سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما - دفاعِ اہلِ…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 6
چنانچہ ان لوگوں سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مؤقف سے رجوع کر کے توبہ کر لی اور پھر انہیں شراب خوری کی سزا کے طور پر اَسی درے لگوائے گئے۔ اکابر محدثین نے اس واقعہ کو بعبارت ذیل نقل کیا ہے۔
شـرب قوم من اهل الشام الخمر و عليهم يزيد بن ابی سفيان وقالوا ھی لنا حلال و تائولوا هذه الايه ليس على الذين آمنوا وعملوا الصلحت جناح فيما طعموا قال: و كتب فيهم الى عمر فكتب ان ابعث بهم الى قبل ان يفسدوا من قبلك فلما قدموا على عمر استشار فيهم الناس فقالوا: يا امير المؤمنين! ترى انهم قد كذبوا على الله وشرعوا فی دينهم مالم یاذن به الله فاضرب رقابهم وعلى ساكت فقال ما تقول يا ابا الحسن افيهم؟ قال: اری ان تستيبهم: فان تابوا جلدتهم ثمانين لشرب الخمر وان لم يتوبوا ضربت رقابهم قد كذبوا على الله وشرعوا فی دينهم ما لم ياذن به الله فاستنابهم فتابوا فضربهم ثمانين ثمانين(7458) 
مقام سرغ میں ملاقات 
ملک شام کی فتوحات کی طرف حضرت عمر فاروقؓ کی خاص توجہ تھی۔ وہاں اسلامی جیوش کے امراء بڑی محنت کے ساتھ کام پر لگے ہوئے تھے اور فتوحات کا سلسلہ شروع تھا۔ پھر ان حالات میں سیدنا عمر فاروقؓ کا وہاں خود تشریف لے جانا بعض دفعہ ضروری ہو جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں مؤرخین نے تصریح کی ہے کہ کم و بیش چار دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ملک شام میں تشریف لے گئے۔ دو بار 16ھ میں اور دوبارہ 17 ہجری میں۔ مؤرخ طبریؒ نے اس مسئلہ کو بعبارت ذیل ذکر کیا ہے۔
فاتى عمرؓ الشام اربع مرات مرتين فی سنه سته عشر و مرتين سنه سبع عشرة الخ
چنانچہ 18ھ میں ایک دفعہ حضرت فاروقِ اعظمؓ شام کی طرف عازمِ سفر ہوئے متعدد مہاجرین و انصار حضرات شریکِ سفر اور ہم رکاب تھے۔ سرغ کے مقام پر جا کر فروکش ہوئے۔ علاقہ کے امراء الجیوش کو اطلاع ملی تو ذیل حضرات سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی ملاقات کے لیے حاضرِ خدمت ہوئے۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابی سفيان رضی اللہ عنہ اور سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ یہ حضرات جیوش کے امراء تھے اور حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ امیر الامراء تھے۔
حتى نزل بسرع لقيه أمراء الاجناد ابوعبيده بن الجراح يزيد بن ابی سفیانؓ و شرحبيل بن حسنہؓ
ان اکابرین حضرات رضی اللہ عنہم کے اجتماع ہذا میں علاقہ کے اہم حوائج اور احوالِ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے۔
اس ضمن میں ان حضرات نے اطلاع دی کہ فاخبروه أن الارض سقيمہ
یعنی جس علاقہ کی طرف حضرت تشریف لے جانا چاہتے ہیں وہاں کی فضا خراب ہے اور بیماری پھیلی ہوئی ہے۔
اس موقعہ پر مختلف مشورے پیش ہوئے اور آگے سفر جاری رکھنے یا یہاں سے واپس ہونے میں بحث تبحیث ہوئی۔ آخر کار بقول مؤرخین حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے مشورہ اور قول کو ترجیح دی گئی اور سیدنا عمرؓ واپس مدینہ طیبہ تشریف لاۓ۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ذیل فرمانِ نبویﷺ سب حضرات کے سامنے بیان کیا کہ آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی شہر یا علاقہ میں بیماری کی وبا معلوم کرو تو اس مقام میں مت جاؤ اور جہاں تم مقیم ہو وہاں وبا پھیل جائے وہاں سے بھاگ کر مت نکلو۔
اذا سمعتم بهذا الوباء ببلد فلا تقدموا عليه واذاوقع وانتم به فلا تخرجوا قرارا منه الخ
حضرت عمر فاروقؓ نے یہ حدیث مبارکہ سن کر فرمایا:
فلله الحمد الصرفوا ايها الناس فانصرف بھم
مختصر یہ ہے کہ اس مسئلہ پر حضرت عبدالرحمٰنؓ کے قول پر فیصلہ ہو جانے کے بعد حضرت عمر فاروقؓ اور ان کے ہم سفر حضرات مدینہ طیبہ کی طرف واپس تشریف لائے اور لشکروں کے امراء حضرات اپنے اپنے علاقہ جات کی طرف حسبِ موقع ہدایات لے کر واپس ہوئے۔ واقعہ ہذا کے ذریعہ سے واضح ہوا کہ سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اپنے منصب کے لحاظ سے ایسے اہم مراحل میں شامل ہوتے اور ضروری مجالس میں شرکت کرتے تھے اور ملی خدمات سرانجام دینے میں پیش پیش رہتے اور فروغ اسلام کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔
وفات 
حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں ملک شام کے بعض علاقوں کا والی مقرر فرمایا تھا۔ جیسا کہ ماقبل میں بیان ہوا۔ اپنے عہدہ ولایت کے دوران دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معیت اور رفاقت کے ساتھ بہت سے علاقوں کو فتح کیا۔ یرموک، اجنادین، اردن، فلسطین، حمص اور قیساریہ وغیرہ مقامات میں ان کے فاتحانہ کارنامے ایک امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ایام میں دمشق کو فتح کر کے اسے اپنا مرکز قرار دیا ہوا تھا اور وہاں اقامت پذیر تھے۔ اتفاق سے اس علاقے میں طاعون (عمواس) کی وبا پھیل گئی جس میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ وغیرہم کا انتقال ہوا اور سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بھی دمشق میں اس مرض سے 18ھ میں وفات پائی اور بعض مؤرخین نے اس طرح بھی لکھا ہے کہ سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان کا انتقال دمشق میں فتح قیساریہ کے بعد 19ھ میں ہوا اور ان سے آگے ان کی نسل نہیں جاری ہوئی۔
حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ نے لکھا ہے:
سیدنا یزید بن ابی سفیانؓ کی وفات کی خبر جب امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کو پہنچی تو آپؓ نے حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو ان کے برادر حضرت یزیدؓ کی جگہ ملک شام کا امیر اور حاکم مقرر کر کے حکم نامہ شام روانہ کیا اور پھر حضرت ابو سفیانؓ کو ان کے فرزند حضرت یزیدؓ کی وفات پر تعزیت کی اور حضرت یزیدؓ کی جگہ ان کے برادر خورد حضرت امیرِ معاویہؓ کو امیر مقرر کرنے کی خبر دی تو حضرت ابو سفیانؓ نے عرض کیا کہ
 اے امیرالمؤمنین آپ نے صلہ رحمی کا تقاضا پورا کیا ہے اور قرابت داری کا لحاظ رکھا ہے۔
فلما مات يزيد بن ابی سفيان سنه بضع عشره جاء البريد عمر بموته رد عمر البريد الى الشام بولاية معاويۃ مكان اخيه يزيد ثم عزى اباسفيان فی ابنه يزيد فقال يا اميرالمؤمنين! من وليت مكانه؟ قال الخوه معاويه قال وصلت رحما يا اميرالمؤمنين
اور علامہ الذہبیؒ نے مضمون ہذا کو بعبارت ذیل ذکر کیا ہے۔ 
صفحہ 5 از 6