پایا گیا۔ 

(سیرتِ معاویہؓ: جلد2 صفحہ201 تحت: زہر خورانی کا طعن الخ)  

اور معروف ندوی مؤرخ حضرت مولانا شاہ معین الدین صاحب ندوی کی تحقیق بھی یہی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:  

یہ واقعہ مجھے طبری میں باوجودِ تلاش کے کہیں نہیں ملا۔ 

(سیرۃ الصحابہ: جلد2 صفحہ201 تحت: حضرت حسنؓ کی زہر خورانی اور اس کی تحقیق)  

اگر مصنفِ نام و نسب تاریخِ طبری سے باسند کوئی حوالہ پیش کر دیں تو بشرطِ صحت اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

3: تاریخِ ابنِ عساکر: تہذیب تاریخِ ابنِ عساکر میں یہ واقعہ بے سند مذکور ہے۔ تاریخِ مدینۃ دمشق میں حافظ ابنِ عساکرؒ (متوفی 571ھ) نے اس واقعے کو باسند ذکر کیا ہے۔ پورا حوالہ سند کے ساتھ ملاحظہ ہو:  

قَالَ وَ أَنَا مُحَمَّدُ بنُ سَعدٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُمَرَ، أَنَا عَبدُ اللهِ بنُ جَعفَرٍ، عَن عَبدِ اللهِ بنِ حَسَنٍ وَقَد سَمِعتُ بَعضَهُم يَقُولُ: كَانَ مُعَاوِيَةُ قَد أَوفَدَ لِبَعضِ خَدَمِهِ أَن يُسقِيَهُ سُمًّا۔  

(تاریخِ مدینۃ و دمشق: جلد13 صفحہ 284 تحت: الحسن بن علی بن ابی طالب)

الجواب: اس واقعے کو نقل کرنے والا محمد بن عمر الواقدی ہے، اور واقدی نے جہاں دیگر بے اصل اور متروک روایات گھڑی ہیں، یہ روایت بھی واقدی ہی کی مرہونِ کرم ہے علمائے رجال نے واقدی پر بہت سخت تنقید کی ہے۔ بقدرِ ضرورت چند حوالہ جات حاضرِ خدمت ہیں:  

1: امام بخاریؒ اسے متروک الحدیث قرار دیتے ہیں۔  

2: امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ واقدی کذاب ہونے کے ساتھ احادیث میں تبدیلیاں بھی کرتا تھا۔  

3: امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ واقدی کی تمام کتابیں دروغِ محض ہیں۔  

4: یحییٰ بن معینؒ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔  

5: امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھنے والے چار کذاب مشہور ہیں، جن میں پہلا واقدی مدینہ کا رہنے والا ہے۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد7 صفحہ 342، 346 حرف المیم، تحت: محمد بن عمر بن الواقدی الاسلمی میزان الاعتدال: جلد3 صفحہ362، 363 تحت: محمد بن عمر بن واقد الاسلمی)

قدیم مؤرخ ابنِ ندیم واقدی کے متعلق لکھتا ہے:  

وَكَانَ يَتَشَيعُ، حَسَنُ المَذْهَبِ، يَلزَمُ التَّقِيَّةَ، وَهُوَ الَّذِی رَوَى أَنَّ عَلِيًّا عَلَيهِ السَّلَامُ كَانَ مِن مُعجِزَاتِ النَّبِیﷺ كَالعَصَا لِمُوسى وَ غَيرِ ذَلِكَ مِنَ الأَخبَارِ 

(الفہرست لابن الندیم: صفحہ111 تحت: اخبار الواقدی)  

ترجمہ: واقدی اچھے مذہب والا شیعہ بزرگ تھا، اور تقیہ کو لازم جانتا تھا یہ وہ شخص ہے جس نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کے معجزات میں سے تھے، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے عصا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مردوں کو زندہ کرنا، نیز اس قسم کی دیگر اخبارات بھی اس نے نقل کی ہیں۔  

سو واقدی کی مذکورہ روایت ہمارے لیے کیسے حجت ہو سکتی ہے؟

4: سر الشہادتین: سر الشہادتین میں زہر خورانی کے سلسلے میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نامِ نامی موجود نہیں ہے۔

5: تاریخِ ابنِ الاثیر الجزری: علامہ ابنِ الاثیر الجزریؒ نے الکامل فی التاریخ میں زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنتِ اشعث کندی کی طرف کی ہے:  

فِی هَذِهِ السَّنَةِ تُوُفِّی الحَسَنُ بنُ عَلِی، سَمَّتْهُ زَوجَتُهُ جَعدَةُ بِنْتُ الأَشعَثِ بنِ قَيسٍ الكندِی

صفحہ 1 از 4