سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما - دفاعِ اہلِ…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 6
نیز دمشق کے علاقہ کی فتوحات کے سلسلہ میں مؤرخ ابنِ اثیرؒ نے الکامل میں لکھا ہے کہ جب فتح مدینہ دمشق تمام ہو گئی تو اسلامی عساکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہؓ بن جراح نے سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو امیرِ دمشق مقرر فرمایا اور خود مقامِ فحل کی جانب روانہ ہوئے۔
سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کے سواحل دمشق مقامات کی طرف اپنا لشکر سمیت عازمِ سفر ہوئے۔ صیدہ، عرقہ، جیل اور بیروت وغیرہ یہ دمشق کے سواحل پر شمار ہوتے تھے سیدنا یزیدؓ موصوف کے لشکر کے مقدمہ الجیش پر ان کے برادر خورد سیدنا امیرِ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ امیر نگران مقرر تھے۔ مذکورہ کئی مقامات کے لوگوں کو وقتی مصالحت کے تحت وہاں سے نکال کر جلا وطن کیا اور سواحل کے دیگر مواضع کو فتح کر کے اسلام کے زیرِ نگیں کر دیا اور خصوصاً عرقہ وغیرہ کو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا یزیدؓ موصوف کی نگرانی و تولیت کے تحت خود فتح کیا۔
لما استخلف ابو عبيده يزيد بن ابی سفيان رضی الله تعالى عنهما على دمشق وسار الى فحل سار يزيد الى مدينه صيدا وعرقه و جبيل و بيروت وهی سواحل دمشق على مقدمته اخوه معاوية رضی الله تعالى عنه ففتحها يسيرا وجلاء كثيرا من اهلها وتولى فتح عرقه معاوية بنفسه فی ولاية يزيد
(الكامل لابن الاثير الجزری: جلد، 2 ص، 296 تحت ذكر فتح بلادی ساحل دمشق)
تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طلب کیا جانا 
ملک شام میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا کہ حضرت صدیقِ اکبرؓ 13 ہجری میں انتقال فرما گئے سیدنا فاروقِ اعظمؓ ان کے بعد خلیفہ منتخب ہوئے اس دور میں کثرتِ فتوحات کی بناء پر دینی مسائل کی تعلیم کی ضرورت بڑھ گئی تو اس وقت سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں مکتوب (خط) ارسال کیا کہ:
فلما استخلف عمر كتب يزيد بن ابی سفيان اليه ان اهل الشام كثير وقد احتاجوا الى من يعلمهم القرآن ویفقههم فقال عينونی بثلاثه فخرج معاذ وابو درداء وعباده بن الصامت
ترجمہ: یعنی سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو لکھا کہ ارضِ شام میں کثرت سے اسلام پھیلا ہے اب یہاں ان کو قرآنی تعلیم اور دینی مسائل سمجھانے کی ضرورت درپیش ہے اس مقصد کے لیے کم از کم تین حضرات روانہ فرما کر ہماری اعانت کیجئے، تو حضرت فاروقِ اعظمؓ کی جانب سے اس کام کے لیے تین انصاری صحابہ سیدنا معاذ بن جبلؓ، سیدنا ابودرداءؓ اور سیدنا عبادة بن صامتؓ کو شام بھیجا گیا تھا۔ ان حضرات نے علاقہ شام میں پہنچ کر دینی تعلیمات بڑے احسن طریقہ سے سرانجام دیں اور ملک کے مختلف جوانب و اطراف میں ملی خدمات کا فریضہ ادا کیا اور تعلیم عام کر کے اسلام کے فروغ کا باعث ہوئے۔
یہ تمام پروگرام سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کی نگرانی میں ہوا۔
ایک مراسلہ فاروقیؓ 
سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ جس دور میں شام کے علاقے
میں فتوحات کے سلسلہ میں مقیم تھے اس زمانے میں مرکز اسلام مدینہ طیبہ سے حضرت عمر فاروقؓ کی جانب سے مختلف احکامات اور ہدایات جاری ہوتے تھے، اس ضمن میں صاحب کنز العمال علی متقی الہندی نے ایک فاروقیؓ مکتوب کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمرؓ نے سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو ایک مراسلہ ارسال کیا اور ہدایت فرمائی کہ: 
حسبِ دستور ایک اسلامی لشکر روانہ کیجیئے اور ربیعہ کے قبیلہ سے ایک شخص کو اس کا امیرِ جیش بنا کر اس کو پرچم دیجیئے کیونکہ میں نے ایک بار نبی کریمﷺ سے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جیش شکست نہیں کھائے گا جس کا جھنڈا ربیعہ قبیلہ کے شخص کے ہاتھ میں ہو گا۔
عن خالد بن معدان ان عمر بن الخطاب كتب الى یزيد بن ابی سفیان ان ابعث حيثا و ادفع لواء هم الی رجل من ربيعه فانی سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يهزم جيش لواء هم مع رجل من ربيعة
چنانچہ سیدنا فاروق اعظمؓ کی ہدایات کی روشنی میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے عمل در آمد کیا اور مجاہدانہ کارنامے سرانجام دیئے اور فروغِ اسلام کی خاطر مساعی کیں۔
شرب خمر کا واقعہ 
حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان ملک شام میں اپنی فتوحات کے سلسلہ میں علاقہ دمشق کے والی اور حاکم تھے۔ ان کی امارت کے ایام میں اہلِ شام کے بعض لوگ شراب خوری کے مرتکب ہوئے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کرنے لگے کہ یہ فعل ہمارے لیے حلال ہے، اور قرآن مجید کی آیت:
لَـيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوا ۞ الخ (سورۃ المائدة: آیت 93 پارہ 7)
سے اپنے اس فعل کا غلط جواز پیدا کرنے کے لیے اس میں تاویل کرنے لگے۔ اس صورتِ حال سے سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بذریعہ مکتوب مطلع کیا۔ تو حضرت عمر فاروقؓ نے جواباً حکم نامہ ارسال فرمایا کہ اس سے قبل کہ یہ لوگ کسی فساد کا باعث بنیں انہیں ہماری طرف بھیج دیں۔
چنانچہ جب یہ لوگ سیدنا عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے تو اس مسئلہ کے متعلق آپؓ نے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ طلب فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اے امیرالمؤمنینؓ! ہماری رائے میں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کی غلط تاویل کرتے ہوئے تکذیب کی ہے اور دین میں ایسی چیز کو مشروع قرار دیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں فرمایا۔ 
پس ان کی گردن اڑا دینی چاہیے۔ اس موقعہ پر حضرت علی المرتضیٰؓ بھی موجود تھے مگر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے فرمایا کہ اے سیدنا ابوالحسنؓ! آپؓ کی اس مسئلہ میں کیا رائے ہے؟ تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جواب میں فرمایا کہ: میری رائے یہ ہے کہ انہیں پہلے اس فعل سے رجوع اور توبہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے اگر یہ لوگ اپنے اس فعل سے توبہ کر لیں تو ان کو شراب خوری کی بناء پر اَسی (80) درے لگوائے جائیں اور اگر یہ اپنے مؤقف سے توبہ ہی نہ کریں تو ان کی گردن اڑا دی جائے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کی ہے۔ اور اپنے دین میں انہوں نے ایسی چیز کو مشروع کیا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں فرمایا۔
صفحہ 4 از 6