مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 5

30: وہ (حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ) نبی کریمﷺ کے مقابلے میں کچھ زیادہ جری ہو گئی تھیں اور حضورِ اکرمﷺ سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔ 

(ہفت روز ایشیا لاہور: 19 نومبر 1967ء، بحوالہ: اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم: صفحہ 134)

31: تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجددِ کامل پیدا نہیں ہوا قریب تھا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ اس منصب پر فائز ہو جاتے مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔

(تجديد و احیائے دین: صفحہ21)

32: امام غزالیؒ کے تنقیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے اور دو تین عنوانات میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں: ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے، دوسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبے کی وجہ سے تھے، اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔

(تجديد و احیائے دین: صفحہ405 تحت: امام غزالیؒ)

33: امام ابو حنیفہؒ کی فقہ میں آپ بکثرت ایسے مسائل دیکھتے ہیں جو مُرسل، معضل اور منقطع احادیث پر مبنی ہیں، جن میں ایک قوی الاسناد حدیث کو چھوڑ کر ایک ضعیف الاسناد حدیث کو قبول کیا گیا ہے، یا جن میں احادیث کچھ کہتی ہیں اور امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کچھ کہتے ہیں۔ یہی حال امام مالکؒ کا ہے۔ امام شافعیؒ کا حال بھی اس سے زیادہ کچھ مختلف نہیں۔(تفہیمات)

34: پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے وقت سے شاہ (ولی اللہؒ) صاحب اور ان کے خلفاء تک کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور پھر ان کو وہی غذا دے دی جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔  

(تجديد و احیائے دین: صفحہ73 تحت: سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہیدؒ، پہلا سبب) 

35: اسی طرح یہ قالب (تصوف) بھی مباح ہونے کے باوجود اس بناء پر قطعی چھوڑ دینے کے قابل ہو گیا ہے کہ اس کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکہ لگایا گیا ہے اور اس کے قریب جاتے ہی مزمن مریضوں کو چنیا بیگم یاد آ جاتی ہے جو صدیوں تک ان کو تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہے۔  

(ایضاً: صفحہ 74 تحت: پہلا سبب)

36: مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجددؒ ناواقف تھے نہ شاہ (ولی اللہؒ) صاحب دونوں کے کلام میں اس پر تنقید موجود ہے، مگر غالباً اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہو چکی ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر سے پرانے مرض سے متاثر ہوتا چلا گیا۔

(ایضاً: صفحہ132 تحت: پہلا سبب)

37: اگرچہ مولانا اسماعیلؒ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جو ابنِ تیمیہؒ (یہ نہ سمجھا جائے کہ مودودی صاحب کے قلم نے ابنِ تیمیہؒ کو بخش دیا ہے، یہ غلط ہے ابنِ تیمیہؒ کے بارے میں مودودی صاحب لکھتے ہیں: تاہم یہ واقعہ ہے کہ وہ کوئی ایسی سیاسی تحریک نہ اٹھا سکے جس سے نظامِ حکومت میں انقلاب برپا ہوتا اور اقتدار کی کنجیاں جاہلیت کے قبضے سے نکل کر اسلام کے ہاتھ میں آ جاتیں۔ تجديد و احیائے دین: صفحہ، 86 ) نے کی تھی، لیکن شاہ ولی اللہؒ صاحب کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا جس کا کچھ اثر شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریروں میں بھی باقی رہا اور پیری مریدی کا سلسلہ سید صاحب کی تحریک میں چل رہا تھا اس لیے مرضِ صوفیت کے جراثیم سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔

(ایضاً: صفحہ123 تحت: پہلا سبب)

38: قرآن کے لیے کسی تفسیر کی حاجت نہیں، ایک اعلیٰ درجے کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا ہو اور جو جدید طرز پر قرآن پڑھانے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہو۔  

(تنقیحات: صفحہ 193 تحت: مسلمانوں کے لیے جدید تعلیمی پالیسی اور لائحہ عمل)

39: اصولِ روایت کو تو چھوڑیے، اس دورِ تجدید میں اگلے وقتوں کی بکواس کون سنتا ہے۔  

(ترجمان القرآن: جلد14 عدد 2 صفحہ111 بحوالہ: احسن الفتاویٰ: جلد 1 صفحہ313)

40: قیامت کے روز حق تعالیٰ کے سامنے ان گناہگاروں کے ساتھ ان کے دینی پیشوا بھی پکڑے ہوئے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا ہم نے تم کو علم و عقل سے اس لیے سرفراز کیا تھا کہ تم اس سے کام نہ لو؟ کیا ہماری کتاب اور ہمارے نبیﷺ کی سنت تمہارے پاس اس لیے تھی کہ تم اس کو لیے بیٹھے رہو اور مسلمان گمراہی میں مبتلا ہوتے رہیں؟ ہم نے اپنے دین کو وسیع بنایا تھا، تم کو کیا حق تھا کہ اسے محصور بنا دو؟ ہم نے قرآن اور محمدﷺ کی پیروی کا حکم دیا تھا، تم پر یہ کس نے فرض کیا تھا کہ ان دونوں سے بڑھ کر اپنے اسلاف کی پیروی کرو؟ ہم نے ہر مشکل کا علاج قرآن میں رکھا تھا، تم سے یہ کس نے کہا کہ قرآن کو ہاتھ نہ لگاؤ اور اپنے لیے انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو کافی سمجھو؟ اس باز پرس کے جواب میں امید نہیں کہ کسی عالمِ دین کو کنز الدقائق اور ہدایہ اور عالمگیری کے مصنفین کے دامنوں میں پناہ مل جائے گی البتہ جہلاء کو یہ جواب دہی کرنے کا موقع ضرور مل جائے گا:

رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا ۞ رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 67، 68)  

ترجمہ: اے رب ہمارے! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا۔ اے رب! ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر، ترجمہ مودودی صاحب۔ 

(حقوق الزوجین: صفحہ 98 تحت: قضاء شرعی کے متعلق چند اصولی مباحث)  

صفحہ 3 از 5