Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گورنروں کے ساتھ مراسلت، رعایا اور صوبوں کے حالات سے متعلق رپورٹ طلبی

  علی محمد الصلابی

یہ طریقہ خلفائے راشدینؓ کے دور میں معروف رہا۔ سیدنا ابوبکر صدیق اور علی رضی اللہ عنہما کے دور میں اہم ترین طریقہ رہا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 122)

یہ اہم ترین اسلوب تھے جنھیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے گورنروں کی نگرانی اور تعاقب کے لیے اختیار کیا۔ آپ اس بات کے انتہائی حریص تھے کہ گورنر اپنے واجبات کو ادا کریں، کوتاہی کی شکل میں خبر ملنے پر آپ انہیں تادیب فرماتے، اور غلطی ثابت ہونے کی صورت میں سزا دیتے، اس سلسلہ میں گورنر کے ساتھ حسن ظن مانع نہ ہوتا، چنانچہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر شرائط مکمل ہونے پر شراب نوشی کی حد جاری کی، گواہوں کی صداقت اور عدم صداقت پر بحث نہیں کی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 126)

اور کوڑے لگانے کے بعد ان کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 217)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی یہ عادت بنا لی تھی کہ جب کسی مقام پر نیا گورنر مقرر فرماتے تو وہاں کے لوگوں کو خط کے ذریعہ سے گورنر کے سلسلہ میں وصیت و نصیحت فرماتے، جس طرح گورنر کو ان سے متعلق وصیت و نصیحت فرماتے، اسی طرح اکثر مختلف شہروں اور صوبوں میں عوام کے نام خیر خواہانہ خطوط ارسال کرتے رہتے تاکہ گورنروں کو رعایا کے امور چلانے میں مدد ملے۔ اسی ضمن میں حضرت عثمان غنیؓ کا وہ خط ہے جو آپ نے مختلف صوبوں کو ارسال فرمایا تھا، جس میں حضرت عثمان غنیؓ نے تحریر فرمایا:

’’اما بعد! یقیناً میں ہر موسم حج میں گورنروں کا مواخذہ کرتا ہوں، جب سے میں نے زمام حکومت سنبھالا ہے امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اختیار فراہم کیا۔ مجھ سے یا میرے گورنروں سے جو مطالبہ پیش کیا جاتا ہے اس کو پورا کر کے رہتا ہوں۔ رعایا سے قبل میرا اور میرے اہل و عیال کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ کوئی جسے چھپ کر گالی دی گئی ہو یا چھپ کر مارا گیا ہو، جس کو کسی طرح کا دعویٰ اور شکایت ہو وہ موسم حج میں مجھ سے ملے اور اپنا حق وصول کرے خواہ اس کا تعلق میری ذات سے ہو یا میرے گورنروں سے ہو یا صدقہ کر دو، اللہ صدقہ کرنے والوں کو بہترین بدلہ دیتا ہے۔‘‘

جب یہ خط لوگوں کو پڑھ کر سنایا گیا تو سب رو پڑے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کیں۔

( تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 349)