مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 4 از 5

ہم نے جناب مودودی کے دریائے تحقیق سے تنقیدی گوہروں کے چند نمونے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، جسے انہوں نے بخیالِ خویش خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد، جذبات سے مغلوب ہوئے بغیر اور اپنے دامن کو داغوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اور عینِ حق سمجھتے ہوئے سپردِ قلم فرمایا ہے ان تنقیدات پر اعتماد کے بعد سادہ لوح اور عام تعلیم یافتہ مسلمان (جس نے اسلام کی فکری و علمی اور اصلاحی و تجدیدی تاریخ کا عمیق اور مبصرانہ نگاہوں سے مطالعہ نہ کیا ہو) کے ذہن میں دین اور اسلام کا کیا نقشہ ابھرتا ہے، اور حضرات انبیائے کرام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین سے اس کا تعلق کتنا اور کہاں تک برقرار رہتا ہے؟ ہمارے خیال میں ان تنقیدات پر اعتماد کے بعد وہ اسلام کی قطعیت و ابدیت اور اس کی تاریخِ اصلاح و تجدید کے تسلسل کے حوالے سے بے پناہ احساسِ کمتری اور شکست خوردگی میں مبتلا ہو جاتا ہے اسے امت کی تاریخ میں عالی ہمتی اور اولوالعزمی کے واقعات محض خوش اعتقادی بلکہ مہمل افسانے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا اقامتِ دین، تجدیدِ دین اور احیائے دین و ملت اسی کا نام ہے؟

اس مقام پر مودودی صاحب کا ایک حوالہ اور ملاحظہ فرمائیے، جسے ہم پوری امتِ مسلمہ میں تبرے کے مترادف سمجھتے ہیں، اور یہ حوالہ مودودی صاحب کی خودرائی اور اعجاب بالنفس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لکھتے ہیں:  

اور یہی جہالت ہم ایک نہایت قلیل جماعت (یعنی جماعتِ اسلامی، ناقل) کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں یا دستار بند علماء یا خرقہ پوش مشائخ یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات، ان سب کے طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے ناواقف ہونے میں سب یکساں ہیں۔

(تفہیمات: جلد1 صفحہ 36 تحت: اسلام ایک علمی و عقلی مذہب)

اب اس سے بڑھ کر ایک خطرناک اور فتنہ انگیز دعویٰ ملاحظہ فرمائیے کہ جماعتِ اسلامی اور جناب مودودی صاحب کی دعوت کو قبول نہ کرنے والے مسلمانوں کی پوزیشن وہی ہے جو یہودی قوم کی تھی۔ 

اس موقع پر ایک بات نہایت صفائی کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ اس قسم کی ایک دعوت کا جیسی کہ ہماری دعوت ہے کسی مسلمان قوم کے اندر اٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے جب حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے رہیں، ایک مسلمان قوم کے لیے ان کو قبول نہ کرنے اور ان کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول سبب موجود رہتا ہے اور اس کا عذر مقبول ہوتا رہتا ہے۔ مگر جب پورا حق بالکل بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں سامنے رکھ دیا جائے اور اس کی طرف اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کو دعوت دی جائے تو اس کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہو جو امتِ مسلمہ کی پیدائش کی ایک ہی غرض ہے، یا نہیں تو اسے روک کر کے وہی پوزیشن اختیار کرے جو اس سے پہلے یہودی قوم اختیار کر چکی ہے ایسی صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس قوم کے لیے باقی نہیں رہتی اب چونکہ یہ دعوت ہندوستان میں اٹھ چکی ہے اس لیے کم از کم ہندی مسلمانوں کے لیے تو آزمائش کا وہ خوفناک لمحہ آ ہی گیا ہے، اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں تک ہم اپنی دعوت پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہو گئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی وہاں کے مسلمان بھی اسی آزمائش میں پڑ جائیں گے۔

(رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ دوم، صفحہ، 17، 18)

ف: اندازہ لگائیے کہ کس قدر خطرناک دعویٰ ہے اس دعویٰ کی حیثیت بالکل وہی ہے جو انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے دعویٰ کی ہوتی ہے نبی و رسول کے علاوہ کسی مصلح و مجدد کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ اس کی دعوت قبول نہ کرنے والوں کو یہودی قرار دے۔ 

ہم اس مقام پر مرشدی و مولائی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (متوفی 1421ھ) کا ایک بصیرت و حقیقت افروز تبصرہ و تجزیہ نقل کرتے ہیں جو مودودی صاحب کی پوری زندگی اور ان کے افکار کا مکمل احاطہ کرتا ہے:

قرآنِ کریم، سنتِ نبوی، خلفائے راشدینؓ کی سنت (جو اجماعِ امت کی اصل بنیاد ہے) کے بارے میں مودودی کے ان نظریات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اصولِ دین اور شریعتِ اسلامیہ کے ماخذ کے بارے میں ان کا ذہن کس قدر الجھا ہوا ہے باقی رہا اجتہاد تو مولانا اپنے سوا کسی کے اجتہاد کو لائقِ اعتماد نہیں جانتے اس لیے ان کی دین فہمی کا سارا مدار خود ان کی عقل و فہم اور صلاحیتِ اجتہاد پر ہے۔ 

ان چند نکات سے مودودی کے دینی تفکر اور ان کے زاویہ نظر کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ورنہ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ان کی خیالی نظریوں یا خوش فہمیوں کی فہرست طویل ہے میرے نزدیک مولانا مودودی کا شمار ان اہلِ حق میں نہیں جو سلفِ صالحین کا تتبع اور مسلکِ اہلِ سنت کی پیروی کرتے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی عقل و فہم سے دین کا جو تصور قائم کیا ہے وہ اس کو حق سمجھتے ہیں، خواہ وہ سلفِ صالحین سے کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو مودودی کے دینی تفکر میں انحراف کے بڑے بڑے اسباب میرے نزدیک حسبِ ذیل ہیں:

*اول:* انہوں نے دین کو کسی سے پڑھا اور سیکھا نہیں بلکہ اسے بطورِ خود سمجھا ہے، اور شاید مودودی کے نزدیک دین کسی سے سیکھنے اور پڑھنے کی چیز بھی نہیں ہے ان کے خیال میں ہر لکھا پڑھا آدمی اپنے ذاتی مطالعے سے خود ہی دین سیکھ سکتا ہے۔

دوم: ناپختہ عمری میں مودودی کو بعض ملاحدہ سے صحبت رہی، جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کیا۔ خود مودودی اپنی کہانی اس طرح بیان کرتے ہیں:  

ڈیڑھ سال کے تجربات نے یہ سبق سکھایا کہ دنیا میں عزت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے اپنے پیروں پر آپ کھڑا ہونا ضروری ہے استقلال کے لیے جدوجہد کے بغیر چارہ نہیں فطرت نے تحریر و انشا کا ملکہ ودیعت فرمایا تھا عام مطالعے سے اس کو اور تحریک ہوئی اسی زمانے میں نیاز فتح پوری سے دوستانہ تعلقات ہوئے اور ان کی صحبت بھی وجہِ تحریک بنی غرض ان تمام وجود سے یہی فیصلہ کیا کہ قلم ہی کو وسیلہ معاش قرار دینا چاہیے۔  

(مودودی: صفحہ، 172 سعد گیلانی)

صفحہ 4 از 5