1: یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو حضرت آدم علیہ السلام سے ظہور میں آئی بس ایک فوری جذبہ نے جو شیطانی تحریص کے زیرِ اثر ابھر آیا تھا، ان پر ذہول طاری کر دیا اور ضبطِ نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ طاعت کے مقامِ بلند سے معصیت کی پستی میں جا گرے۔
(تفہیم القرآن: جلد2 صفحہ133 بحوالہ اختلافِ امت اور صراط مستقیم: صفحہ 133)
2: پیغمبروں تک کو نفسِ شریر کی رہزنی کے خطرے پیش آئے ہیں، چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام جیسے جلیلُ القدر پیغمبر کو ایک موقع پر تنبیہ کی گئی ہے: لَا تَتَّبِعِ الۡهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ
(سورۃ ص: آیت 26)
ہوائے نفس کی پیروی نہ کرنا ورنہ یہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔
(تفہیمات: صفحہ163 تحت کیا رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے؟)
3: حضرت داؤد علیہ السلام کے فعل میں خواہشِ نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی تعلق تھا، اور وہ کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرماں روا کو زیب نہ دیتا تھا۔
(تفہیم القرآن: جلد4 صفحہ در تفسیر سورۃ ص: آیت 26)
4: مگر اس کی اصلیت صرف اس قدر تھی کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے عہد کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہو کر اس سے طلاق کی درخواست کی تھی۔
(تفہیمات: حصہ، دوم صفحہ 52 تحت قصہ داؤد علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات)
5: بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلیٰ و اشرف انسان بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہو جاتا ہے، لیکن جونہی کہ اسے یہ احساس ہوتا ہے یا اللہ کی طرف سے احساس کرا دیا جاتا ہے کہ اس کا مقام معیارِ مطلوب سے نیچے جا رہا ہے، وہ فوراً توبہ کرتا ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح کرنے میں اسے ایک لمحے کے لیے بھی تامل نہیں ہوتا حضرت نوح علیہ السلام کی اخلاقی رفعت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ابھی جان سے عزیز بیٹا آنکھوں کے سامنے غرق ہوا ہے اور اس نظارے سے کلیجہ منہ کو آ رہا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ فرماتا ہے کہ جس بیٹے نے حق کو چھوڑ کر باطل کا ساتھ دیا ہے اس کو محض اس لیے اپنا سمجھنا کہ وہ تمہاری صلب سے پیدا ہوا ہے محض ایک جاہلیت کا جذبہ ہے، تو وہ فوراً اپنے دل کے زخم سے بے پروا ہو کر اس طرزِ فکر کی طرف پلٹ آتے ہیں جو اسلام کا مقتضی ہے۔
(تفہیم القرآن: جلد4 صفحہ344 در تفسیر سورۃ ہود آیت 46)
6: نبی ہونے سے قبل تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ایک بہت بڑا گناہ ہو گیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کر دیا تھا۔
(رسائل و مسائل: جلد 1 صفحہ 22 تفسیر آیات و تاویل احادیث تحت عصمتِ انبیاء)
7: عصمت دراصل انبیاء کے لوازمِ ذات سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصبِ نبوت کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے مصلحتاً خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرمایا ہے ورنہ اگر اللہ کی حفاظت تھوڑی دیر کے لیے بھی ان سے منفک ہو جائے تو جس طرح عام انسانوں سے بھول چوک اور غلطی ہوتی ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہونے دیں، تاکہ لوگ انبیاء علیہم السلام کو خدا نہ سمجھ لیں اور جان لیں کہ یہ بشر ہیں، خدا نہیں۔
(تفہیمات: جلد2 صفحہ56 تحت قصہ داؤد علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات)
8: حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام سے قصور بھی ہو جاتے تھے اور انہیں سزا تک دی جاتی تھی۔
(ترجمان القرآن: مئی 1955ء بحوالہ مودودی مذہب: صفحہ31)
9: حضرت یونس علیہ السلام سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہو گئی تھیں اور غالباً انہوں نے بے صبر ہو کر قبل از وقت اپنا مستقر بھی چھوڑ دیا تھا۔
(تفہیم القرآن: جلد2 صفحہ 312 در تفسیر سورۃ یونس آیت 98)
10: اس کی وجہ یہی تو تھی کہ آپﷺ کو عرب میں بہترین انسانی مواد ملا تھا جس کے اندر کیرکٹر کی زبردست طاقت موجود تھی اگر خدانخواستہ آپﷺ کو بودے، کم ہمت، ضعیف الارادہ اور ناقابلِ اعتماد لوگوں کی بھیڑ مل جاتی تو کیا پھر بھی وہ نتائج نکل سکتے تھے؟
(تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں: صفحہ 20، 21 تحت بنیادی انسانی اخلاقیات)
11: (سورۃ النصر کی تفسیر میں آپﷺ کے بارے میں لکھتے ہیں:) اس طرح جب وہ کام تکمیل تک پہنچ گیا جس پر محمدﷺ کو مامور کیا گیا تھا تو آپﷺ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر کہیں فخر نہ کرنے لگ جانا نقص سے پاک، عیب سے مبرا اور کامل ذات صرف تمہارے رب کی ہے لہٰذا اس کارِ نبوت کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمد و ثناء کرو اور اس ذات سے درخواست کرو کہ: مالک! اس 23 سالہ زمانہ خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہو گئی ہوں انہیں معاف فرما دے۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: صفحہ156)
12: ان سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ بسا اوقات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھی بشری کمزوری کا غلبہ ہو جاتا تھا اور وہ بھی ایک دوسرے پر چوٹیں کر جاتے تھے سیدنا ابنِ عمرؓ نے سنا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ وتر کو ضروری نہیں سمجھتے، فرمانے لگے: حضرت ابو ہریرہؓ جھوٹے ہیں سیدہ عائشہؓ نے ایک موقع پر سیدنا انسؓ اور سیدنا ابو سعید خدریؓ کے متعلق فرمایا کہ وہ حدیثِ رسولﷺ کو کیا جانیں، وہ تو اس زمانے میں بچے تھے سیدنا حسن بن علیؓ سے ایک مرتبہ شَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ کے معنیٰ پوچھے گئے، انہوں نے اس کی تفسیر بیان کی عرض کیا گیا کہ سیدنا ابنِ عمرؓ اور سیدنا ابنِ زبیرؓ تو ایسا اور ایسا کہتے ہیں، فرمایا: دونوں جھوٹے ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو جھوٹا قرار دیا سیدنا عبادہ بن الصامتؓ نے ایک ایسا مسئلہ بیان کرتے ہوئے سیدنا مسعود بن اوس انصاریؓ پر جھوٹ کا الزام لگا دیا، حالانکہ وہ بدری صحابہ کرامؓ میں سے ہیں۔
(تفہیمات: جلد 1 صفحہ 294 تحت مسلک اعتدال)
13: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جہاد فی سبیل اللہ کی اصلی اسپرٹ کو سمجھنے میں بار غلطیاں کر جاتے تھے۔
(ترجمان القرآن: 57ء بحوالہ مودودی مذہب: صفحہ59)
14: (اصحابِ جنگِ احد کے متعلق لکھتے ہیں) سود خوری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی مرض پیدا ہوتے ہیں: سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی، اور سود دینے والوں میں نفرت، غصہ اور بغض و حسد احد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔
(تفہیم القرآن: جلد1 صفحہ287، 288 در تفسیر سورۃ: آل عمران آیت، 134)
15: اگرچہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں اس روایت کا جا بجا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن میرے علم میں کوئی ایک اصولی یا فقیہ بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس روایت سے صحابی کے قول و فعل کو مطلقاً حجت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔(ترجمان القرآن)
16: حقیقت یہ ہے کہ عامی لوگ نہ کبھی عہدِ نبوی میں معیاری مسلمان تھے اور نہ اس کے بعد بھی ان کو معیاری مسلمان ہونے کا فخر حاصل ہوا معیاری مسلمان تو اس زمانے میں وہی تھے اور اب بھی وہی ہیں جو قرآن و حدیث کے علوم پر نظر رکھتے ہوں اور جن کے رگ و ریشے میں قرآن کا علم اور نبی اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ کا نمونہ سرایت کر گیا ہو باقی رہے عوام تو اس وقت بھی ان معیاری مسلمانوں کے پیرو تھے اور آج بھی ہیں۔(تفہیمات: صفحہ309)
17: حضرت عثمانِ غنیؓ جن پر اس کارِ عظیم کا بار رکھا گیا تھا، ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیلُ القدر پیشروؤں کو عطاء ہوئی تھیں اس لیے جاہلیت کو اسلامی نظامِ اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔
(تجدید و احیائے دین: صفحہ 23 بعنوانِ جاہلیت کا حملہ)
18: خلفائے راشدینؓ کے فیصلے بھی اسلام میں قانون قرار نہیں پائے جو انہوں نے قاضی کی حیثیت سے کیے تھے۔
(ترجمان القرآن: جنوری 58، بحوالہ مودودی مذہب: صفحہ، 66)
19: لیکن ان (حضرت عمرؓ) کے بعد حضرت عثمانؓ جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ وہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے انہوں نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کیے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدفِ اعتراض بن کر رہیں۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ 106، دربیان: خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک)
20: مثال کے طور پر انہوں (یعنی حضرت عثمانؓ) نے افریقہ کے مالِ غنیمت کا پورا خمس (پانچ لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا۔ (ایضاً حاشیہ)
21: اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ دو چیزیں ایسی تھیں جو بڑے دور رس اور خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوئیں ایک یہ کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کو مسلسل بڑی مدت تک ایک ہی صوبے کی گورنری پر مامور کیے رکھا دوسری چیز جو اس سے زیادہ فتنہ انگیز ثابت ہوئی وہ خلیفہ کے سیکریٹری کی اہم پوزیشن پر مروان بن الحکم کی ماموریت تھی۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ 115 تحت: خلافتِ راشدہ سے ملوکیت)
22: سیدنا عثمانؓ کی پالیسی کا یہ پہلو بلا شبہ غلط تھا اور غلط کام بہرحال غلط ہے، خواہ کسی نے کیا ہو اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا نہ عقل و انصاف کا تقاضا ہے اور نہ دین ہی کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ116، تحت: دوسرا مرحلہ)
23: ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت امیرِ معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرِ منبر رسولﷺ حضرت علیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے حتیٰ کہ مسجدِ نبوی میں منبرِ رسولﷺ پر عین روضہ نبویﷺ کے سامنے حضورِ اکرمﷺ کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا شریعت تو درکنار، انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعہ کے خطبے کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ 174 خلافت و ملوکیت کا فرق، بعنوان: حضرت معاویہؓ کے عہد میں)
24: مالِ غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں بھی حضرت امیرِ معاویہؓ نے کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہﷺ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔ (ایضاً)
25: زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان افعال میں سے ہے جن میں انہوں نے سیاسی اغراض کے لیے شریعت کے مسلم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ175، خلافت و ملوکیت کا فرق، بعنوان: حضرت معاویہؓ کے عہد میں)
26: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنا حامی و مددگار بنانے کے لیے اپنے والدِ ماجد کی زنا کاری پر شہادتیں لیں اور اس کا ثبوت بہم پہنچایا کہ زیاد انہی کا ولد الحرام ہے پھر اسی بنیاد پر اسے اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے، مگر قانونی حیثیت سے بھی ایک صریح ناجائز فعل تھا کیونکہ شریعت میں کوئی نسب زنا سے ثابت نہیں ہوتا۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ175، خلافت و ملوکیت کا فرق، بعنوان: حضرت معاویہؓ کے عہد میں)
27: حضرت عمرو بن عاصؓ سے یہ دو کام ایسے سرزد ہو گئے جنہیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ144 خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک، بعنوان: چھٹا مرحلہ)
28: یزید کی ولی عہدی کے لیے ابتدائی تحریک کسی صحیح جذبے کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی، بلکہ ایک بزرگ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے بزرگ کے ذاتی مفاد سے اپیل کر کے اس تجویز کو جنم دیا، اور دونوں صاحبوں یعنی (حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ) نے اس بات سے قطع نظر کر لیا کہ وہ اس طرح امتِ محمدیہﷺ کو کس راہ پر ڈال رہے ہیں۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ150، خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک، بعنوان: آخری مرحلہ)
29: حضرت علیؓ نے مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکرؓ کو گورنری تک کے عہدے دے دیے، درآں حالیکہ قتلِ عثمان میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا وہ سب کو معلوم تھا۔ حضرت علیؓ کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ146 خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک، بعنوان: چھٹا مرحلہ)
30: وہ (حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ) نبی کریمﷺ کے مقابلے میں کچھ زیادہ جری ہو گئی تھیں اور حضورِ اکرمﷺ سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔
(ہفت روز ایشیا لاہور: 19 نومبر 1967ء، بحوالہ: اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم: صفحہ 134)
31: تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجددِ کامل پیدا نہیں ہوا قریب تھا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ اس منصب پر فائز ہو جاتے مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔
(تجديد و احیائے دین: صفحہ21)
32: امام غزالیؒ کے تنقیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے اور دو تین عنوانات میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں: ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے، دوسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبے کی وجہ سے تھے، اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔
(تجديد و احیائے دین: صفحہ405 تحت: امام غزالیؒ)
33: امام ابو حنیفہؒ کی فقہ میں آپ بکثرت ایسے مسائل دیکھتے ہیں جو مُرسل، معضل اور منقطع احادیث پر مبنی ہیں، جن میں ایک قوی الاسناد حدیث کو چھوڑ کر ایک ضعیف الاسناد حدیث کو قبول کیا گیا ہے، یا جن میں احادیث کچھ کہتی ہیں اور امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کچھ کہتے ہیں۔ یہی حال امام مالکؒ کا ہے۔ امام شافعیؒ کا حال بھی اس سے زیادہ کچھ مختلف نہیں۔(تفہیمات)
34: پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے وقت سے شاہ (ولی اللہؒ) صاحب اور ان کے خلفاء تک کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور پھر ان کو وہی غذا دے دی جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔
(تجديد و احیائے دین: صفحہ73 تحت: سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہیدؒ، پہلا سبب)
35: اسی طرح یہ قالب (تصوف) بھی مباح ہونے کے باوجود اس بناء پر قطعی چھوڑ دینے کے قابل ہو گیا ہے کہ اس کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکہ لگایا گیا ہے اور اس کے قریب جاتے ہی مزمن مریضوں کو چنیا بیگم یاد آ جاتی ہے جو صدیوں تک ان کو تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہے۔
(ایضاً: صفحہ 74 تحت: پہلا سبب)
36: مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجددؒ ناواقف تھے نہ شاہ (ولی اللہؒ) صاحب دونوں کے کلام میں اس پر تنقید موجود ہے، مگر غالباً اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہو چکی ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر سے پرانے مرض سے متاثر ہوتا چلا گیا۔
(ایضاً: صفحہ132 تحت: پہلا سبب)
37: اگرچہ مولانا اسماعیلؒ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جو ابنِ تیمیہؒ (یہ نہ سمجھا جائے کہ مودودی صاحب کے قلم نے ابنِ تیمیہؒ کو بخش دیا ہے، یہ غلط ہے ابنِ تیمیہؒ کے بارے میں مودودی صاحب لکھتے ہیں: تاہم یہ واقعہ ہے کہ وہ کوئی ایسی سیاسی تحریک نہ اٹھا سکے جس سے نظامِ حکومت میں انقلاب برپا ہوتا اور اقتدار کی کنجیاں جاہلیت کے قبضے سے نکل کر اسلام کے ہاتھ میں آ جاتیں۔ تجديد و احیائے دین: صفحہ، 86 ) نے کی تھی، لیکن شاہ ولی اللہؒ صاحب کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا جس کا کچھ اثر شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریروں میں بھی باقی رہا اور پیری مریدی کا سلسلہ سید صاحب کی تحریک میں چل رہا تھا اس لیے مرضِ صوفیت کے جراثیم سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔
(ایضاً: صفحہ123 تحت: پہلا سبب)
38: قرآن کے لیے کسی تفسیر کی حاجت نہیں، ایک اعلیٰ درجے کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا ہو اور جو جدید طرز پر قرآن پڑھانے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہو۔
(تنقیحات: صفحہ 193 تحت: مسلمانوں کے لیے جدید تعلیمی پالیسی اور لائحہ عمل)
39: اصولِ روایت کو تو چھوڑیے، اس دورِ تجدید میں اگلے وقتوں کی بکواس کون سنتا ہے۔
(ترجمان القرآن: جلد14 عدد 2 صفحہ111 بحوالہ: احسن الفتاویٰ: جلد 1 صفحہ313)
40: قیامت کے روز حق تعالیٰ کے سامنے ان گناہگاروں کے ساتھ ان کے دینی پیشوا بھی پکڑے ہوئے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا ہم نے تم کو علم و عقل سے اس لیے سرفراز کیا تھا کہ تم اس سے کام نہ لو؟ کیا ہماری کتاب اور ہمارے نبیﷺ کی سنت تمہارے پاس اس لیے تھی کہ تم اس کو لیے بیٹھے رہو اور مسلمان گمراہی میں مبتلا ہوتے رہیں؟ ہم نے اپنے دین کو وسیع بنایا تھا، تم کو کیا حق تھا کہ اسے محصور بنا دو؟ ہم نے قرآن اور محمدﷺ کی پیروی کا حکم دیا تھا، تم پر یہ کس نے فرض کیا تھا کہ ان دونوں سے بڑھ کر اپنے اسلاف کی پیروی کرو؟ ہم نے ہر مشکل کا علاج قرآن میں رکھا تھا، تم سے یہ کس نے کہا کہ قرآن کو ہاتھ نہ لگاؤ اور اپنے لیے انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو کافی سمجھو؟ اس باز پرس کے جواب میں امید نہیں کہ کسی عالمِ دین کو کنز الدقائق اور ہدایہ اور عالمگیری کے مصنفین کے دامنوں میں پناہ مل جائے گی البتہ جہلاء کو یہ جواب دہی کرنے کا موقع ضرور مل جائے گا:
رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا ۞ رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ۞
(سورۃ الاحزاب: آیت 67، 68)
ترجمہ: اے رب ہمارے! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا۔ اے رب! ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر، ترجمہ مودودی صاحب۔
(حقوق الزوجین: صفحہ 98 تحت: قضاء شرعی کے متعلق چند اصولی مباحث)
ہم نے جناب مودودی کے دریائے تحقیق سے تنقیدی گوہروں کے چند نمونے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، جسے انہوں نے بخیالِ خویش خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد، جذبات سے مغلوب ہوئے بغیر اور اپنے دامن کو داغوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اور عینِ حق سمجھتے ہوئے سپردِ قلم فرمایا ہے ان تنقیدات پر اعتماد کے بعد سادہ لوح اور عام تعلیم یافتہ مسلمان (جس نے اسلام کی فکری و علمی اور اصلاحی و تجدیدی تاریخ کا عمیق اور مبصرانہ نگاہوں سے مطالعہ نہ کیا ہو) کے ذہن میں دین اور اسلام کا کیا نقشہ ابھرتا ہے، اور حضرات انبیائے کرام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین سے اس کا تعلق کتنا اور کہاں تک برقرار رہتا ہے؟ ہمارے خیال میں ان تنقیدات پر اعتماد کے بعد وہ اسلام کی قطعیت و ابدیت اور اس کی تاریخِ اصلاح و تجدید کے تسلسل کے حوالے سے بے پناہ احساسِ کمتری اور شکست خوردگی میں مبتلا ہو جاتا ہے اسے امت کی تاریخ میں عالی ہمتی اور اولوالعزمی کے واقعات محض خوش اعتقادی بلکہ مہمل افسانے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا اقامتِ دین، تجدیدِ دین اور احیائے دین و ملت اسی کا نام ہے؟
اس مقام پر مودودی صاحب کا ایک حوالہ اور ملاحظہ فرمائیے، جسے ہم پوری امتِ مسلمہ میں تبرے کے مترادف سمجھتے ہیں، اور یہ حوالہ مودودی صاحب کی خودرائی اور اعجاب بالنفس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لکھتے ہیں:
اور یہی جہالت ہم ایک نہایت قلیل جماعت (یعنی جماعتِ اسلامی، ناقل) کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں یا دستار بند علماء یا خرقہ پوش مشائخ یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات، ان سب کے طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے ناواقف ہونے میں سب یکساں ہیں۔
(تفہیمات: جلد1 صفحہ 36 تحت: اسلام ایک علمی و عقلی مذہب)
اب اس سے بڑھ کر ایک خطرناک اور فتنہ انگیز دعویٰ ملاحظہ فرمائیے کہ جماعتِ اسلامی اور جناب مودودی صاحب کی دعوت کو قبول نہ کرنے والے مسلمانوں کی پوزیشن وہی ہے جو یہودی قوم کی تھی۔
اس موقع پر ایک بات نہایت صفائی کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ اس قسم کی ایک دعوت کا جیسی کہ ہماری دعوت ہے کسی مسلمان قوم کے اندر اٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے جب حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے رہیں، ایک مسلمان قوم کے لیے ان کو قبول نہ کرنے اور ان کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول سبب موجود رہتا ہے اور اس کا عذر مقبول ہوتا رہتا ہے۔ مگر جب پورا حق بالکل بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں سامنے رکھ دیا جائے اور اس کی طرف اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کو دعوت دی جائے تو اس کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہو جو امتِ مسلمہ کی پیدائش کی ایک ہی غرض ہے، یا نہیں تو اسے روک کر کے وہی پوزیشن اختیار کرے جو اس سے پہلے یہودی قوم اختیار کر چکی ہے ایسی صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس قوم کے لیے باقی نہیں رہتی اب چونکہ یہ دعوت ہندوستان میں اٹھ چکی ہے اس لیے کم از کم ہندی مسلمانوں کے لیے تو آزمائش کا وہ خوفناک لمحہ آ ہی گیا ہے، اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں تک ہم اپنی دعوت پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہو گئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی وہاں کے مسلمان بھی اسی آزمائش میں پڑ جائیں گے۔
(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم، صفحہ، 17، 18)
ف: اندازہ لگائیے کہ کس قدر خطرناک دعویٰ ہے اس دعویٰ کی حیثیت بالکل وہی ہے جو انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے دعویٰ کی ہوتی ہے نبی و رسول کے علاوہ کسی مصلح و مجدد کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ اس کی دعوت قبول نہ کرنے والوں کو یہودی قرار دے۔
ہم اس مقام پر مرشدی و مولائی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (متوفی 1421ھ) کا ایک بصیرت و حقیقت افروز تبصرہ و تجزیہ نقل کرتے ہیں جو مودودی صاحب کی پوری زندگی اور ان کے افکار کا مکمل احاطہ کرتا ہے:
قرآنِ کریم، سنتِ نبوی، خلفائے راشدینؓ کی سنت (جو اجماعِ امت کی اصل بنیاد ہے) کے بارے میں مودودی کے ان نظریات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اصولِ دین اور شریعتِ اسلامیہ کے ماخذ کے بارے میں ان کا ذہن کس قدر الجھا ہوا ہے باقی رہا اجتہاد تو مولانا اپنے سوا کسی کے اجتہاد کو لائقِ اعتماد نہیں جانتے اس لیے ان کی دین فہمی کا سارا مدار خود ان کی عقل و فہم اور صلاحیتِ اجتہاد پر ہے۔
ان چند نکات سے مودودی کے دینی تفکر اور ان کے زاویہ نظر کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ورنہ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ان کی خیالی نظریوں یا خوش فہمیوں کی فہرست طویل ہے میرے نزدیک مولانا مودودی کا شمار ان اہلِ حق میں نہیں جو سلفِ صالحین کا تتبع اور مسلکِ اہلِ سنت کی پیروی کرتے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی عقل و فہم سے دین کا جو تصور قائم کیا ہے وہ اس کو حق سمجھتے ہیں، خواہ وہ سلفِ صالحین سے کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو مودودی کے دینی تفکر میں انحراف کے بڑے بڑے اسباب میرے نزدیک حسبِ ذیل ہیں:
*اول:* انہوں نے دین کو کسی سے پڑھا اور سیکھا نہیں بلکہ اسے بطورِ خود سمجھا ہے، اور شاید مودودی کے نزدیک دین کسی سے سیکھنے اور پڑھنے کی چیز بھی نہیں ہے ان کے خیال میں ہر لکھا پڑھا آدمی اپنے ذاتی مطالعے سے خود ہی دین سیکھ سکتا ہے۔
دوم: ناپختہ عمری میں مودودی کو بعض ملاحدہ سے صحبت رہی، جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کیا۔ خود مودودی اپنی کہانی اس طرح بیان کرتے ہیں:
ڈیڑھ سال کے تجربات نے یہ سبق سکھایا کہ دنیا میں عزت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے اپنے پیروں پر آپ کھڑا ہونا ضروری ہے استقلال کے لیے جدوجہد کے بغیر چارہ نہیں فطرت نے تحریر و انشا کا ملکہ ودیعت فرمایا تھا عام مطالعے سے اس کو اور تحریک ہوئی اسی زمانے میں نیاز فتح پوری سے دوستانہ تعلقات ہوئے اور ان کی صحبت بھی وجہِ تحریک بنی غرض ان تمام وجود سے یہی فیصلہ کیا کہ قلم ہی کو وسیلہ معاش قرار دینا چاہیے۔
(مودودی: صفحہ، 172 سعد گیلانی)
سوم:دنیا کی ذہین ترین شخصیتوں کو عموماً یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ اگر ان کی صحیح تہذیب و تربیت نہ ہو پائے تو وہ اپنا راستہ خود تلاش کرتی ہیں اور اپنے آپ کو اتنی قد آور اور بلند و بالا سمجھنے لگتی ہیں کہ باقی ساری دنیا انہیں پستہ قد نظر آتی ہے یہی حادثہ مودودی کو بھی کو بھی پیش آیا حق تعالیٰ نے ان کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا، لیکن بدقسمتی سے انہوں نے دل کا کام بھی دماغ سے کیا اور خوش فہمی کی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ تمام اکابر امت انہیں بالشیتے نظر آنے لگے، اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ دین کا جو فہم ان کو عطا ہوا ہے وہ ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوا تھا یہی خوش فہمی ان کی خودرائی اور اعجاب بالنفس کا ذریعہ بن گئی۔
چہارم: ان کے ذہن پر دور جدید کا کچھ ایسا رعب چھایا کہ انہیں دین اسلام کو اس کی اصل شکل میں پیش کرنا مشکل نظر آیا اس لیے انہوں نے اس کی اصلاح و ترمیم کر کے دورِ جدید کے اذہان کو مطمئن کرنا ضروری سمجھا، خواہ اسلام کی ہیئت ہی کیوں نہ بدل جائے جیسا کہ آج جمہوریت دنیا کے دماغ پر ایسی چھائی ہوئی ہے کہ لوگ کوشش کر کے اسلام کے نظامِ حکومت کو جمہوریت پر چسپاں کرنے کی کوش کرتے ہیں۔
پنجم: ان تمام امور کے ساتھ جب ان کے زورِ قلم اور شوخی تحریر کی آمیزش ہوئی تو انہیں اکابر امت کے حق میں حدِ ادب عبور کرنے پر آمادہ کیا، اور اس بےادبی کی نحوست ان کی ساری تحریر پر غالب آ گئی۔
کاش مودودی جیسے ذہین و فطین آدمی کی صحیح تربیت ہوئی ہوتی تو ان کا وجود امت کے لیے باعثِ برکت اور اسلام کے لیے لائق فخر ہوتا۔
غنی روز سیاه پیر کنعان را تماشا کُن
کہ نور دیده اش روشن کند چشم زلیخا را
(اختلاف امت اور صراط مستقیم: صفحہ 189، 191، بعنوان مودودی)
چونکہ پیر نصیر صاحب کے نزدیک مودودی کی بعض دینی خدمات کو نظر انداز کرنا محض فرقہ پرستی ہو گی۔ ( نام و نسب: صفحہ 534)
لہٰذا ہم نے مودودی کی دینی خدمات کو مودودی ہی کی کتابوں سے بطورِ مشتے نمونہ از خروارے نقل کر دیا ہے، اور جناب کو دعوتِ انصاف دیتے ہیں کہ کیا مودودی کی یہی دینی خدمات ہیں جن کو نظر انداز کرنا محض فرقہ پرستی ہو گی؟ یاد رہے کہ یہ حوالہ جات مودودی دریائے فیض سے صرف چند قطرے ہیں۔
ہم مصنف نام و نسب کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ مودودی کی ان عبارات کو بھی نام و نسب کے آئندہ ایڈیشن میں ضرور درج فرمائیے گا اور آخر میں یہ لکھنا ہرگز نہ بھولیے گا
ذات کو بحیثیت مجموعی مطعون نہ کرے۔