مکائدِ شیعہ سے حفاظت کے لیے حضرت نانوتوی رحمۃاللہ کے پیش…

مکائدِ شیعہ سے حفاظت کے لیے حضرت نانوتوی رحمۃاللہ کے پیش کردہ اصول

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 2

بہرحال ایسی بیاضوں کا جمع کرنا ایسے ایسے ائمہ حدیث کی نسبت بھی ثابت ہے۔ سو اگر اتفاق سے امام بخاری رحمۃ اللہ، مثلاً بعدِ فراہمِ بیاض کے، قبل اس کے کہ بخاری شریف کی حدیثیں اس میں سے چھانٹ کر بخاری تصنیف کریں، اس دارِ فانی سے کوچ کر جاتے، تو گو وہ بیاض امام بخاریؒ ہی کی تصنیف سمجھی جاتی، لیکن کوئی بتائے تو کیا وہ قابلِ اعتبار ہو جاتی؟ سب جانتے ہیں کہ اگر وہ ایسی ہوتی تو امام بخاریؒ کو چھانٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس صورت میں امام بخاریؒ ہی اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ میری بیاض قابلِ اعتبار نہیں۔ پھر ہم کیونکر فقط اس سبب سے اس کا اعتبار کرنے لگیں کہ وہ ایسے بڑے امام المحدثین کی تصنیف ہے کہ جہاں میں نہ کوئی ثانی ان کا ہوا ہے نہ ہو گا۔ غرض اگر کوئی کتاب اس قسم کی کسی کو مل جائے اور اس کے مصنف کو کتنا ہی بڑا محدث کیوں نہ ہو، اس کی تہذیب اور تالیف کا اتفاق نہ ہوا ہو، تو وہ کتاب کسی طرح علماء کیا، جہال کے نزدیک بھی شہادتِ عقل قابلِ اطمینان نہیں۔ بہرحال یہ نکتہ محفوظ رکھنا چاہیے کہ بسبب اس کے ملحوظ رہنے کے اکثر عالم نام سے گرفتارِ دامِ اوہام ہو جاتے ہیں، چہ جائیکہ جاہل۔

چھٹی شرط: چھٹے یہ کہ اگر چند روایتیں باہم مختلف ہوں اور پھر اختلاف بھی حدِ تضاد یا تناقض کو پہنچ جائے، دونوں کا صحیح ہونا فقط مستحیل ہی نہ ہو، تو پھر ترجیح باعتبارِ قوتِ سند ہی کے ہو گی۔ ورنہ لازم ہے کہ شیعوں کے نزدیک روایاتِ شیعہ اور روایاتِ اہلِ سنت جو مخالفِ روایاتِ شیعہ ہیں، دونوں صحیح ہوں۔ 

(ہدیۃ الشیعہ: صفحہ 255، 258 تحت: کتاب و مصنفِ کتاب کے قابلِ قبول ہونے کی چھ شرطیں)

حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ آگے اس سلسلے میں کلام فرماتے ہیں:  

القصہ، دعا بازانِ شیعہ کی یہ چالاکی کتبِ غیر مشہورہ میں چل گئی۔ اسی واسطے علمائے اہلِ سنت ان کتب کو ہم سنگِ تورات و انجیل سمجھتے ہیں اور ان کی روایات کو معتبر نہیں رکھتے۔ ہاں! ان کی روایات کو روایاتِ صحاحِ ستہ و دیگر کتبِ صحاحِ مشہورہ پر پیش کر کے جو مطابق نکلے اس کو بے سرو چشم رکھتے ہیں، اور جو مخالف نکلے اس کو ملحدانِ بدعت کیش، دروغ پیشہ و خوارج وغیرہ کے سر مارتے ہیں۔ اور جو روایات خلاف وفاق سے برطرف ہو، اگر دلائلِ عقلیہ کے مخالف ہو تو اس کا بھی یہی حال ہے، ورنہ اگر تکذیب نہیں کرتے تو تصدیق بھی نہیں کرتے۔ بہرحال جو روایت کہ ان کتب میں بلا شرکتِ غیرے بھی پائی جائے، اگر روایتِ صحاح کے مخالف بھی نہ ہو تو تب بھی قابلِ تمسک اور لائقِ حجت نہیں سمجھتے، اور مثلِ مرویاتِ اہلِ کتاب، بلکہ خود انجیل و تورات، نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔

(ایضاً، صفحہ 260، 261، تحت: اہلِ سنت کا نظامِ حفاظت)


صفحہ 2 از 2