مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 5

14: (اصحابِ جنگِ احد کے متعلق لکھتے ہیں) سود خوری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی مرض پیدا ہوتے ہیں: سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی، اور سود دینے والوں میں نفرت، غصہ اور بغض و حسد احد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔

(تفہیم القرآن: جلد1 صفحہ287، 288 در تفسیر سورۃ: آل عمران آیت، 134)

15: اگرچہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں اس روایت کا جا بجا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن میرے علم میں کوئی ایک اصولی یا فقیہ بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس روایت سے صحابی کے قول و فعل کو مطلقاً حجت ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔(ترجمان القرآن)

16: حقیقت یہ ہے کہ عامی لوگ نہ کبھی عہدِ نبوی میں معیاری مسلمان تھے اور نہ اس کے بعد بھی ان کو معیاری مسلمان ہونے کا فخر حاصل ہوا معیاری مسلمان تو اس زمانے میں وہی تھے اور اب بھی وہی ہیں جو قرآن و حدیث کے علوم پر نظر رکھتے ہوں اور جن کے رگ و ریشے میں قرآن کا علم اور نبی اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ کا نمونہ سرایت کر گیا ہو باقی رہے عوام تو اس وقت بھی ان معیاری مسلمانوں کے پیرو تھے اور آج بھی ہیں۔(تفہیمات: صفحہ309)

17: حضرت عثمانِ غنیؓ جن پر اس کارِ عظیم کا بار رکھا گیا تھا، ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیلُ القدر پیشروؤں کو عطاء ہوئی تھیں اس لیے جاہلیت کو اسلامی نظامِ اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔

(تجدید و احیائے دین: صفحہ 23 بعنوانِ جاہلیت کا حملہ)

18: خلفائے راشدینؓ کے فیصلے بھی اسلام میں قانون قرار نہیں پائے جو انہوں نے قاضی کی حیثیت سے کیے تھے۔ 

(ترجمان القرآن: جنوری 58، بحوالہ مودودی مذہب: صفحہ، 66)  

19: لیکن ان (حضرت عمرؓ) کے بعد حضرت عثمانؓ جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ وہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے انہوں نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کیے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدفِ اعتراض بن کر رہیں۔

(خلافت و ملوکیت: صفحہ 106، دربیان: خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک)  

20: مثال کے طور پر انہوں (یعنی حضرت عثمانؓ) نے افریقہ کے مالِ غنیمت کا پورا خمس (پانچ لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا۔ (ایضاً حاشیہ)

21: اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ دو چیزیں ایسی تھیں جو بڑے دور رس اور خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوئیں ایک یہ کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کو مسلسل بڑی مدت تک ایک ہی صوبے کی گورنری پر مامور کیے رکھا دوسری چیز جو اس سے زیادہ فتنہ انگیز ثابت ہوئی وہ خلیفہ کے سیکریٹری کی اہم پوزیشن پر مروان بن الحکم کی ماموریت تھی۔

(خلافت و ملوکیت: صفحہ 115 تحت: خلافتِ راشدہ سے ملوکیت)  

22: سیدنا عثمانؓ کی پالیسی کا یہ پہلو بلا شبہ غلط تھا اور غلط کام بہرحال غلط ہے، خواہ کسی نے کیا ہو اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا نہ عقل و انصاف کا تقاضا ہے اور نہ دین ہی کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے۔ 

(خلافت و ملوکیت: صفحہ116، تحت: دوسرا مرحلہ)

23: ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت امیرِ معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرِ منبر رسولﷺ حضرت علیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے حتیٰ کہ مسجدِ نبوی میں منبرِ رسولﷺ‏ پر عین روضہ نبویﷺ‏ کے سامنے حضورِ اکرمﷺ کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا شریعت تو درکنار، انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعہ کے خطبے کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا۔

(خلافت و ملوکیت: صفحہ 174 خلافت و ملوکیت کا فرق، بعنوان: حضرت معاویہؓ کے عہد میں)  

24: مالِ غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں بھی حضرت امیرِ معاویہؓ نے کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہﷺ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔ (ایضاً)  

25: زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان افعال میں سے ہے جن میں انہوں نے سیاسی اغراض کے لیے شریعت کے مسلم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی۔  

(خلافت و ملوکیت: صفحہ175، خلافت و ملوکیت کا فرق، بعنوان: حضرت معاویہؓ کے عہد میں)  

26: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنا حامی و مددگار بنانے کے لیے اپنے والدِ ماجد کی زنا کاری پر شہادتیں لیں اور اس کا ثبوت بہم پہنچایا کہ زیاد انہی کا ولد الحرام ہے پھر اسی بنیاد پر اسے اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے، مگر قانونی حیثیت سے بھی ایک صریح ناجائز فعل تھا کیونکہ شریعت میں کوئی نسب زنا سے ثابت نہیں ہوتا۔ 

(خلافت و ملوکیت: صفحہ175، خلافت و ملوکیت کا فرق، بعنوان: حضرت معاویہؓ کے عہد میں)   

27: حضرت عمرو بن عاصؓ سے یہ دو کام ایسے سرزد ہو گئے جنہیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

(خلافت و ملوکیت: صفحہ144 خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک، بعنوان: چھٹا مرحلہ)

28: یزید کی ولی عہدی کے لیے ابتدائی تحریک کسی صحیح جذبے کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی، بلکہ ایک بزرگ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے بزرگ کے ذاتی مفاد سے اپیل کر کے اس تجویز کو جنم دیا، اور دونوں صاحبوں یعنی (حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ) نے اس بات سے قطع نظر کر لیا کہ وہ اس طرح امتِ محمدیہﷺ کو کس راہ پر ڈال رہے ہیں۔

(خلافت و ملوکیت: صفحہ150، خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک، بعنوان: آخری مرحلہ)  

29: حضرت علیؓ نے مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکرؓ کو گورنری تک کے عہدے دے دیے، درآں حالیکہ قتلِ عثمان میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا وہ سب کو معلوم تھا۔ حضرت علیؓ کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔  

(خلافت و ملوکیت: صفحہ146 خلافتِ راشدہ سے ملوکیت تک، بعنوان: چھٹا مرحلہ) 

صفحہ 2 از 5