مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودودی کی آزادہ روی کے چند حوالے

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 5

1: یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو حضرت آدم علیہ السلام سے ظہور میں آئی بس ایک فوری جذبہ نے جو شیطانی تحریص کے زیرِ اثر ابھر آیا تھا، ان پر ذہول طاری کر دیا اور ضبطِ نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ طاعت کے مقامِ بلند سے معصیت کی پستی میں جا گرے۔

(تفہیم القرآن: جلد2 صفحہ133 بحوالہ اختلافِ امت اور صراط مستقیم: صفحہ 133)

2: پیغمبروں تک کو نفسِ شریر کی رہزنی کے خطرے پیش آئے ہیں، چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام جیسے جلیلُ القدر پیغمبر کو ایک موقع پر تنبیہ کی گئی ہے: لَا تَتَّبِعِ الۡهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌

(سورۃ ص: آیت 26)

ہوائے نفس کی پیروی نہ کرنا ورنہ یہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔

(تفہیمات: صفحہ163 تحت کیا رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے؟)

3: حضرت داؤد علیہ السلام کے فعل میں خواہشِ نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی تعلق تھا، اور وہ کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرماں روا کو زیب نہ دیتا تھا۔

(تفہیم القرآن: جلد4 صفحہ در تفسیر سورۃ ص: آیت 26)

4: مگر اس کی اصلیت صرف اس قدر تھی کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے عہد کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہو کر اس سے طلاق کی درخواست کی تھی۔

(تفہیمات: حصہ، دوم صفحہ 52 تحت قصہ داؤد علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات)

5: بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلیٰ و اشرف انسان بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہو جاتا ہے، لیکن جونہی کہ اسے یہ احساس ہوتا ہے یا اللہ کی طرف سے احساس کرا دیا جاتا ہے کہ اس کا مقام معیارِ مطلوب سے نیچے جا رہا ہے، وہ فوراً توبہ کرتا ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح کرنے میں اسے ایک لمحے کے لیے بھی تامل نہیں ہوتا حضرت نوح علیہ السلام کی اخلاقی رفعت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ابھی جان سے عزیز بیٹا آنکھوں کے سامنے غرق ہوا ہے اور اس نظارے سے کلیجہ منہ کو آ رہا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ فرماتا ہے کہ جس بیٹے نے حق کو چھوڑ کر باطل کا ساتھ دیا ہے اس کو محض اس لیے اپنا سمجھنا کہ وہ تمہاری صلب سے پیدا ہوا ہے محض ایک جاہلیت کا جذبہ ہے، تو وہ فوراً اپنے دل کے زخم سے بے پروا ہو کر اس طرزِ فکر کی طرف پلٹ آتے ہیں جو اسلام کا مقتضی ہے۔

(تفہیم القرآن: جلد4 صفحہ344 در تفسیر سورۃ ہود آیت 46)

6: نبی ہونے سے قبل تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ایک بہت بڑا گناہ ہو گیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کر دیا تھا۔

(رسائل و مسائل: جلد 1 صفحہ 22 تفسیر آیات و تاویل احادیث تحت عصمتِ انبیاء)

7: عصمت دراصل انبیاء کے لوازمِ ذات سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصبِ نبوت کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے مصلحتاً خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرمایا ہے ورنہ اگر اللہ کی حفاظت تھوڑی دیر کے لیے بھی ان سے منفک ہو جائے تو جس طرح عام انسانوں سے بھول چوک اور غلطی ہوتی ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہونے دیں، تاکہ لوگ انبیاء علیہم السلام کو خدا نہ سمجھ لیں اور جان لیں کہ یہ بشر ہیں، خدا نہیں۔

(تفہیمات: جلد2 صفحہ56 تحت قصہ داؤد علیہ السلام اور اسرائیلی خرافات)

8: حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام سے قصور بھی ہو جاتے تھے اور انہیں سزا تک دی جاتی تھی۔

(ترجمان القرآن: مئی 1955ء بحوالہ مودودی مذہب: صفحہ31)

9: حضرت یونس علیہ السلام سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہو گئی تھیں اور غالباً انہوں نے بے صبر ہو کر قبل از وقت اپنا مستقر بھی چھوڑ دیا تھا۔

(تفہیم القرآن: جلد2 صفحہ 312 در تفسیر سورۃ یونس آیت 98)

10: اس کی وجہ یہی تو تھی کہ آپﷺ کو عرب میں بہترین انسانی مواد ملا تھا جس کے اندر کیرکٹر کی زبردست طاقت موجود تھی اگر خدانخواستہ آپﷺ کو بودے، کم ہمت، ضعیف الارادہ اور ناقابلِ اعتماد لوگوں کی بھیڑ مل جاتی تو کیا پھر بھی وہ نتائج نکل سکتے تھے؟

(تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں: صفحہ 20، 21 تحت بنیادی انسانی اخلاقیات)

11: (سورۃ النصر کی تفسیر میں آپﷺ کے بارے میں لکھتے ہیں:) اس طرح جب وہ کام تکمیل تک پہنچ گیا جس پر محمدﷺ کو مامور کیا گیا تھا تو آپﷺ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر کہیں فخر نہ کرنے لگ جانا نقص سے پاک، عیب سے مبرا اور کامل ذات صرف تمہارے رب کی ہے لہٰذا اس کارِ نبوت کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمد و ثناء کرو اور اس ذات سے درخواست کرو کہ: مالک! اس 23 سالہ زمانہ خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہو گئی ہوں انہیں معاف فرما دے۔

(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: صفحہ156)

12: ان سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ بسا اوقات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھی بشری کمزوری کا غلبہ ہو جاتا تھا اور وہ بھی ایک دوسرے پر چوٹیں کر جاتے تھے سیدنا ابنِ عمرؓ نے سنا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ وتر کو ضروری نہیں سمجھتے، فرمانے لگے: حضرت ابو ہریرہؓ جھوٹے ہیں سیدہ عائشہؓ نے ایک موقع پر سیدنا انسؓ اور سیدنا ابو سعید خدریؓ کے متعلق فرمایا کہ وہ حدیثِ رسولﷺ کو کیا جانیں، وہ تو اس زمانے میں بچے تھے سیدنا حسن بن علیؓ سے ایک مرتبہ شَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍ کے معنیٰ پوچھے گئے، انہوں نے اس کی تفسیر بیان کی عرض کیا گیا کہ سیدنا ابنِ عمرؓ اور سیدنا ابنِ زبیرؓ تو ایسا اور ایسا کہتے ہیں، فرمایا: دونوں جھوٹے ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو جھوٹا قرار دیا سیدنا عبادہ بن الصامتؓ نے ایک ایسا مسئلہ بیان کرتے ہوئے سیدنا مسعود بن اوس انصاریؓ پر جھوٹ کا الزام لگا دیا، حالانکہ وہ بدری صحابہ کرامؓ میں سے ہیں۔

(تفہیمات: جلد 1 صفحہ 294 تحت مسلک اعتدال)

13: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جہاد فی سبیل اللہ کی اصلی اسپرٹ کو سمجھنے میں بار غلطیاں کر جاتے تھے۔

(ترجمان القرآن: 57ء بحوالہ مودودی مذہب: صفحہ59)

صفحہ 1 از 5