مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 5 از 5

سوم:دنیا کی ذہین ترین شخصیتوں کو عموماً یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ اگر ان کی صحیح تہذیب و تربیت نہ ہو پائے تو وہ اپنا راستہ خود تلاش کرتی ہیں اور اپنے آپ کو اتنی قد آور اور بلند و بالا سمجھنے لگتی ہیں کہ باقی ساری دنیا انہیں پستہ قد نظر آتی ہے یہی حادثہ مودودی کو بھی کو بھی پیش آیا حق تعالیٰ نے ان کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا، لیکن بدقسمتی سے انہوں نے دل کا کام بھی دماغ سے کیا اور خوش فہمی کی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ تمام اکابر امت انہیں بالشیتے نظر آنے لگے، اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ دین کا جو فہم ان کو عطا ہوا ہے وہ ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوا تھا یہی خوش فہمی ان کی خودرائی اور اعجاب بالنفس کا ذریعہ بن گئی۔ 

چہارم: ان کے ذہن پر دور جدید کا کچھ ایسا رعب چھایا کہ انہیں دین اسلام کو اس کی اصل شکل میں پیش کرنا مشکل نظر آیا اس لیے انہوں نے اس کی اصلاح و ترمیم کر کے دورِ جدید کے اذہان کو مطمئن کرنا ضروری سمجھا، خواہ اسلام کی ہیئت ہی کیوں نہ بدل جائے جیسا کہ آج جمہوریت دنیا کے دماغ پر ایسی چھائی ہوئی ہے کہ لوگ کوشش کر کے اسلام کے نظامِ حکومت کو جمہوریت پر چسپاں کرنے کی کوش کرتے ہیں۔

 پنجم: ان تمام امور کے ساتھ جب ان کے زورِ قلم اور شوخی تحریر کی آمیزش ہوئی تو انہیں اکابر امت کے حق میں حدِ ادب عبور کرنے پر آمادہ کیا، اور اس بےادبی کی نحوست ان کی ساری تحریر پر غالب آ گئی۔

کاش مودودی جیسے ذہین و فطین آدمی کی صحیح تربیت ہوئی ہوتی تو ان کا وجود امت کے لیے باعثِ برکت اور اسلام کے لیے لائق فخر ہوتا۔

غنی روز سیاه پیر کنعان را تماشا کُن

کہ نور دیده اش روشن کند چشم زلیخا را

(اختلاف امت اور صراط مستقیم: صفحہ 189، 191، بعنوان مودودی)

چونکہ پیر نصیر صاحب کے نزدیک مودودی کی بعض دینی خدمات کو نظر انداز کرنا محض فرقہ پرستی ہو گی۔ ( نام و نسب: صفحہ 534)

لہٰذا ہم نے مودودی کی دینی خدمات کو مودودی ہی کی کتابوں سے بطورِ مشتے نمونہ از خروارے نقل کر دیا ہے، اور جناب کو دعوتِ انصاف دیتے ہیں کہ کیا مودودی کی یہی دینی خدمات ہیں جن کو نظر انداز کرنا محض فرقہ پرستی ہو گی؟ یاد رہے کہ یہ حوالہ جات مودودی دریائے فیض سے صرف چند قطرے ہیں۔

ہم مصنف نام و نسب کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ مودودی کی ان عبارات کو بھی نام و نسب کے آئندہ ایڈیشن میں ضرور درج فرمائیے گا اور آخر میں یہ لکھنا ہرگز نہ بھولیے گا

ذات کو بحیثیت مجموعی مطعون نہ کرے۔


صفحہ 5 از 5