سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما - دفاعِ اہلِ…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 6
ثم توفی یزيد فنعاه عمر الی ابی سفیان فقال ومن امرت مكانه قال معاويه فقال وصلتك یا اميرالمومنين رحم، وقال خليفه ثم جمع عمر الشام كلها لمعاويه وأقره عثمان 
ترجمہ: یعنی خلیفہ ابنِ خیاط لکھتے ہیں کہ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بعد حضرت فاروقِ اعظمؓ نے شام کا تمام علاقہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے زیرِ تحویل کر دیا پھر حضرت عثمانؓ نے اپنے دورِ خلافت میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اس منصب پر برحال رکھا۔
اور علامہ الذھبی رحمۃ اللہ نے اپنی تصنیف سیر اعلام النبلاء کے دوسرے مقام میں اس مسئلہ کو بالفاظِ ذیل درج کیا ہے۔
وتوفى يزيد فی الطاعون سنه ثمانی عشره و لما احتضر استعمل أخاه معاويه رضی اللہ عنہ على عمله فاقره عمر رضی اللہ عنہ علی ذالک احتراما ليزيد و تنفيذا لتوليتہ
ترجمہ: یعنی 18ھ والے طاعون (عمواس) میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کا انتقال ہو گیا اور جب سیدنا یزیدؓ کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے اپنے منصب و مقام پر اپنے برادر حضرت امیرِ معاویہؓ کو عامل بنایا۔پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس چیز کا علم ہوا تو انہوں نے سیدنا یزیدؓ کی تولیت کے نفاذ کا احترام کرتے ہوئے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اسی منصب پر فائز رکھا اور تبدیل نہیں کیا۔
مندرجہ بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان کا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نزدیک بہت اہم مقام و احترام تھا اور آپؓ نے سیدنا یزیدؓ کی صلاحیت اور اسلامی خدمات کی قدر دانی کے پیشِ نظر یہ صورت اختیار فرمائی۔
حاصل کلام 
حضرت یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کے متعلق مختصر سا اجمالی تذکرہ ناظرین کرام کی خدمت میں گزشتہ سطور میں پیش کیا ہے اس پر انصاف کے ساتھ نظر فرمائی جائے۔
1: سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نسب کے اعتبار سے بہترین شرف کے حامل ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین اُمِ حبیبہؓ کے علاتی (سوتیلے) برادر ہیں اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے بھی سوتیلے برادر کلاں ہیں۔
2: سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان اسلام لانے کے بعد بلا تاخیر ملی کارناموں میں مصروف ہو گئے تھے اور اولاً اسلامی غزوات میں شریک ہو کر دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح غنائم سے وافر حصہ حاصل کیا اور ان سے منتفع ہوئے۔ غزوۂ حنین کے شرکاء کے لیے قرآن مجید میں ان کے استعجابِ کثرت پر تنبیہ کا ذکر ہے لیکن پھر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے پیغمبر کریمﷺ اور مؤمنین پر نزولِ سکینہ بیان فرمائی گئی ہے اور غیر مرئی (فوج ملائکہ) کے نزول کا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس میں ایمان والوں کے لیے عمدہ فضیلت مذکور ہے۔ اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وقت غزوۂ حنین میں شریک ہوئے تھے ان میں حضرت یزیدؓ بن ابی سفیانؓ اور ان کے والد حضرت ابو سفیانؓ اور ان کے برادر خورد حضرت امیرِ معاویہؓ بر سہ 3 حضرات شامل و شریک تھے۔
فلہٰذا یہ حضرات بھی اس موقع کی خیر و برکت اور فضیلت کی اشیاء سے کاملاً منتفع ہوئے۔
3: سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو کاتبان نبویﷺ میں شامل ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا اور منصبِ کتابت سے نوازے گئے۔
4: اور سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ عہد نبویﷺ میں بعض قبائل کے لیے امیر و عامل بنائے گئے۔
5: نیز عہدِ رسالت میں ان پر پورا اعتماد کیا جاتا تھا اور آپؓ ایک اہم ذمہ دار شخصیت تھے۔ اس بناء پر نبی کریمﷺ کے ملاقاتیوں کو بعض دفعہ ان کے پاس ٹھہرایا جاتا تھا۔ یہ اعزاز بھی سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو حاصل ہوا۔
6: روایت حدیثِ نبویﷺ کی فضیلت بھی ان کو حاصل ہوئی اور اس شرف سے مشرف ہوئے۔
7: علاقہ شام میں افواجِ اسلامی کے امیر بن کر فتوحاتِ کثیرہ کے باعث ہوئے اور وہاں فروغِ اسلام کے لیے بے شمار اہم خدمات سرانجام دیں اور اشاعتِ دین کا اہتمام کیا۔ ان چیزوں کا ذکر تاریخی کتب میں تفصیلات کے ساتھ موجود ہے اور مختصر سے حالات ہم نے بھی ذکر کر دیے ہیں۔ دورِ صدیقیؓ اور دورِ فاروقیؓ دونوں ایام میں موصوف کے ملی کارنامے قابلِ ستائیش ہیں۔
8: دین اور اسلام کے احیاء اور فروغ میں ہی سیدنا یزیدؓ الخیر کی زندگی کا خاتمہ بالخیر ہوا اور طاعون کی بیماری سے شرفِ شہادت حاصل کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول سے آخر تک اپنی تمام عمر انہوں نے دینی خدمات میں اور اپنے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی رضا جوئی کے لیے صرف کر دی۔ یہ بخت اور نصیب انہی حضرات کا حصہ تھا۔ (رضی اللہ تعالی عنهم اجمعین) لہٰذا یہ حضرات اسلام میں اپنے مرتبہ و مقام کے اعتبار سے مدح و ستائش کے لائق ہیں نہ کہ نفریت و مذمت کے قابل۔ اور ان تمام امورِ فضیلت اور ملی کارناموں کے باوجود اگر بعض لوگوں کو یہ حضرات اسلام کے دشمن نظر آتے ہیں تو یہ ان کی نظر و فکر کا قصور ہے یہ مجاہدینِ اسلام کا قصور نہیں۔ خوب غور فرمائیں۔

صفحہ 6 از 6